دوحہ امن معاہدہ نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے

دوحہ امن معاہدہ نئی تاریخ رقم کر سکتا ہے

  



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ معاہدے کو افغانستان میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ہم امریکہ کی طویل ترین جنگ ختم کرنے کے قریب ہیں ہم امریکی فوجیوں کو گھر واپس لا رہے ہیں۔ افغانستان میں تشدد میں کمی وقت کی ضرورت ہے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ اب افغان دھڑوں میں مذاکرات بھی کامیاب ہوں گے کیونکہ ہر کوئی جنگ سے تنگ ہے انہوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ نئے مستقبل کے موقعہ سے فائدہ اٹھائیں تمام افغان قوتوں کو اس موقعہ کو غنیمت سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے افغانستان کے ہمسایہ ملکوں پر زور دیا کہ وہ جنگ زدہ ملک میں استحکام لانے کے لئے مدد کریں، امریکی وزیر دفاع اور پینٹا گون چیف مارک ایسپر نے کہا ہے کہ اگر طالبان، افغان حکومت سے مذاکرات اور سیکیورٹی گارنٹی کی پابندی نہیں کریں گے تو امریکہ اس تاریخی معاہدے کو منسوخ کرنے میں دریغ نہیں کرے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ طالبان معاہدے کو افغانستان میں امن کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغان امن معاہدے کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے فریقین کو چوکنا رہنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات چاہے جتنے بھی پیچیدہ ہوں یہی امن کا راستہ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے روابط بڑھیں گے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین سینٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ امریکہ نے پچاس سال میں زمینی جنگ میں تیسری بار شکست کھائی ہے۔ افغانستان میں طاقت کا جو توازن پاکستان کے حق میں نہیں تھا وہ تبدیل ہو جائے گا۔ موجودہ ڈیل کا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو جاتا ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کو نہیں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ وہ بہت مثبت ہیں اور معاہدے کی پاسداری کریں گے۔

دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا معاہدہ تاریخی ہے اور یہ تاریخ ساز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ اس پر خوش ہیں اور امریکی قوم کو خوشخبری سنا رہے ہیں کہ ہم اپنے فوجیوں کو گھر واپس لا رہے ہیں ان فوجیوں کو گھر واپس لے جانے کی خواہش تو صدر اوباما نے بھی کی تھی اور وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد فوراً ہی افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے منصوبے بنانے لگے تھے لیکن ان کے فوجی کمانڈروں نے انہیں ڈرایا کہ اس طرح اگر فوجیوں کو ”گھر بلایا“ تو افغانستان میں وہ قوتیں مضبوط ہو جائیں گی جو امریکہ پر دوبارہ تباہ کُن حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں اس موضوع پر صدر اوباما نے اپنے سینئر فوجی کمانڈروں سے طویل مذاکرات کئے جن کا کہنا یہ تھا کہ امریکہ کو افغانستان سے فوج واپس بلانے کی بجائے اس میں اضافہ کرنا چاہئے۔ اس طرح امریکہ افغانستان میں فتح یاب ہو جائے گا اور پھر ایک فاتح کی حیثیت سے وہاں سے واپس ہوگا، افغانستان میں فاتحین کی تو چنداں گنجائش نہیں تھی لیکن امریکی صدر کو بہر حال اپنے کمانڈروں کی بات مان کر ان کے منصوبے پر عمل کرنا پڑا اور ان کے عہد میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب امریکی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار تک پہنچ چکی تھی لیکن اس کے باوجود فتح امریکہ کے مقدر میں نہیں لکھی گئی تھی۔ اوباما اپنا آٹھ سالہ دور ختم کر کے رخصت ہو گئے اور اب جبکہ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم شروع کرنے والے ہیں امریکہ طالبان مذاکرات کے نتیجے میں جو معاہدہ ہوا ہے اس کے تحت امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیں 14 ماہ میں افغانستان سے نکل جائیں گی، افغان باقی، کہسار باقی، الحکم للہ، الملک للہ، جنگ افغانستان کے آغاز میں شاعرِ مشرق کا یہ فرمودہ ایک اخبار کی ان خبروں کا مستقل عنوان تھا جس کے تحت افغانستان سے متعلق خبریں شائع کی جاتی تھیں، افغان باقی اور کہسار باقی، پر امریکی سفارت کاروں کو اعتراض تھا اخبار کے ایڈیٹر سے دوران ملاقات ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہم نے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے اور چوہے بلوں میں گھس رہے ہیں جہاں تک افغان کہساروں کا تعلق ہے ہم نے انہیں بمباری کر کے ریزہ ریزہ کر دیا ہے اس لئے یہ ”سلوگن“ اب غیر متعلق ہو گیا ہے لیکن اب پتہ چلا ہے کہ یہ اب بھی غیر متعلق نہیں ہوا۔

