مزدوروں کا استحصال بند کیا جائے‘ متحدہ یونین

مزدوروں کا استحصال بند کیا جائے‘ متحدہ یونین

  



تخت بھائی (تحصیل رپورٹر) متحدہ مزدور یونین رحمان کاٹن ملز کے صدر آدم خان نے کہا ہے کہ رحمان کاٹن ملز انتظامیہ نے چھ مہینے پہلے جن مزدروں سے انگوٹھیاں لگا کر ان کی گریجویٹی کو یکسر ختم کر دیا ہے گذشتہ چھ مہینوں سے سات سو مزدوروں کے کروڑوں روپے ملز کے ساتھ پڑے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ گریجویٹی کا رقم فوری طور پر مزدوروں کو دی جائے اور ساتھ ہی حکومت نے جو کم از کم اجرت 17500روپے مقرر کیا ہے وہ مزدوروں کو فی الفور دی جائے ورنہ متحدہ مزدور یونین مجبور ہو کر مین ملاکنڈ روڈ کو ہر قسم ٹریفک کے لئے بند کر دیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے تخت بھائی نیوز کلب میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پرروزی کان،زبیر خان، بشیر احمد،فیض الرحمان اورمیر افضل موجود تھے انہوں نے کہا کہ رحمان کاٹن ملز انتظامیہ نے ایک سازش کے تحت سات مہینے پہلے ملز سے 700ریگولر ملازمین سے انگوٹھیاں لگا کر ان سے گریجویٹی کی سہولت چھین لی ہے انہوں نے کہا کہ ہر مزدور کا کم از کم ملز کے ساتھ چار لاکھ سے لیکر پانچ لاکھ تک روپے بنتے ہیں مزدوروں کا ملز انتظامیہ کے ساتھ 29000000 کروڑ روپے بنتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ گذشتہ سات ماہ مزدوروں کو اپنے قانونی واجبات نہیں دیتے انہوں نے ملز انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جن ملازمین کے بقایاجات ملز کے ساتھ پڑے ہیں ملز انتظامیہ فوری طور پر ملازمین کو بقایاجات دیا جائے انہوں نے صوبائی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ائی حکومت نے جولائی 2019سے کم ازکم اجرت 17500روپے دینے کا اعلان کیا تھالیکن اس کے باوجودبھی رحمان کاٹن ملز اپنے مزدوروں کو15000 روپے دیتے اور مزدوروں کو اپنے من پسند تنخواہیں دئیے رہے انہوں نے کہا کہ جولائی 2019سے 2000 ہزار ملازمین کا 3000000روپے بھی بقایا ہیں انہوں نے دہمکی دی کہ اگر ملز انتظامیہ نے فوری طور پر مزدوروں کے بقایاجات اور کم از کم اجرت نہ دی گئی تو پھر دما دمست قلندر ہو گا

مزید : پشاورصفحہ آخر