سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے ہر فیصلے کو قبول کرتے ہیں: سینیٹر شبلی فراز

سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے ہر فیصلے کو قبول کرتے ہیں: سینیٹر شبلی فراز
سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے ہر فیصلے کو قبول کرتے ہیں: سینیٹر شبلی فراز

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے ہر فیصلے کو قبول کرتےہیں، سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹ دائمی طور پر سیکرٹ نہیں رہ سکتا، یہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی سوچ کی تائید ہے، الیکشن کمیشن نے یہ یقینی بنانا ہے کہ الیکشن شفافیت کے ساتھ ہوں، وزیراعظم عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف طریقے سےہوں،  سینٹ الیکشن میں شفافیت کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاناچاہیے۔

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے میثاق جمہوریت میں اس بات پر اتفاق کیاتھا کہ سینٹ الیکشن شو آف ہینڈز کے ذریعے ہونا چاہیے لیکن حسب روایت انہوں نے اپنے ہی مطالبہ کی نفی کی۔ انہوں نے کہاکہ آج اپوزیشن یہ سمجھ رہی ہے کہ ان کے موقف کی تائید ہوئی ہے لیکن درحقیقت سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ووٹ دائمی طور پر خفیہ نہیں رہ سکتا، یہ ایک بہت بڑا اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ الیکشن پوری طرح شفاف ہو اور اس میں کوئی غیر قانونی کام یا اراکین کی خرید و فروخت نہ ہو اور نہ ہی کوئی بھی اس طرح کے ذرائع جن سے الیکشن متاثر ہو سکتا ہو ان کا سدباب کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شفاف الیکشن کے لئے کوئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے متعلق فیصلہ ایک بڑا اور خوش آئند فیصلہ ہے، ٹیکنالوجی واضح کرنے سے مراد یہ ہے کہ الیکشن میں ہر وہ وسائل استعمال کئے جائیں جن سے الیکشن شفاف ہو سکے۔ سینیٹر شبلی فرازنے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ یا الیکشن کمیشن کے ہر فیصلہ کو قبول کرتی ہے، اداروں کی رٹ کو تسلیم کرنا ہر کسی کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ہمیشہ سے ایک منافقانہ رویہ رہا ہے، جب چیزیں ان کے حق میں ہوں تو وہ اپوزیشن کے نزدیک ٹھیک اور جب فیصلے ان کے خلاف ہوں تو وہ ان کو قبول نہیں کرتے، پی ٹی آئی نے جتنے بھی ضمنی انتخابات ہارے ان کے نتائج کو تسلیم کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت دو نظاموں یا دو سوچوں کی جنگ چل رہی ہے، ایک وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ پاکستان اسی طریقے سے چلے جس میں پیسے، دھونس اور بدمعاشی کی سیاست کی جائے اوردوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی سوچ ہے جو بھرپور طریقے سے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں کہ نظام تبدیل کیا جائے اور دھونس دھاندلی اور کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے۔

انہوں نےکہاکہ ہم تاریخ کےدائیں ہاتھ پرکھڑےہوئےہیں جبکہ اپوزیشن اپنی سیاسی پوزیشن کےحوالےسےتاریخ کےبائیں ہاتھ کی جانب کھڑی ہے، ہم سمجھتےہیں کہ اب وقت آ گیاہےہم اپنےانتخابی نظام کومضبوط بنائیںگےاورمستقبل میں آنےوالےانتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کےطریقہ کارکومتعارف کرائیںگےاورہم حقیقی جمہوریت کی جانب بڑھیں گے جہاں ووٹ کا تقدس بحال رہے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کی باتوں پر اگر جائیں تو انہوں نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی یہی کہا تھا کہ ہم کامیاب ہوں گے، اپوزیشن نے جلسے کئےاور اپنا ایک بیانیہ بنایا لیکن اصل میں وہ الیکشن ہار گئے، ابھی بھی اپوزیشن نے ایک شور مچا رکھا ہے کہ ان کا امیدوار جیتے گا، اپوزیشن کی باتوں پر نہیں جانا چاہیے،اگرپوری پی ڈی ایم کا سفر دیکھا جائے تو ان کو ہمیشہ صرف ہزیمت ہی اٹھانا پڑی، حفیظ شیخ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں اور ان کو پارٹی کی پوری حمایت حاصل ہے اور حفیظ شیخ کی

کامیابی پی ڈی ایم کے پورے سیاسی ڈرامے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -