”بجلی کے پری پیڈ میٹر نصب اور یہ ذمہ داری نجی شعبے کو دے دیں“ چیئرمین نیپرا کاوزیراعظم کو مشورہ دیدیا

”بجلی کے پری پیڈ میٹر نصب اور یہ ذمہ داری نجی شعبے کو دے دیں“ چیئرمین نیپرا ...
”بجلی کے پری پیڈ میٹر نصب اور یہ ذمہ داری نجی شعبے کو دے دیں“ چیئرمین نیپرا کاوزیراعظم کو مشورہ دیدیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک)گردشی قرضوں میں کمی کے اعداد و شمار، بل ریکوری، لائن لاسز میں کمی کے ساتھ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر میں بہتری پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور ساتھ ہی وزیراعظم کے ویژن کے مطابق اس شعبے کو زیادہ باصلاحیت بنانے کیلئے اصلاحاتی پیکیج بھی پیش کیا ہے۔ نیپرا چیف نے پاور سیکٹر میں ٹریڈ یونین پر پابندی عائد، نجی شعبے کو بل کلکشن کا کام دینے، غیر موثر پاور پلانٹس کو بند کرنے اور نان الیکٹرسٹی ٹیکسیشن کا بوجھ ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاور سیکٹری میں اصلاحات اور کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس میں وزارت بجلی، نیپرا اور ورلڈ بینک کے نمائندے موجود تھے۔غیر متوقع طور پر چیئرمین نیپرا فاروق ایچ توسیف اجلاس نے بہت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا اور وزیراعظم کو اپنے نقطہ نظر کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اخبار کے مطابق فاروق توسیف نے نہ صرف پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کیے گئے گردشی قرضے کے اعداد و شمار (1782 ارب روپے) کو بھی چیلینج کیا بلکہ نشاندہی بھی کی کہ اصل گردشی قرضہ 1.93 کھرب روپے ہے۔ اجلاس میں نیپرا چیف نے وزیراعظم کو بتایا کہ 31 دسمبر 2019ءتک گردشی قرضہ 1.856 ٹریلین روپے تھا جو جنوری 2020ءکے اختتام پر بڑھ کر 1.926 ٹریلین روپے ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ 492 ارب روپے کے گردشی قرضوں میں وہ 325 ارب روپے بھی شامل ہیں جو پاور کمپنیوں کی نا اہلی کی وجہ سے ہیں۔

انہوں نے اعداد و شمار توڑتے ہوئے بتایا کہ گردشی قرضوں میں کم ریکوری کی وجہ سے 132 ارب روپے، تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں کے سود کی وجہ سے 150 ارب روپے، پاور کمپنیوں کی جانب سے 15.7 فیصد کے لاسز (جو اصل میں 17.7 فیصد ہیں) کا ہدف پورا نہ کرنے کی وجہ سے 33 ارب روپے جبکہ 10 ارب روپے جنریشن کمپنیوں کی جانب سے غیر موثر انداز سے پیداوار کی وجہ سے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2016ءوہ مہینہ تھا جب گردشی قرضہ جات کم سے کم سطح 3.25 ارب روپے کی سطح پر تھے اور اس وقت سے لے کر اب تک یہ قرضہ جات ہر ماہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ جون 2017ءتک ہر ماہ بڑھنے والا اوسط گردشی قرضہ 10.8 ا رب روپے تھا جب نون لیگ حکومت میں تھی، جون 2018ءمیں گردشی قرضہ 25.58 ارب جبکہ جون 2019ءتک بڑھ کر 41 ارب روپے ہوگئے۔

دسمبر 2019ءمیں اس میں معمولی کمی آئی اور یہ 39.67 ارب روپے ہوگئے لیکن جنوری 2020ءتک ان میں اضافہ ہوا اور یہ 42.42 ارب روپے ہوگئے۔ چیئرمین نیپرا نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ 8 تھرمل پاور پلانٹس کیلئے پاور سیکٹر کے 53 ارب روپے کے قرضہ جات کو ری شیڈول کرکے ادائیگیاں فی الحال موخر کی جائیں۔سرکاری شعبہ کے پاور پلانٹس کا سالانہ 40 ارب روپے کا منافع اور ریٹرن کمپوننٹ اور صارفین سے جمع کیا جانے والا 35 ارب روپے کا خالص ہائیڈل منافع جو صوبوں کو دیا جاتا ہے، بجٹ میں منتقل کیا جائے اور غیر فعال جنریشن پلانٹس کو بند کر دیا جائے۔

چیئرمین نیپرا کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کی مدد سے اچھی رقم بچائی جا سکتی ہے۔ نیلم جہلم سرچارج کے نام پر صارفین سے ہر سال 10 ارب روپے جمع کیے جاتے ہیں، اس سرچارج کو ختم کیا جائے۔ نان الیکٹرسٹی ٹیکسیشن کے 250 ارب روپے ہوتے ہیں جن میں سے 175 ارب روپے گردشی قرضوں میں چلے جاتے ہیں، اسے بھی ختم کیا جائے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں 100 ارب روپے سے بجلی کا فی یونٹ 2.72 روپے بغیر ٹیکس حاصل کیا جا سکتا ہے اور 3.43 روپے فی یونٹ ٹیکسز کے ساتھ، جس سے گھریلو صارفین کو 300 یونٹ دیے جا سکتے ہیں۔ صنعتوں کیلئے یہ اسکیم 3.87 روپے فی یونٹ بغیر ٹیکس اور 4.87 فی یونٹ ٹیکس کے ساتھ ہوگی۔

انہوں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کیے جائیں کیونکہ مارک اپ میں ایک فیصد کی کمی کے نتیجے میں ہر سال ہر 100 ارب روپے کی ادائیگی پر ایک ارب روپے کی بچت ہوگی۔

فی الوقت 600 ارب روپے کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار اور 31 دسمبر 2019ءتک آئی پی پیز کو واجب الادا ہیں۔ اس کے ساتھ یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ پاور سیکٹر میں لیبر یونینز پر پابندی عائد کی جائے، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے اور انہیں کی جانے والی ادائیگیوں کا نظام بہتر بنایا جائے اور اس شعبے میں درآمد شدہ ایندھن کی مدد سے بجلی کی پیداوار پر پابندی عائد ہونا چاہئے۔

اخباری ذرائع کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد اور ایل این جی کے ٹھیکوں پر ہنگامی بنیادوں پر دوبارہ مذاکرات کیے جائیں تاکہ اس شعبے کو تباہی سے بچایا جا سکے۔ ”لو ورنہ ادائیگی کرو“ کی بنیاد پر ٹھیکے نہیں ہونا چاہئیں جبکہ تھر کول پروجیکٹ کی قیمتوں کا تعین سندھ حکومت نہیں بلکہ وفاق کو کرنا چاہئے۔

کے پی کے، پنجاب اور آزاد کشمیر میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو طویل مدتی بنیادوں پر فروغ دیا جائے اور نقصان کرنے والی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے ساتھ پری پیڈ میٹرز نصب کرنے اور میٹر ریڈنگ اور بل کلکشن کا کام آﺅٹ سورس کرنا چاہئے اور یہ کام ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں۔ اس بریفنگ کے بعد، وزیراعظم نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو ہدایت کی کہ وہ نیپرا اور پاور ڈویژن کے ساتھ مل بیٹھ کر اعداد و شمار کا جائزہ لیں اور چند روز میں رپورٹ پیش کریں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد