دین اسلام امن و بھائی چارے کا درس دیتا ہے‘ مولانا محمد ادریس

  دین اسلام امن و بھائی چارے کا درس دیتا ہے‘ مولانا محمد ادریس

  



صوابی(بیورورپورٹ)ممتاز عالم دین شیخ القر ان والحدیث حضرت مولانا محمد ادریس نے کہا ہے کہ دین اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دے رہا ہے قرآن ایک عظیم اور انقلابی کتاب ہے قر آن و سنت پر پوری طرح عمل کرنے سے مسلمان دنیاو آخرت کے دونوں جہانوں میں فلاح پاسکتا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے موضع ڈاگئی میں حضرت ڈاگئی باباجی کانفرنس اور بعد ازاں مختلف مساجد میں ختم القر آن کی الگ الگ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا جس سے مہتمم جامعہ مظہر العلوم مولانا اسد اللہ جان مظہری کے علاوہ مولانا قاری اکرام الحق شیخ الحدیث مولانا روح الا مین ترکئی، مولانا محمد ہارون حنفی، مفتی تسلیم الحق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ القر آن و الحدیث مولانا حمد اللہ جان ڈاگئی باباجی کی ایک صدی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا وہ استاد علماء اور علم کے سمند ر تھے انہوں نے پوری زندگی قر آن و سنت کی اشاعت اور دین اسلام کی سر بلندی کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ حضرت باباجی ایک جامع، تاریخ ساز اور انقلابی شخصیت تھے آج طالبان کے ساتھ جو معاہدہ ہوا یہ حضرت باباجی کی خواہش تھی کہ افغانستان سے امریکی فوج نکل جائے اور طالبان کے بنیادی مطالبات تسلیم کئے جائیں۔آج اللہ تعالی نے ان کی اس خواہش کو پورا فر مایا انہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کو چھیڑنے والے ماضی سے عبرت اور سبق حاصل کریں جس نے بھی اللہ تعالی کے نظام، قرآن، مساجد، مدارس اور علماء کے خلاف سازش کی ان کو اللہ تعالی نے عبرت کا نشان بنایا ہے۔اور ان کے تمام عزائم ناکام ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ دین اسلام کی سر بلندی اور قر آن و سنت کی اشاعت کے لئے علماء نے ہر دور میں کر دار ادا کیا ہے اور آج بھی یہ کر دار ادا کر تے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج بعض لوگ علماء کو نہ صرف گالیاں دیتے ہیں بلکہ غیر اخلاقی زبان بھی استعمال کر تے ہیں بالخصوص باطل قوتیں یہ سازش کر رہی ہے لیکن علماء کرام ہر میدان میں معاشرے کی اصلاح، عقیدے، امن، اخلاق، کر دار اور سیاسی امور کے علاوہ باطل کی بھی اصلاح کر تے ہیں مسلمانوں کو یہود کے ایجنٹوں اور کلچر سے بچائیں گے اپنے بچوں کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑینگے۔انہوں نے کہا کہ جس نے بھی علماء کے خلاف سازشیں کی اللہ تعالی نے ان کو نست و نابوت کر دیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر