وزیراعظم کا وژن: محکمہ ہائیرایجوکیشن میں اصلاحات لائے جارہے ہیں

وزیراعظم کا وژن: محکمہ ہائیرایجوکیشن میں اصلاحات لائے جارہے ہیں

  



پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے محکمہ ہائیر ایجوکیشن میاں خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن میں اصلاحات لائے جارہے ہیں۔محکمہ ہائیرایجوکیشن میں میرٹ کی بالادستی قائم کردی گئی ہے۔ پوسٹنگ ٹرانسفر میں سیاسی اثرورسوخ کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ نصاب میں جدید دور کے مطابق مثبت تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ کامرس کا نصاب جدید تقاضوں کے ہم آہنگ بنانے کے لئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن میں شکایات سیل قائم کیا جارہا ہے۔ عوام مشیر اعلیٰ تعلیم کو براہ راست محکمے کے حوالے سے شکایات بھیج سکیں گے۔ ہائیر ایجوکیشن میں کام نہ کرنے والے افسران کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ جو کام نہیں کریگا اس کی چھٹی کردی جائیگی۔ ہائیر ایجوکیشن صوبے کا ایک مثالی ادارہ بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ سیاسی اثرورسوخ استعمال کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔ صوبے میں میرٹ کی بالادستی کی وجہ سے محکمہ تعلیم میں قابل اساتذہ بھرتی ہو کر قوم کے مستقبل کے لئے کمربستہ ہو چکے ہیں۔مارچ تک ضلع نوشہرہ میں چار سو اساتذہ بھرتی ہو جائیں گے جس سے ضلع میں اساتذہ کی کمی پوری ہو جائیگی۔ نوجوان ملک وقوم کی بہتر خدمت کے لئے وزیر اعظم عمران خان کا دست و بازو بنیں۔ ستوری د پختونخوا پروگرام میں بورڈ میں پوزیشن لینے والے طلبا کو نقد انعامات دئیے جائیں گے۔اداروں کو اس قابل بنایا جائیگا کہ وہ مفید گریجویٹ تیار کرسکیں۔ فنی تعلیم اور ہنر مند نوجوان پاکستان کی ضرورت ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ گورنمنٹ ہائی سکول کینٹ نمبر1 نوشہرہ میں سی ٹی اساتذہ میں تقرری کے احکامات تقسیم کرنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے محکمہ توانائی ڈاکٹر عمران خٹک، ایم پی اے میاں جمشید الدین کاکا خیل اور ایم پی اے ادریس خٹک اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسیر سجاد اختر اقبال نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ضلع نوشہرہ میں ایف ٹی ایس کے ذریعے 34 نومنتخب سی ٹی اساتذہ میں تقرر نامے تقسیم کئے گئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے سابق اور موجودہ دور میں میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع کررکھا ہے جس سے تعلیم کا معیار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، ادارے مستحکم ہو رہے ہیں،سابق ادوار میں ملازمتوں کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا گیا اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حق تلفی کی گئی، آج قوم اس بات کی گواہ ہے کہ جو اصلاحاتی عمل تحریک انصاف کے دور میں شروع ہوا ہے مخالفین بھی اس بات کی تائید کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اس قوم کا مستقبل ہیں اور جس قوم کا حال شاندار ہو تو اس قوم کا مستقبل ہمیشہ تابندہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے سکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں ذہین طلبا کو احساس پروگرام کے تحت تعلیم کے لئے مالی معاونت فراہم کی جائیگی۔ نوجوانوں کو روزگار کے لئے بلاسود قرضے دئیے جارہے ہیں جس سے نوجوان نسل میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور ملکی معیشت مستحکم بنانے میں بھرپور مدد ملے گی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر