ڈوپنگ کیس،سابق قومی ٹینس کھلاڑی ناصر اقبال کی 4سالہ پابندی ختم

ڈوپنگ کیس،سابق قومی ٹینس کھلاڑی ناصر اقبال کی 4سالہ پابندی ختم

  



لاہور (سپورٹس رپورٹر)پاکستان کے سابق انٹرنیشنل وقومی نمبر1 اسکواش کھلاڑی ناصراقبال پر ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی(واڈا) کی جانب سے لگائی جانے والی 4 سال کی پابندی ختم ہوگئی،وہ اب انٹرنیشنل ایونٹس میں ملک کی نمائندگی کرسکیں گے۔واڈا کی جانب سے اسکواش کے سابق عالمی نمبر35ناصراقبال پرعائد کی جانے والی چار سالہ پابندی 29فروری کوختم ہوئی،2016 میں بھارت میں ہونے والے 12ویں ساوٓتھ ایشین گیمزمیں اسکواش کا انفرادی ایونٹ جیت کرگولڈ میڈل حاصل کرنے والے ناصراقبال کا 7 فروری 2016کوڈوپ ٹیسٹ لیا گیا تھا جس میں ممنوعہ ادویات استعمال کرنے کے حوالے سے مثبت نتیجہ آیا تھا، تین روز بعد ’بی‘ سیمپل لینے پربھی نتیجہ مثبت رہا تھا، اس پران سے گولڈ میڈل واپس لے کر ورلڈ اسکواش فیڈریشن اور پروفیشنل اسکواش ایسوسی ایشن نے انٹرنیشنل مقابلوں اورنمائشی میچز میں شرکت پابندی عائدکردی تھی۔پاکستانی فیڈریشن کی کاوشوں کے نتیجے میں ورلڈ فیڈریشن نے ناصر اقبال کی پابندی ایک سال کردی، جس کے بعد انھوں نے دوانٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت بھی کی تاہم واڈا نے ورلڈ اسکواش فیڈریشن کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسپورٹس کی عالمی عدالت سے رابطہ کیا تھا، مذکورہ عدالت نے دلائل کی روشنی میں ناصر اقبال پر 4سالہ پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا، جس کے بعد ناصر اقبال پر اسکواش کے دروازے بند ہوگئے۔پابندی عائد کیے جانے کے بعد ناصراقبال امریکا چلے گئے تھے اور وہاں پرخود کو آئندہ آے والے مقابلوں کے لیے تیارکرتے رہے۔، پابندی 29 فروری 2020 کو ختم ہوگئی، اب وہ انٹرنیشنل اسکواش مقابلوں میں ایک بار پھر ملک کی نمائندگی کرسکیں گے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی