کراچی کے عوام اور کشمیریوں کے جذبات ایک جیسے ہیں:سردار مسعود خان

  کراچی کے عوام اور کشمیریوں کے جذبات ایک جیسے ہیں:سردار مسعود خان

  



کراچی(آن لائن)آزاد جموں و کشمیر کے صدرسردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرتا رہا ہے کہ کراچی، کوئٹہ اور جنوبی پاکستان کے عوام کشمیر سے لا تعلق ہیں لیکن اہل کراچی نے 5 اگست کے بعد اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اُن کے بھی وہی جذبات ہیں جو سرینگر اور مظفرآباد کے عوام کے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آگ کے جن شعلوں کو گزشتہ72 سال سے ہوا دے رہا تھا، اُن شعلوں نے آج پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور جو نعرے کشمیر میں بلند ہوتے تھے، اُن کی باز گشت ہندوستان کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے کراچی آرٹس کونسل میں کشمیر کے حوالے سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔سیمینار کا اہتمام ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے کیا تھا۔ سیمینار سے ہیومن رائٹس کونسل کے چیئرمین جمشید حسین، وائس ایڈمرل (ر) عارف اللہ حسینی، بحریہ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر شاہ سہیل مسعود، ڈاکٹر خالدہ، بشیر سدوزئی، سردار نزاکت اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر سردارمسعود خان نے کہا کہ بھارت کا یہ دعویٰ کہ وہ بڑا ملک ہے اور معاشی لحاظ سے بہت مستحکم ہے اگر بھارت کا یہ دعویٰ درست ہے تو پھر وہ پاکستان جیسے چھوٹے ملک سے خائف کیو ں ہے۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ تعداد اور ملکوں کا حجم نہیں بلکہ استعداد کی اصل اہمیت ہے اور ہمارے پاس بھارت کے مقابلے کے لیے استعداد بھی ہے اور ہمت و حوصلہ بھی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے تہذیبوں کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ بھار تی تہذیب کی بنیاد، وحشت، بربریت اور انسانی خون پر رکھی گئی جبکہ ہماری تہذیب کی بنیاد سنت رسول پر جس میں تمام انسانوں کا احترام اور انسانی جان کو مقدس سمجھا جاتا ہے لہٰذا تہذیبوں کی اس جنگ میں کامیابی ہمارا مقدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ساری دنیامظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کا میڈیا خواہ اس کا تعلق امریکہ، کینیڈا، یورپ، مشرق وسطیٰ یا ایشیاء پیسیفک سے ہے وہ کشمیریوں کی حقیقی کہانی بیان کر رہا ہے جبکہ دنیا کی پارلیمانز کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز بلند کر رہی ہے، تھینک ٹینک مصنفین اور مفکرین کشمیر میں ہونے والے مظالم کو موضوع بنا کر کتابیں لکھ رہے ہیں اور یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کرنے کی پاداش میں بھارت کا محاسبہ کیا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام ہمارے جسم و جان کا حصہ ہیں اور کشمیر کا علاقہ پاکستان کا جزو ہے۔ اس لیے جموں و کشمیر کی تحریک آزادی سے غفلت،قومی غفلت تصور ہو گی۔ اُنہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے اپنی حالیہ ملاقات کر حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر دو ٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ وہ کشمیر کے حوالے سے مبہم اور محتاط بیانات دینے کے بجائے کشمیریوں کی حمایت کریں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی نسل کشی کو روکنا اقوام متحدہ اور سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری ہے۔

سردار مسعود خان

مزید : صفحہ آخر