شام میں جنگ سے پناہ گزینوں کے درجنوں طبی مراکز بند

    شام میں جنگ سے پناہ گزینوں کے درجنوں طبی مراکز بند

  



جنیوا (این این آئی)عالمی ادارہ صحت نے کہاہے کہ شمال مغربی شام کے ادلب صوبے میں بے گھر ہونے والے ہزاروں لوگ صحت کی دیکھ بھال کی سہولتیں حاصل کرنے سے محروم ہیں کیونکہ صحت کے درجنوں مراکز تباہ ہونے سے طبی سازوسامان کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ صحت سے منسلک عہدے دار کرسچین لنڈ میئر نے بتایا کہ بہت کم پناہ گاہیں دستیاب ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار لوگ جو ابھی بے گھر ہوئے ہیں کھلے آسمان تلے رات گزار رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے کم سے کم ایک لاکھ بچوں کو منفی درجہ حرارت کا سامنا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے عہدے دار، لونڈ میئر کا کہنا تھا کہ دسمبر میں، جب سے ادلب میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے، صحت کے 84 مراکز اپنا آپریشن بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور صرف 31 مراکز ایسے ہیں جو لڑائی والے علاقوں سے نئی جگہوں پر منتقل ہونے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔لونڈ میئر نے کہاکہ اس کے نتیجے میں ایک لاکھ 33 ہزار سے زیادہ مریضوں کو تشخیص کی سہولتیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔ فوری نوعیت کے 11 ہزار مریض علاج سے محروم ہو جائیں گے اور 1500 کی سرجری نہیں کی جا سکے گی۔

مزید : عالمی منظر