سکیورٹی کے ناقص انتظامات،احاطہ عدالت میں قتل

سکیورٹی کے ناقص انتظامات،احاطہ عدالت میں قتل
سکیورٹی کے ناقص انتظامات،احاطہ عدالت میں قتل

  



شہر کی سب سے حساس اور سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں گوجرانوالہ ایوان عدل سیشن کورٹ میں پیشی پر آئے قتل کے ایک ہتھکڑی میں جکڑے قیدی نبیل کو 22 فروری کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا فائرنگ سے افراتفری مچ گئی پولیس اہلکار اور وہاں پر موجود لوگ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ کھڑے ہوئے مقتول کے ورثا نے عدالت میں شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور بعد ازاں لاش لیکر لاہور پہنچ گئے اور پریس کلب کے باہر لاش رکھ کر شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جبکہ وکلاء نے بھی عدالتوں میں تسلسل سے پیش آنے والے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ورثانے پہلے ہی خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اسے پولیس خود کسی جعلی مقابلے میں ہلاک کر دے گی یا پھر اسے مدعی کے ہاتھوں قتل کروا دے گی ان کے خدشات سچ ثابت ہوئے اور وہی ہوا جس کا انہیں ڈر تھا عدالتوں کی حدود میں یہ پہلا قتل نہیں ہے اس طرح کے واقعات پنجاب بھر کی عدالتوں میں آئے روز پیش آتے رہتے ہیں یہ واقعات انتہائی افسوسناک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں اس وقوعہ کے ذمہ داران ملزمان موقع واردات سے نہ صرف فرار ہوگئے بلکہ ان کے بھاگ جانے پر سیشن کورٹ میں تعینات اہلکاروں اور افسران بالا کی جانب سے سکیورٹی کے لیے اٹھائے گئے انتظامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔پنجاب بھر میں درجنوں ایسے واقعات ہیں جن میں کئی ایک احاطہ عدالت میں اور کئی ایک قریب ترین پیش آئے ہیں اور ان میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اس کے علاوہ بھی متعدد ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں وکلاء پولیس اہلکار اور ملزمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو کہ پولیس حکام کی ناقص سکیورٹی کا منہ بولتا ثبوت ہے ایسے واقعات پیش آنے کے فوری بعد پنجاب پاک بار کونسل کی کال پر اگلے ہی روز صوبہ بھر کی ماتحت عدالتوں میں ہڑتال کی جاتی ہے ہے صدر بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلاء تنظیمیں کہتی ہیں کہ عدالتوں کی سیکورٹی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وہ پرزور مذمت کرتے ہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر عدالتوں کی سکیورٹی فول پروف نہ کی گئی تو وکلاء راست اقدام پر مجبور ہو جائیں گے،ہر سانحہ کے بعد انتظامیہ بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے حادثہ پر اظہار افسوس اور مستقبل میں فول پروف سیکیورٹی کی بات کی جاتی ہے مگر کچھ ہی عرصہ بعد اس طرح کا کوئی واقعہ حکومتی سنجیدگی کا پول کھول دیتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت نے متعدد ججز کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے عدالتوں کے باہر سیکیورٹی کے لئے پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں جو عام طور پر احاطہ عدالت میں داخل ہونے والوں کی تلاشی لیتے ہیں مگر ان اقدامات کے باوجود آئے روز عدالتوں کے باہر فائرنگ اور قتل کی وارداتیں انتظامیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ عدالتوں کے باہر سیکیورٹی پر مامور اہلکار احاطہ عدالت میں داخل ہونے والے عام شہریوں کی تلاشی تو لیتے ہیں مگر پولیس کے اپنے اہلکاروں اور وکلاء کو چیک نہیں کیا جاتا۔ یہ اسی کوتاہی کا نتیجہ ہے کہ ضلع کچہری میں عام شہری اسلحہ لے کر جانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے مخالف پر فائرنگ کر دی ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عدالت کے احاطے میں داخل ہونے والے تمام افراد کو بلا تفریق چیک کرنے کے علاوہ عدالتوں میں سیکیورٹی اقدامات کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے۔ عدالتوں کی حدود میں قتل و غارت کے واقعات انتہا ئی افسوس نا ک ہیں ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ترقی یافتہ اور فلاحی ریاستوں میں جب کوئی جرم‘ وقوعہ یا ریاستی لاقانونیت کا غیرمعمولی واقعہ پیش آتاہے تو ریاستی مشینری سے لے کر ایوان عدل تک کے تمام ادارے مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں اور حکومتی وزارتیں سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہیں کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسا سانحہ یا وقوعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔آئی جی پولیس شعیب دستگیر کو کام کرتے ہوئے تین ماہ گزر گئے ہیں اب تک کی ان کی مجموعی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو ماسوائے سانحہ پی آئی سی ان کی کا ر کردگی انتہائی شاندار رہی ہے اور امید واثق ہے کہ وہ اپنا عرصہ جو کہ تقریباً ایک سال ریٹائرمنٹ میں باقی ہے کامیابی سے گزار نے میں کامیاب ہو جائیں گے شعیب دستگیر ان افسران میں شامل ہیں جو محب الوطنی کیساتھ انتہائی منجے ہوئے کمانڈرتصور کیے جاتے ہیں ان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بلاوجہ کسی بھی سیاست دان یاپولیس آفیسر کو اپنے کمرے میں گھسنے نہیں دیتے اور نوسر بازوں کو پہچاننے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی فرض شناس کے ساتھ چہرہ شناسی بھی ہے۔ان کی ٹیم کے تعینات کیے گئے سبھی ہی آفیسر اچھے ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اب بھی سی پی او آفس میں بیٹھے بہت سارے آفیسرز جن میں ڈی آئی جی غلام محمود ڈوگر،عمران محمود،اشفاق احمد خان،شارق کمال صدیقی سمیت دیگر کئی آفیسرز شامل ہیں انھیں سی پی آفس کی بجائے اگر فیلڈ میں تعینات کردیا جائے تو پنجاب پولیس کی پر فارمنس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔شعیب دستگیر کے بعد ایک بڑا نام ایڈ یشنل آئی جی بی اے ناصر کا بھی ہے جنہیں بیرون ملک پولسینگ کا بے تحاشہ تجر بہ حاصل ہے اور وہ خدا داد صلاحیتوں کے مالک،پروفیشنل اور محکمانہ امور کے حامل پولیس آفیسرز ہیں۔ کسی بھی کام سے پیچھے نہیں ہٹتے اور ہر مشکل کا بہت ہی پر اعتمادی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کبھی کسی دباؤ میں نہیں آتے حتّیٰ کہ اپنے ہی افسران کے ناجائز احکامات ماننے سے بھی انکار کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے،محکمہ پولیس میں جس قدر انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہ مقام کسی اور پولیس آفیسرز کو حاصل نہیں،نوسر بازوں کا گھیراؤ اورمحکمے کی ویلفیئر کے لیے ان تھک کام کر نا بخوبی جانتے ہیں ان کا اپنی ٹیم کے ساتھ لا ہور میں گزرا گیا وقت ماضی کے تمام افسرانکی نسبت بہتر اور کامیاب رہا جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ آئی جی صاحب اگر آپ کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں تو پھر ان سے بھی زیادہ سے زیادہ مشاورت کرلینی چاہیے۔

یونس باٹھ

مزید : رائے /کالم