موجودہ پالیسی ریٹ کے ساتھ کاروبار نہیں ہوسکتا،مقررین

  موجودہ پالیسی ریٹ کے ساتھ کاروبار نہیں ہوسکتا،مقررین

  



لاہور(این این آئی)موجودہ پالیسی ریٹ کے ساتھ کاروبار نہیں کیا جا سکتااس لئے حکومت اسے سنگل ڈیجٹ میں لے کر آئے،معیشت کی ترقی کیلئے کسی بھی سیکٹر کو نظر انداز نہ کیا جائے، عالمی مارکیٹوں میں جگہ بنانے کے لئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے حکومت ٹیکسز میں چھوٹ اور مراعات دے، مینو فیکچرننگ کے بغیر گروتھ میں اضافہ ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے سابق صدر پرویز حنیف، موبائل سیکٹر کے سرمایہ کار خوشحال خان، پاکستان کیمیکل ایکسپورٹرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین راؤ خورشید علی خان، آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی اور دیگر نے ”پاکستانی معیشت اور چیلنجز“ کے موضوع پر مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن بد قسمتی سے آج تک ان سے استفادہ نہیں کیا جا سکا،ہمارے ملک میں 35سال کی عمر کے افراد کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے لیکن انہیں کوئی سمت دی جا سکی ہے اور نہ ان کیلئے کوئی پالیسی بن سکی ہے۔ جب عوام کسی نہ کسی طرح قومی دھارے میں شامل ہوں گے اور تمام سیکٹرز آگے بڑھیں گے تو ہماری معیشت پروان چڑھے گی۔ حکومت صرف برآمدات کے بل بوتے پر معیشت کو ترقی نہیں دے سکتی بلکہ اس کیلئے چھوٹی انڈسٹری اور مقامی کاروبار کو بھی تقویت دینا ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرح مقامی سرمایہ کاروں کو بھی عزت و احترام اور مراعات دی جائیں، بیرونی سرمایہ کاروں نے اپنا منافع نکال کر واپس لے جانا ہے جبکہ مقامی سرمایہ کاروں کا منافع اس ملک میں ہی رہنا ہے۔ حکومت پالیسی ریٹ میں فی الفور کمی کرے اور اسے سنگل ڈیجنٹ میں لایا جائے تاکہ مینو فیکچرننگ کے ذریعے گروتھ بڑھے جس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ٹیکس دہندگان کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی پالیسی ترک کی جائے،اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ پالیسیوں کے سو فیصد نتائج حاصل ہو سکیں۔غیر ملکی قرضوں سے نجات کے لئے قومی سطح پر پالیسی بنائی جائے اور اس کیلئے سرکاری اداروں کی اربوں روپے کی بیکار پڑی اراضی کو فروخت کرنے یا لیز پر دینے کی پالیسی لائی جائے۔

مزید : کامرس