جماعت اسلامی کا دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر احتجاجی مظاہرہ

جماعت اسلامی کا دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر احتجاجی مظاہرہ

  



مٹھی(خصوصی نامہ نگار) بھارت میں ریاستی دہشتگردی اور مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت اتوار کے روز صوبائی امیر محمد حسین محنتی و ضلعی امیر میرمحمد بلیدی کی زیرقیادت ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی میں مقامی دفتر سے کشمیرچوک تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔جس میں ہندو مسلمان طلباء اور تاجروں نے بھرپور شرکت اور مودی سرکار کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے احتجاجی مظاہرے مظاہرے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں مسلمانوں پر ریاستی تشدد اور ظلم و بربریت نے مودی سرکار کے سیکولر چھرے کو بے نقاب کردیا ہے کیوں کہ یہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں پوری انسانیت کا قتل عام ہے۔ حقوق انسانی کے اداروں، اوآئی سی سمیت پورے اقوام عالم کو اس کا نوٹس بھارت میں اقلیتوں کی جان ومال اور عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔پاکستان میں ہندو اکثریتی علاقے تھرپارکر میں بھارتی مظالم کے خلاف پھلا احتجاجی مظاہرہ خوش آئند بات ہے۔آج گوڈسے کی حواری پورے ہندوستان پر مکمل طور پر قابض اور گاندھی کی جماعت کانگریس ہندووووٹ حاصل کرنے کیلئے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں جبکہ بھارتی اعلیٰ عدالتیں بھی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے قتل عام پر بی جے پی اور آر ایس ایس کی غنڈہ گردی کو لغام دینے سے گریزاں ہیں،عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی امن کے ٹھیکیدار امریکہ،برطانیہ مسلمانوں کے بھیانک قتل عام پر ٹس سے مس ہونے کیلئے تیار نہیں،دلی فسادات سے گجرات اور 1984کے فسادات کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ اس موقع پر۔ تاجرایسوسی ایشن کے عہدیدار اور ہندو رہنما کملیش کمار نے کہاکہ مودی گندی ذہنیت کا آدمی ہے۔اس نے اپنے آمرانہ و انسانیت دشمن اقدامات سے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ہندوستان میں آگ لگادی ہے کوئی بھی مذہب اس طرح کی ناانصافی اور ظلم کی ہرگزاجازت نہیں دیتا۔ ہندو برادری مسلمانوں کے دکھ میں شریک اور بھارت میں انسانیت کے قتل عام کی مذمت کرتی ہے۔ احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی ضلع تھرپارکر مولانا میرمحمد بلیدی، جے یوآئی کے مفتی عابد علی، عبدالماجد کمبہار نے بھی خطاب کیا۔جبکہ صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا، ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالباسط چارو ودیگر مقامی ذمہ داران بھی موجود تھے۔

مزید : صفحہ آخر