برطانیہ نواز شریف کو واپس بھیجے،حکومت کا خط لکھنے کا فیصلہ،میڈیکل رپورٹس میں جعل سازی نہیں ہوئی:وزیر صحت پنجاب

  برطانیہ نواز شریف کو واپس بھیجے،حکومت کا خط لکھنے کا فیصلہ،میڈیکل رپورٹس ...

  



سیالکوٹ (بیورورپورٹ، آئی این پی)حکومت نے نوازشریف کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لئے پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجی ہیں، حکومت نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھے گی، عوام کا درد رکھنے والے اپوزیشن لیڈر لندن کے بجائے پاکستان آکر عوام کا درد بانٹیں، عوام کا درد رکھنے والے سیرو تفریح کے بجائے عوام میں موجود ہوتے ہیں۔اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کل وزیراعظم عمران خان کا نظریہ جیت گیا،دنیا میں عمران خان کے بیانیے کو پذیرائی مل رہی ہے، افغان امن معاہدہ عمران خان کے موقف کی تائید ہے،افغانستان میں امن و استحکام پورے خطے کے لئے ضروری ہے افغانستان میں امن سے خطے میں امن آئے گا، جنگ کسی مسئلے کاحل نہیں،ڈائیلاگ ہی واحدحل ہے،بھارت میں اقلیتوں کوتحفظ حاصل نہیں،پورے بھارت میں احتجاج جاری ہے، فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عوام کومہنگائی سے نجات دلانے کے لئے پرعزم ہیں، حکومتی اقدامات سے قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے آنی والے دنوں میں روزمرہ اشیاکی قیمتوں میں مزیدکمی ہوگی، عوام کوریلیف دینے کیلئے وزیر اعظم کی کاوشیں رنگ لارہی ہیں،فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مصنوعی بحران پیداکرنے کی کوششوں کوناکام بنائیں گے۔ لندن میں زیر علاج سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی واپسی سے متعلق سوال پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نے کہا کہ نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لئے پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کو سفارشات بھیجی ہیں،فردوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ حکومت نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کے لیے برطانوی حکومت کو خط لکھے گی۔انہوں نے کہا کہ عوام کا درد رکھنے والے اپوزیشن لیڈر لندن کے بجائے پاکستان آکر عوام کا درد بانٹیں، عوام کا درد رکھنے والے سیرو تفریح کے بجائے عوام میں موجود ہوتے ہیں۔۔فردوس عاشق اعوان کا موضع منڈیانوالہ میں سوئی گیس کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ عمران خان پسے ہوئے طبقے کی جنگ لڑتے ہوئے گزشتہ 72 سالوں کا گند صاف کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ سابق حکومت نے 30 ہزار ارب کا قرضہ لیا۔ دو خاندانوں کے گٹھ جوڑ نے مہنگے بین الاقوامی معاہدے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی یتیم جھوٹا اور غلط بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ میاں صاحب کو پاکستان میں علاج کروانا گوارا نہیں، اب وہ تین ماہ سے لندن کے کسی ہسپتال میں بھی داخل نہیں ہوئے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملکی خزانہ لوٹنے والے لندن کی فضاؤں میں عیاشاں کر رہے ہیں۔ شریف خاندان دھوکا دے کر لندن میں بیٹھا ہے۔ میڈیکل کی بنیاد پر ریلیف لینے والوں کی آج تک سرجری نہیں ہوئی۔معاون خصوصی نے کہا کہ چند سیاسی یتیم یہاں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ عوام تحریک انصاف سے مایوس ہو چکے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس میں کوئی جعل سازی نہیں کی گئی، وہ اْن رپورٹس پر آج بھی قائم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عدالت نے سابق وزیراعظم کو باہر جانے کی مشروط اجازت دی، مگر وہ اس پر پورے نہیں اترے، علاج سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔تفصیل کے مطابق لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے حوالے سے ساری رپورٹس میں نے خود دیکھی تھیں۔ ان کو باہر بھیجنے کی تائید ایک شرط پر کی تھی کہ وہ اپنی تمام رپورٹس ریگولر تصدیق کیلئے ہمیں بھیجیں گے۔یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کی واپسی کا وقت ا? پہنچا، ڈی پورٹ کرانے کے لیے برطانیہ کو خط لکھیں گے یاسمین راشد نے کہا کہ نواز شریف 16 ہفتے سے کسی ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے، اس کا مطلب ہے کہ یہاں پر ہونے والا علاج ٹھیک تھا، جس کا اثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی رپورٹس میں ڈاکٹر عدنان بھی آن بورڈ تھے۔پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات پر بات کرتے انہوں نے کہا کہ اس کو روکنے کی کوششں بہت اچھی رہی ہیں۔ اس وقت 57 ممالک میں کرونا وائرس ہے تاہم پاکستان میں صورتحال بہت بہتر ہے۔انہوں نے بتایا کہ کرونا ایک وائرل انفیکشن ہے جو پھیپھڑوں پر اثر کرتا ہے۔ سارے ہسپتالوں کے اندر خاص وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے شہریوں کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ حکومت روزانہ کی بنیاد پر اس سے متعلق میٹنگز کا انعقاد کر رہی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق بیماری کا شکار مریضوں کو ماسک پہننا چاہیے۔

یاسمین راشد

مزید : صفحہ اول