پولیو کے قطرے اور اسلام

پولیو کے قطرے اور اسلام
پولیو کے قطرے اور اسلام

  



بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو کا وائرس ابھی بھی پایا جاتا ہے اور پاکستان کے ساتھ یہ مرض افغانستان، نائیجریا میں تاحال موجود ہے،باقی دُنیا سے تقریباً اس کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ یہ تینوں مسلم ممالک ہیں اور جن ممالک پر ہمارے بعض ناعاقبت اندیش علما اس کے قطروں میں ملاوٹ کا الزام دھرتے ہیں ان کافر ممالک میں تو اس مرض کا نام و نشان نہیں اُلٹا ہمارے ہاں اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر کے غلط فتوے جاری کر کے بچوں کی زندگیوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے کی تاریخ کا ہم جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ 1988ء میں پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس وقت سے اب تک، بڑی سطح پر حفاظتی قطروں کی مہم کے طفیل دنیا بھر میں پولیو کے کیسز 99 فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔ پولیو کی تاریخ دیکھیں تو تقریباً 20 برس قبل صرف ایک دن میں 1000 بچے پولیو کی وجہ سے مفلوج ہوجاتے تھے۔ 2012ء میں پولیو کے عالمی سطح پر خاتمے کے پروگرام کی وجہ سے یہ کیسز کم ہو کر پورے سال میں صرف 223 بچوں تک محدود رہ گئے تھے۔ یہ وہ موقع تھا جب دُنیا پولیو کے مکمل خاتمے کے انتہائی قریب پہنچ چکی تھی۔اب اگر ہم اپنے وطن عزیز کی بات کریں توپاکستان کبھی بھی پولیو سے پاک نہیں رہا، تاہم 2005ء میں کیسز کی تعداد بہت ہی کم صر ف28 تھی اور اس وقت سے اب تک یہ تعداد ہر سال بڑھتی رہی ہے اور 2014ء میں زیادہ سے زیادہ 306 تک پہنچ گئی۔ 2015ء میں پاکستان بھر میں 54 پولیو کے کیس درج ہوئے۔ اسی طرح 2016ء میں یہ تعداد کم ہو کر بیس پر آ گئی۔ 2017ء میں پاکستان کی تاریخ کے کم ترین کیسز 8 اور 2018ء میں 12کیس رپورٹ ہوئے۔ان دو سالوں میں امید ہو چلی تھی کہ یہ مرض پاکستان سے ختم ہو جائے گا اور پاکستان بھی دنیا میں پولیو سے پاک ملک کہلائے گا، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ 2019ء میں اس وائرس نے پھر سر اُٹھایااور پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد 146 تک پہنچ گئی۔

رواں سال بھی اب تک ملک بھر میں دو ماہ کے عرصے میں 17 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ پولیو سے متاثرہ علاقوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہیں،جبکہ سندھ اور پنجاب میں ان کی تعداد بتدریج کم ہوئی ہے۔ کے پی کے اور بلوچستان میں اس وائرس کے بڑھنے کی وجہ بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلانا اور پولیو ورکرز پر حملے اور ان قطروں کو کچھ نام نہاد دینی علما کی جانب سے حرام قرار دینا بھی اس کے اضافے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سالانہ اربوں کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود بھی پاکستان میں 50 فیصد بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہتے ہیں۔ بدقسمی سے پاکستان میں بہت سے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ پولیو قطرے ان کے بچے کی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ایسے والدین پولیو کے شکار بچے کے علاج کے لئے تکلیف برداشت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر حکومت انہیں پولیو سے بچاؤکی آگاہی دیتی ہے تو یہ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔اپنے بچوں کو عمربھر کی معذوری سے بچانے کے لئے پولیو کے قطرے پلانا والدین کا شرعی، قانونی اور اخلاقی فرض ہے۔پولیو مہم میں رکاوٹ پیدا کرنا بدترین گناہ، سنگین جرم اور انسانیت دشمن عمل ہے، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اس حوالے سے مختلف مسالک کے علما اپنا فتوی بھی جاری کر چکے ہیں،تمام مسالک کا اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ یہ قطرے پلانا عین شرعی اور اس میں کوئی حرج نہیں،بلکہ یہ بچوں کو مستقل معذوری سے بچاتے ہیں۔ دوا لینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات واضح ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اپنی اولادکو اپنے ہاتھوں سے ہلاک نہ کرو۔ اس آیت کی روشنی میں بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے نہ پلانا قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔

اسلام کا نام استعمال کر کے بعض عناصر اپنے مخصوص مقاصد کے لئے پولیو ویکسین کے بارے میں گمراہ کن، بے بنیاد اور غلط پراپیگنڈہ کر کے شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسا کرنا گناہ ہے، کیونکہ کسی چیز کے بارے میں مثبت یا منفی رائے پوری تحقیق کے بعد قائم کرنی چاہیے اور ہمارا دین بھی ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی پوری تحقیق کر لو تا کہ کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔وہ جو اس کو حرام قرار دیتے ہیں پھر اس کا متبادل اب تک پیش کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو سکے، جس کو استعمال کر کے ہم اپنے بچوں کو اس موذی مرض سے نجات دلا سکیں۔پاکستانی اداروں اور دُنیا بھر کے مسلم ممالک کا اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پولیو ویکسین مکمل طور پر محفوظ ہے اور یہاں تک کہ اگر یہ بار بار مختصر وقفوں کے ساتھ لی جائے تب بھی اس کے کوئی خطرناک یا مضر اثرات نہیں ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی جیسے تمام مسلمان ممالک پولیو کا صفایا کرنے کے لئے اس ویکسین کو استعمال کرتے ہیں۔ سعودی عرب، حج اورعمرے کی ادائیگی کے لئے سفر کرنے والے تمام مسلمانوں سے اب پولیو ویکسی نیشن کے سرٹیفکیٹ یا تصدیقی دستاویزات کا مطالبہ کرتا ہے۔اگر پولیو کے قطرے حرام ہوتے یا ان میں کوئی ایسے اجزا شامل ہوتے جو بچوں کی صحت کے لئے نقصان دہ ہوتے تو پھر مسلم دُنیا کا امام سمجھا جانے والا ملک سعودی عرب اسے ہر حاجی اور عمرہ کے لئے آنے والوں کے لئے پینا لازمی کیوں قرار دیتا۔ حرام ہونے کے فتوے صادر کرنا نہ صرف اپنے بچوں کے ساتھ دشمنی ہے، بلکہ یہ ملک کے ساتھ بھی غداری کے مترادف ہے، کیونکہ اس سے ایک تو آپ بچوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہے ہیں دوسرا ملک کا تشخص پولیو کی وجہ سے بین الاقوامی برادری میں بھی خراب کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت کو بھی سخت ایکشن لینا چاہئے اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے،جو پولیو کے قطروں کیخلاف فتوے جاری کرتے ہیں،جس طرح سے یہ مرض ایک بار پھر جڑ پکڑ رہا ہے ایسے میں اس کے خاتمے کے لئے پولیو زدہ سوچ کا قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم دنیا میں بطور صحت مند قوم اپنا تشخص اُجاگر کر سکیں۔

مزید : رائے /کالم