کرونا وائرس،سندھ میں سکول،چمن بارڈر بھی بند،ایئر پورٹس پر سکینر نصب،ایرانی رکن پارلیمنٹ جاں بحق ، 5کی حالت نازک

  کرونا وائرس،سندھ میں سکول،چمن بارڈر بھی بند،ایئر پورٹس پر سکینر ...

  



اسلام آباد، لاہور، کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کرونا وائرس کو پاکستان میں پھیلنے سے روکنے کیلئے 7مارچ تک چمن بارڈربھی بند کردیا گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ تفتان بارڈر آٹھویں روز بھی بند ہے جبکہ ایران سے آئے مزید 510 زائرین پاکستان ہاؤس منتقل کئے گئے ہیں جہاں اب کل زائرین کی تعداد800ہوگئی ہے جنہیں خیمے، کمبل، ماسک سمیت دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ زائرین کی سکریننگ کا عمل بھی جاری ہے۔افغانستان سے کرونا وائرس پاکستان منتقلی کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے چمن باڈر کوایک ہفتے کے لیے مکمل طور بند کیا گیا ہے۔ اس دوران ہر قسم کی آمد ورفت اورتجارتی سرگرمیاں بھی معطل رہیں گی اور عوام کو اس عرصے کے دوران سرحد کی طرف نہ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔پاک افغان بارڈر کی مکمل بندش کے حوالے سے وزارت داخلہ کا حکم نامہ ایف سی کو موصول ہو گیا ہے۔ پاک افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں کرونا وائرس سے شہریوں کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال پاراچنار میں آئسولیشن وارڈز قائم کردیے گئے ہیں۔علاوہ ازیں کرونا وائرس سے بچا کیلئے لاہور سمیت 4ائیر پورٹس پر جدید خود کار تھر مل سکینر نصب کردئیے گئے ہیں اور اب بیرون ملک سے آنیوالے مسافروں کی جدید تھرمل سکینر سے جانچ ہو گی، جدید تھر مل خود کار طریقے سے بخار اور فلو کو چیک کرتاہے۔ایوی ایشن کے مطابق جدید سکینر 100فیصد درستگی کیساتھ مشتبہ مریضوں کو جانچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جبکہ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے مربوط اور موثر اقدامات کو یقینی بنایا ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ جدید سکینرز کی مدد سے کرونا وائرس کی روک تھام کا عمل مزید موثر اور مربوط ہو گیا ہے۔وزارت صحت،صوبائی حکومتیں اور تمام متعلقہ ادارے کروانا وائرس سے نمٹنے کیلئے ہائی الرٹ پر ہیں۔ تمام ہوائی اور زمینی راستوں پر انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن کی ہدایات پر عمل کیا جا رہاہے۔ادھر کرونا وائرس کے خدشات کے باعث سندھ بھر کے تمام سکولز 13 مارچ تک بند کردئیے گئے ہیں اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

سکول بند

تہران،بیجنگ(این این آئی)ایران میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے ایک رکن پارلیمنٹ محمد علی رمضانی چند روز تک زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرونا کا شکار ہونے والے پانچ دوسرے ارکان پارلیمنٹ اور نائب صدر کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ ایرانی ایکپیڈنسی کونسل کے رکن محمد میر محمدی اس وقت کوما میں ہیں۔ایکسپیڈینسی اتھارٹی کے ایک رکن فرید الدین حداد عادل جو کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے برادر نسبتی ہیں کے کرونا کا شکار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ایران کے سابق وزیر انصاف مصطفی بورمحمدی بھی کرونا کی لپیٹ میں ہیں۔ بور محمدی پر سنہ 1988ء کو انقلاب مخالف قیدیوں کو اجتماعی طورپر موت کے گھاٹ اتارنے میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔ایران میں کرونا کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے بارے میں سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی فرق بیان کیا جا رہا ہے۔ قم شہر کی ایک میڈیکل یونیورسٹی کے سیکرٹری علی ابرازہ نے بتایا کہ کامکار، فرقانی، امام الرضا اور علی بن ابی طالب ہسپتالوں میں کرونا کے 652 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب چین میں کرونا وائرس کے باعث مزید 35افراد ہلاک اور573نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی ہلاکتیں 2870اور متاثرہ افراد کی تعداد79ہزار 824ہوگئی جن میں سے 7ہزار 365افراد کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔اتوار کو چین کے صحت حکام نے کہا ہے کہ چین کی سرزمین پر ہفتہ کو کرونا وائرس کے 573نئے مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں۔ قومی صحت کمیشن نے بتایا کہ ہلاکتوں میں سے 34صوبہ ہوبے اور ایک ہینان میں ہوئی۔ ہفتہ کے ہی روز 2ہزار623افرادکو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ہفتہ کے آخر تک چین کی سرزمین پرمصدقہ مریضوں کی تعداد79ہزار 824تک پہنچ گئی ہے۔ جن میں سے 35ہزار 329افراد کا تاحال علاج کیا جارہاہے جبکہ کل 41ہزار625 افراد کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کیا جا چکا ہے۔ہفتہ کے آخر تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ میں 2ہلاکتوں سمیت 95مصدقہ کیس، مکا خصوصی انتظامی علاقہ میں 10مصدقہ کیس جبکہ تائیوان میں ایک ہلاکت سمیت 39مصدقہ کیس سامنے آئے ہیں۔ ہانگ کانگ میں 33مریضوں، مکا میں 8اور تائیوان میں 9مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیاہے۔

کرونا وائرس

مزید : صفحہ اول