کوروناوائرس، پنجاب میں 35مشتبہ مریض کلیئر، ڈاکٹر، شہری خوفزدہ

          کوروناوائرس، پنجاب میں 35مشتبہ مریض کلیئر، ڈاکٹر، شہری خوفزدہ

  



ملتان (سپیشل رپورٹر)چین سے پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس کے دو مریضوں کا پاکستان میں تصدیق ہونے کی اطلاع ہے۔ ملک بھر میں شہریوں اور ڈاکٹروں کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔لوگ خوف کے مارے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ٹوٹکے اور احتیاطی تدابیر کے حربے استعمال کرنے لگی ہے۔ذرائع کے مطابق کورونا وائرس سے تاحال دو ہزار سات (بقیہ نمبر35صفحہ12پر)

سو سے زائد افراد اس مرض کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اور تقریبا اسی ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔پاکستان کے شہر کراچی اور اسلام آباد میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی تصدیق اور داخل ہونے کی اطلاع نے شہریوں اور ڈاکٹروں کیلئے خطرے کی گھنٹی تو بجا دی ہے۔مگر تاحال اس سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کیئے گئے۔کورونا وائرس جیسے مہلک مرض کی پاکستان میں موجودگی نے ہر شخص کے دل میں خوف پیدا کر دیا ہے۔اور وہ اپنے اپکو مذکورہ مرض سے بچانے کیلئے نت نئی احتیاطی تدابیر سے اگاہی حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے ملتان کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس سے لڑنے کیلئے ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔جسکو طبی ماہرین خطرے کی علامت سمجھ رہے ہیں۔دو روز قبل بھی نشتر ماڈرن برن یونٹ کو آئی سو لیشن وارڈ کا درجہ دینے کے فیصلے پر ڈاکٹروں کی تنظیمیں بھڑک اٹھیں ہیں۔اور انہوں نے اس عمل کو غلط قرار دیا ہے۔حکومت کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کا کورونا وائرس سے لڑنے کے دعوے تو کیئے جارہے ہیں۔مگر اندر خانہ وہ بھی اس مرض سے ڈرے ہوئے ہیں۔محکمہ صحت نے کرونا وائرس کے 35 مشتبہ مریضوں کو کلیئر قرار دیا ہے.صرف 6 مشتبہ مریض آئسولیشن وارڈز میں داخل ہیں.پنجاب بھر میں کورونا وائرس کا کوئی مریض زیر علاج نہیں ہے.محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں 41 مشتبہ مریض داخل ہوئے۔جن میں سے 35 مریضوں کو کلئیر قرار دیتے ہوئے ڈسچارج کیا جا چکا ہے۔جبکہ 4 مریض پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر اور 2 مریض سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں. مختلف علاقوں سے سامنے آنیولے 6 مشتبہ مریض زیر نگرانی ہیں۔ ابھی تک کسی مریض میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔

خوفزدہ

مزید : ملتان صفحہ آخر