دوحہ کے طالبان وفد میں ایسے رہنماؤں کو بھی دیکھا گیا جو امریکی قید میں رہ چکے ہیں۔ ان میں ملا عبدالسلام ضعیف بھی تھے جنہیں ہر قسم کے سفارتی تحفظات و تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر اسلام آباد سے اٹھا کر گوانتا ناموبے پہنچا دیا گیا جہاں وہ اذیت ناک زندگی گزارتے رہے۔ ملا ضعیف نے اپنی اس قید کی کہانی بڑے دل گداز انداز میں رقم کی ہے اور سچی بات ہے ”کہیں کہیں سے یہ قصہ پڑھا نہیں جاتا“ ملا ضعیف اور ان کے قیدی ساتھیوں کو دوحہ میں دیکھ کر امریکیوں کے دلوں پر کیا گزری ہو گی یہ وہی جانتے ہوں گے لیکن طالبان اس سرزمین پر اترا کر نہیں چل رہے تھے جو فتح کے ہنگام اللہ کے خاص بندوں کی نشانی ہوتی ہے۔ طالبان کی جگہ امریکہ ”فاتح“ ہوتا تو اس کی نخوت و غرور کی شان دیکھنے والی ہوتی اب بھی امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر طالبان نے معاہدے کی پابندی نہ کی تو ہم معاہدہ منسوخ کر دیں گے حالانکہ ابھی سے معاہدے کی منسوخی کی بات کا یہ کوئی موقعہ نہیں تھا، لیکن شاید سپر طاقت کی انا اس کی متقاضی تھی جو پچاس برس میں تیسری بار زمینی جنگ میں شکست کھا گیا لیکن طاقت کا نشہ اب بھی باقی ہے۔

صدر ٹرمپ نے افغانستان کے تمام فریقوں سے کہا ہے کہ امن کے اس موقعہ کو ضائع نہ کریں یہی مثبت رویہ ہے اور اگر انٹر افغان ڈائیلاگ میں تمام فریقوں نے اسی طرح کے مثبت رویئے کا مظاہرہ کیا جس طرح کا رویہ دوحہ مذاکرات میں طالبان اور امریکہ نے اپنایا ہے تو افغانستان کے اندر امن و استحکام کا نیا دور شروع ہوگا، طالبان کا تو ظہور ہی افغان گروپوں کی باہمی لڑائیوں اور خانہ جنگی کے نتیجے میں ہوا تھا، اگر مسلح افغان گروپ اپنے ہی ملک کے گلی کوچوں کو افغانوں کے خون سے رنگین نہ کر رہے ہوتے تو طالبان کا اس منظر میں داخلہ ممکن نہ ہوتا انہوں نے نہ صرف خانہ جنگی کا خاتمہ کیا بلکہ جب اپنے اقتدار کو مستحکم کیا تو ایسا امن قائم ہوا جس کی مثال ملنا مشکل ہے یہاں تک کہ پورے افغانستان میں پوپی کی کاشت ختم کرا دی جو کوئی حکومت نہیں کر سکی تھی طالبان کے متاثر کن اخلاق کی ایک کہانی برطانیہ کی صحافی خاتون ریڈلی نے بھی لکھی ہے جو برقع پہن کر افغانستان سے فرار ہو رہی تھی کہ گرفتار ہو گئی سرحد کے قریب سے گرفتار کر کے اسے جب کابل لے جایا گیا تو اس کا ذہن وسوسوں کی آماجگاہ تھا لیکن دورانِ قید طالبان کے حسنِ سلوک نے اس کے دل و دماغ کی دنیا ہی بدل دی طالبان کے ترجمان کہتے ہیں کہ ہم معاہدے کی پابندی کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع کو فی الحال اتنی ہی یقین دہانی کرائی جا سکتی ہے آنے والے وقت میں افغانستان کے نصیب میں کیا لکھا ہے اس کا انحصار صرف طالبان پر نہیں افغان حکومت سمیت ان درجنوں مسلح گروپوں کے طرزِ عمل پر بھی ہے جو باہمی جنگ و جدل کی تاریخ رکھتے ہیں توقع ہے اب کی بار یہ تاریخ دہرائی نہیں جائے گی۔

مزید : رائے /اداریہ