متحدہ طلباء محاذ کا احتجاجی کیمپ دوسرے روز بھی جاری

متحدہ طلباء محاذ کا احتجاجی کیمپ دوسرے روز بھی جاری

  



پشاور (سٹی رپورٹر)متحدہ طلبہ محاذ گول یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل کے طلبہ کا اپنے مطالبات کے کیلئے احتجاجی کیمپ دوسرے روز بھی پشاور پریس کلب کے سامنے جاری رہا مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اتھا رکھے تھے جس پر انکے حق میں مطالبات درج تھے کیمپ کی قیادت طلبہ محاذ گومل یونیورسٹی کے صدر خالد خان وزیر، ذیشان بیٹنی، ثناء اللہ مروت، رضاء اللہ وزیر اور فواد خٹک کر رہے ہیں ا س موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ مذکورہ یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات اب کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنسی ہراساں ہونے واقعات سمیت جامعہ میں دیگر مبینہ بد عنوانیوں کیخلاف گورنر خیبر پختونخوا کی انکوائری رپورٹ پر بحثیت چانسلر گورنر شاہ فرمان مکمل عملدرآمد کرے، وائس چانسلر کی ملازمت کی غیر قانونی توسیع کو فوری طور پر ختم کیا جائے، ریگولر فیکلٹی ڈینز، رجسٹرار، کنٹرولر، ڈائریکٹر فنانس اور دیگر انتظامی عہدوں پر ریگولر افسران کی سلیکشن کرائی جائے، تمام ٹیچرز کو انتظامی عہدوں سے واپس بلا کر اپنے شعبہ جات میں پڑھانے پر مامور کئے جائیں، ہر قسم کی کرپشن اور اخلاقی بدعنوانیوں کی سفات تحقیقات کی جائے، ٹانک کیمپس، ایفلیشن سیل، ڈیسٹنس ایجوکیشن شعبہ امتحانات، ورکس ڈیپارٹمنٹ، ٹرانسپورٹ سیکشن، لیگل سیل، بیوٹیفیکیشن اور سونامی ٹری پراجیکٹ کی مکمل اور شفاف آڈٹ کرایا جائے، انہوں نے کہاکہ جنسی ہراساں کرنے میں ملوث اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کرکے فیسوں میں کمی لائے جائے، حق مانگنے والے طلباء پر درج مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، یونیورسٹی میں ڈسپنسری بحال کی جائے، 2009 ء سے 2019 تک میگزین فنڈ، ڈیپارٹمنٹ ڈویلپمنٹ فنڈ، سپورٹس فنڈ، ہاسٹل ڈویلپمنٹ فنڈ کی آڈٹ کرایا جائے جبکہ 16افراد پر انکوائری مکمل ہونے کے بعد انکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ گورنر خیبر پختونخوا اور وی سی گومل یونیورسٹی ان کے مطالبات پر عملدرآمد کرے بصورت دیگر تین دن بعد گورنر ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے سمیت سینٹ ہاوس اسلام آباد کے سامنے احتجاجی دھرنا دینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر