انڈین ائر فورس: کھسیانی بلی کھمبا نوچے (1)

انڈین ائر فورس: کھسیانی بلی کھمبا نوچے (1)
انڈین ائر فورس: کھسیانی بلی کھمبا نوچے (1)

  



پاکستانی میڈیا کافی دنوں سے بتا رہا تھا کہ پاک فضائیہ 26اور 27فروری کو ایک طرح کا ایک اور یومِ فضائیہ منائے گی۔ ایک یومِ فضائیہ تو ہم 7ستمبر 1965ء کو مناتے ہیں جب ہماری ائر فورس نے اپنے سے کہیں بڑی اور کثیر انڈین ائر فورس کے چھکے چھڑا دیئے تھے۔ ان پاک بھارت فضائی لڑائیوں کی دلآویز اور لہو گرمانے والی داستانیں تو ہم گزشتہ 54، 55برس سے سن رہے ہیں۔ اس دوران ہماری دو نسلیں جوان ہو چکیں۔ امید ہے یہ داستانیں آنے والی نسلوں کو بھی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں گی اور مرورِ ایام ان میں اضافہ کرتی رہے گی۔ 1971ء کی جنگ میں اگرچہ پاکستان کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی اور ملک دونیم ہو گیا تھا لیکن ملکوں کی تاریخ میں یہ شکست کوئی واحد، انوکھی اور انہونی کہانی نہیں تھی۔ یہ کہانیاں بطنِ گیتی سے جنم لیتی رہتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کسی قوم کی تاریخِ جنگ و جدال میں شکستوں کا سکیل زیادہ تھا یا فتوحات کی تعداد زیادہ تھی۔ برسبیلِ تذکرہ اس 1971ء کی ہماری ہاری ہوئی جنگ میں بھی پاک فضائیہ کا وہ کارنامہ ہمارے اوراقِ تاریخ میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا جس کا ہیرو راشد منہاس شہید، نشانِ حیدر تھا۔ ان کی داستانِ جرات و شہامت اس داغِ شکست کے بعد کے ایام میں بھی نوید دے رہی تھی کہ:

بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں

1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد 1999ء کی کارگل لڑائی میں جہاں انڈیا کو اپنے ”آپریشن سفید ساگر“ میں اپنی ائر فورس کو استعمال کرکے اسی تنازعے کو اپنے حق میں اختتام پذیر ہونے کا موقع ملا، وہاں پاک فضائیہ کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ اس محدود لڑائی کو اوورآل جنگ میں تبدیل کر سکتی۔ یہ پاک فضائیہ کی بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں پہلی ”تابِ ضبط“ (Restraint) تھی۔ اور دوسرے اسی طرح کے ”ضبطِ عمل“ کا مظاہرہ دکھانے کا موقع اسے دو عشروں کے بعد فروری 2019ء کو ملا…… اور یہ ”تابِ ضبط“ بے مثال تھی!……

ہم جانتے ہیں کہ 26فروری 2019ء کو انڈین ائر فورس نے ایل او سی کراس کرنے کے بعد بالاکوٹ پر جو حملہ کیا وہ کس سپرپاور کی شہ پر کیا تھا۔ اس سپرپاور کو جب معلوم ہوا تھا کہ وہ افغانستان کی جنگ ہار چکی ہے اور اس کی ہار میں پاکستان کا بھی ایک رول ہے تو اس نے بالاکوٹ کی اجازت دی تھی اور سوچا تھا کہ اگر پاکستان نے انڈیا کی اس جارحیت کا جواب دیا تو چوتھی انڈوپاک وار نوشتہ ء دیوار ہو گی اور اس طرح ہمارے ہاتھ گزشتہ 20برسوں میں جو کچھ نہیں آیا تھا وہ اس جنگ کے بعد ضرور آ جائے گا اور ہمارا وہ دیرینہ خواب کہ دنیا کی واحد مسلم نیو کلیئر پاور کو بے دست و پا کرنا ہے، پورا ہو جائے گا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بالاکوٹ سے اگلے روز 27فروری 2019ء کو دن دیہاڑے وہ واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف انڈیا اور اس کے مربی بلکہ ساری دنیا کو حیران کر دیا۔ انڈین ائر فورس اپنے دو طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھی اور ان میں سے ایک کا پائلٹ پاکستانی قید میں آ گیا۔

پاکستان نے 26فروری 2020ء کو جب ایک دستاویزی فلم میں یہ ”دوسرا یومِ فضائیہ“ دکھایا تو اس کے ایک شاٹ میں ابھی نندن نے صاف صاف اردو زبان میں (جسے ہندو ہندی کا نام دیتے ہیں) اعتراف کیا کہ اگر پاک فوج پیچ میں نہ پڑتی تو پاکستان کی بپھری ہوئی پبلک اس کی بوٹیاں نوچ لیتی!…… اس کے ساتھ ہی اس نے اس ذاتی اعتراف کو عمومیت کا رنگ بھی دے دیا اور کہا کہ پاک فوج ایک نہایت پابندِ ڈسپلن فوج ہے اور بڑی پروفیشنل عسکری تنظیم ہے۔ اگلے روز ابھی نندن کو واپس کر دیا گیا لیکن ہندو مہاراج نے اس کا مفہوم یہ نکالا کہ پاکستان نے ڈر کر یہ ”فیاضانہ اقدام“ کیا ہے…… شرم و حیا کی بھی ایک حد ہوتی ہے!

پاک فضائیہ 26فروری کو جب یہ یوم فضائیہ منا رہی تھی اور جس میں وزیراعظم نے تقریر کرتے ہوئے اپنی قوم، فضائیہ اور میڈیا کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اسے ایک پختہ خیال اور پختہ عزم (Mature) قوم / عسکری تنظیم/ ادارۂ ابلاغ قرار دیا تو میں سوچ رہا تھا کہ انڈیا،سچ کی اس کڑوی گولی کو نہیں نگل سکے گا اور بہت جلد اس کا کوئی نہ کوئی جواب ضرور دے گا…… اور پھر اس کے اگلے روز یہی ہوا!

جمعہ (28فروری 2020ء) کو نئی دہلی میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس سے انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور ائر چیف مارشل بھادوریہ (Bhadauria) نے خطاب کیا۔ سیمینار کا موضوع تھا: نہ امن، نہ جنگ کی صورتِ حال میں ائرپاور کا رول“…… اس سیمینار کی تفصیل تو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ فی الحال اس کے عنوان اور اس کی ٹائمنگ پر غور کیجئے۔ آج کل پاکستان اور بھارت میں جس طرح کی فضا چل رہی ہے اس کو امن کا نام تو بالکل نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جنگ کے معروف معانی بھی اس پر صادق نہیں آتے۔ یعنی یہ موضوع پاک بھارت سیاسی صورتِ حال پر عین مین منطبق ہوتا ہے…… دوسری جانب اس کی ٹائمنگ اور اس کا موضوع یعنی ”ائر پاور کا رول“ ہے…… انڈیا کی جنگی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس کی تمام جنگیں جو پاکستان کے ساتھ ہوئیں وہ اکتوبر 1948ء، ستمبر 1965ء،،دسمبر 1971ء اور مئی 1999ء میں شروع ہوئیں۔ ان جنگوں میں ”فروری“ کا مہینہ اور اس کی مناسبت سے اس سیمینار کا انعقاد چہ معنی دارد؟ یہ سیمینار پاکستان کے اس یومِ فضائیہ کے جواب میں ہے جو 26فروری کو منایا گیا،جس میں انڈیا کے دو طیارے تباہ ہوئے اور جس میں 27فروری کو اس کا ایک پائلٹ جنگی قیدی بنا لیا گیا…… یہ سب کچھ بھارت کو کیسے ہضم ہو سکتا تھا؟چنانچہ (Hence) یہ سیمینار!

اس سیمینار سے ایک اور بات بھی واضح ہو کر سامنے آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک بھارت نے سوویٹ یونین / رشیا کا دامن تھاما ہوا تھا تب تک ”انڈو پاک“ بریکٹ میڈیاکا حصہ بنا کرتی تھی۔ بعد میں سوویٹ یونین ٹوٹ کر بکھرا (1991ء میں) تو بھارت، امریکہ کا دم چھلہ بن گیا اور امریکہ کا اصل دشمن چونکہ چین تھا اس لئے امریکی قیادت نے انڈو۔ پاک بریکٹ کی جگہ انڈو چائنا بریکٹ کا لالی پاپ بھارتی عوام اور لیڈروں کو دے دیا اور فرمایا کہ آپ کا اصل مقابلہ تو چین سے ہے پاکستان سے نہیں (اس دوران خود پاکستان نے بھی اپنے آپ کو ”ذلیل و حقیر“ کرنے میں جو رول ادا کیا، وہ بھی ایک حقیقت ہے اس لئے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس بریکٹ کی تبدیلی میں انڈیا نے جو رول ادا کیا سو کیا، ہم نے خود بھی انڈیا کا پورا پورا ”ساتھ“ دیا…… یعنی از ماست کہ برماست والا معاملہ کیا!)……

اس سیمینار کی ایک اور بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ اس میں 26فروری کی رات بالاکوٹ پر حملے اور 27فروری کی لڑائی کو سکرمش (Skirmish) کا نام دیا گیا۔ ذرا انگلش، اردو ڈکشنری اٹھا کر اس لفظ کے معانی تلاش کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ”سکرمش“ کا مفہوم ہے: نوک جھونک…… چند ساعتی مقابلہ…… معمولی نوعیت کا تصادم…… معمولی مڈبھیڑ…… لڑائی بھڑائی…… کسی جنگ میں ایک نہایت چھوٹا سا مقابلہ!……

یعنی انڈیا 26اور 27فروری کو کہ جب اس نے ایل او سی عبور کی، اپنے جنگی جہاز بالاکوٹ پر لے آیا، وہاں بمباری کی، رات کی تاریکی میں یہ کارنامہ انجام دے کر واپس لوٹا، اگلے روز دن کی روشنی میں پھر ایل او سی عبور کی اور مگ اور SU-30 قسم کے جنگی طیاروں سے حملہ کیا، اپنے دونوں طیارے تباہ کروائے اور اپنا ایک پائلٹ جنگی قیدی کے روپ میں دیکھا تو ان سب باتوں کے باوصف بھی یہ ایک معمولی جھڑپ، مڈبھیڑ، لڑائی بھڑائی، نوک جھونک اور چند ساعتی مقابلہ ہی رہا…… غیرت اور شرم کی بھی ایک حد ہوتی ہے!

آیئے اب اس سیمینار میں فرمائی گئی تقاریر کی تفصیل میں جاتے ہیں۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم