تھانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیز کی طرز پر ترتیب دے رہے ہیں:آئی جی پنجاب

تھانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیز کی طرز پر ترتیب دے رہے ہیں:آئی جی پنجاب

  



لاہور (انٹرویو، یو نس باٹھ) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے کہا ہے کہ ہم نے جرائم کی شرح کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ جو بھی شخص جرم کرے گا اسے کئے کی سزا بھی ملے گی۔ آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ملزم کو فوری ٹریس کر کے گرفتار کیا جاتا ہے۔ پنجاب پولیس روایتی طریقہ تفتیش کی بجائے سائنٹیفک بنیادوں پر تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے لیکن عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینے کیلئے اوپن ڈور پالیسی سمیت ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن کی بدولت پرامن معاشرے کی تشکیل میں پولیس کے ساتھ ساتھ شہری بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تھانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیز کی طرز پر ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کیمروں سے تھانوں کی مانیٹرنگ، ایک درجن سے زائد پولیس سروسز کو تھانوں کی بجائے خدمت سینٹرز میں منتقل کیا گیا ہے جس سے جہاں تھانے کے عملہ پر اضافی کام کا دباؤ کم ہوا ہے۔ عوام کا اعتماد جیتتے ہوئے سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائیوں میں عوام کی معاونت کو یقینی بنانا میری ترجیحات میں شامل ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بہترین کارکردگی کے ذریعے ہی پولیس بارے عوامی تاثر کو بدل کر پنجاب پولیس کو بطور ادارہ مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنے دفتر میں روز روز نامہ پاکستان کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویوکے دوران کیا۔ اس موقع پر روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈ یٹر مجیب الر حمن شامی اور ایڈ یٹر عمر مجیب شامی بھی موجود تھے۔ پنجاب پولیس کے سر براہ نے بتایا کہ پنجاب پولیس کی سربراہی اقتدار نہیں ہے بلکہ صوبے کے عوام کی خدمت اورحفاظت کی ذمہ داری کا نام ہے۔ ہم نے شہریوں کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ کو ہر صورت یقینی بنا نا ہے اور اس عمل میں مجھ سمیت کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ میں خود بھی بطور آئی جی قانون سے بالاتر نہیں،میری فورس کے ہر افسر و ملازم پر یہی بات لاگو ہوتی ہے میں نے پہلے ہی دن واضح کر دیا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ یونیفارم کے زور پر کسی کے ساتھ زور زبردستی کرلے گا تو اب ایسا کسی صورت نہیں ہوگا۔ پنجاب پولیس میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور 8787آئی جی پی شکایا ت سنٹر شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جس کی کارکردگی کو میں خود بھی مانیٹر کر رہا ہوں۔ شہری پولیس سے متعلق شکایات اس کمپلین سنٹر پر درج کروا سکتے ہیں،عوام کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آئی جی پولیس نے بتایا کہ پنجاب پولیس کی لگ بھگ دو لاکھ کے قریب فورس ہے ہر شخص کوانفرادی سطح پر سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی،پر امن ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا پولیس کا احتساب کرتے وقت دستیاب وسائل، مسائل اور کارکردگی کو مد نظر رکھے تاکہ مثبت تنقید ی رحجانات کے باعث پولیس معاشرے میں بہتری کیلئے اپنا کردار مزید موثر طور پر ادا کرسکے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پنجاب پولیس اس وقت بھی اپنے وسائل سے بڑھ کر کام کر رہی ہے، زیادہ تر جرائم پیشہ افراد کو کسی نہ کسی بڑے مجرم کی سرپرستی یا آشیر باد حاصل ہوتی ہے، ہم نے اس سوچ کو ختم کیا ہے۔ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کیلئے صوبہ بھر میں اشتہاری ملزمان، عدالتی مفروروں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید تیزی لائی گئی ہے اور بڑے بدمعاشوں اور منشیات فروشوں کی گرفتاری کیلئے ڈی پی اوز کریک ڈاؤن کی خود نگرانی کر رہے ہیں جس کی رپورٹس باقاعدگی سے سنٹرل پولیس آفس بھجوائی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھاتی وکیمیکل ڈور، پتنگوں کی تیاری، خریدو فروخت اور استعمال میں ملوث قانون شکنوں کی گرفتاری کیلئے پولیس کی سپیشل ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ قتل اورزیادتی سمیت دیگر سنگین جرائم کی تفتیش کیلئے جیو فینسنگ، فارنزک سائنس اور جدید انویسٹی گیشن ٹولز سے بطور خاص استفادہ کر نے کی ہدایت دی گئی ہے۔ٹریفک مسائل کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب شعیب دستگیر نے بتایا کہ پنجاب بھر میں ٹریفک کی روانی کے لیے موثر اقدامات کیے جارہے ہیں۔ ای پیمنٹ ایپ کے ذریعے شہری چالان کی رقم آن لائن جمع کروا کر فوری اپنے کاغذات موقع پر ہی ٹریفک پولیس اہلکاروں سے واپس لے سکیں گے جس سے انکے قیمتی وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہوسکے گی۔

آئی جی پنجاب،انٹرویو

مزید : صفحہ آخر