سرائیکی کلچرڈے کی تقریبات شروع، اجلاس میں اہم فیصلے

      سرائیکی کلچرڈے کی تقریبات شروع، اجلاس میں اہم فیصلے

  



ملتان (سٹی رپورٹر)سرائیکی کلچرل ڈے کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، 4 مارچ کو مشاعرہ، 5 مارچ کو موسیقی اور 6 مارچ کو سرائیکی اجرک ریلی گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر ملتان پریس کلب تک جائے گی۔ اس(بقیہ نمبر29صفحہ12پر)

بات کا فیصلہ سرائیکستان صوبہ محاذ کا اجلاس میں کیا گیا،جس کی صدارت چیئرمین خواجہ غلام فرید کوریجہ نے کی۔ شریک چیئرمین ظہور دھریجہ نے سرائیکی اجرک ڈے کے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سرائیکی ثقافت کا دن وسیب میں رہنے والے تمام افراد کے لئے خوشی اور عید کا دن ہے۔ ہم صوبہ محاذ کی طرف سے وسیب میں بسنے والے تمام افراد کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ سرائیکی اجرک ڈے پر صرف سرائیکی جماعتوں کی اجارہ داری نہیں بلکہ ہم تحریک انصاف، ن لیگ، پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی، جمعیت العلمائے اسلام و دیگر تمام جماعتوں کے اکابرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ سرائیکی اجرک ڈے کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ خواجہ غلام فرید کوریجہ، مہر مظہر کات، سید مہدی الحسن شاہ، شریف خان لشاری، سید اختر گیلانی، سید خضر عباس شاہ، ضیغم عباس قریشی، عارف گلشن و دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم وزیراعلیٰ پنجاب پر واضح کرتے ہیں کہ بلوچی کلچرل ڈے کے مقابلے میں سرائیکی اجرک ڈے کو سرکاری سطح پر منایا جائے کہ ٹیکس سرائیکی وسیب کے لوگ دیتے ہیں۔ البتہ بلوچستان میں بلوچی و براہوی کلچرل ڈے سرکاری خرچ پر ہونا چاہئے کہ وہاں کے لوگ صوبہ بلوچستان کو ٹیکس دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بلوچستان حکومت سرکاری خرچ پر بلوچ کلچرل ڈے منائے گی؟ اگر کا جواب نفی میں ہے تو پھر وسیب میں بلوچی کلچرل ڈے قانون و ضابطے کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

تقریبات

مزید : ملتان صفحہ آخر