تاریخ نے ظالموں کو مظلوموں کے ہاتھوں مرتے دیکھا

تاریخ نے ظالموں کو مظلوموں کے ہاتھوں مرتے دیکھا
تاریخ نے ظالموں کو مظلوموں کے ہاتھوں مرتے دیکھا

  

آپ نے کئی بار یہ سنا ہوگا کہ طاقت کے نشے میں دھت لوگ کمزور لوگوں پر ظلم ڈھاتے ہیں اور ان کا گزر بسر اجیرن بنا دیتے ہیں، حکومت اور سرکاری ادارے اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے کیوں کہ سب ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہیں، لیکن آج تاریخ بدل رہی ہے، آج زمانہ بدل رہا ہے، آج وقت کے ساتھ ساتھ لوگ بھی بدل رہے ہیں، آج لوگ بغیر کسی ڈر و خوف کے اپنی رائے دے رہے ہیں، آج لوگ اپنی آنے والی نسلوں کو یہ باآور کروا رہے ہیں کہ ظالموں کے خلاف میدان عمل میں کھڑے ہونا ہے اور مظلوموں کا آخری دم تک ساتھ دینا ہے۔ 

حالیہ دنوں میں ملک کے اندر ضمنی الیکشن منعقد ہوئے جس میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، کئی جگہوں پر ضمانتیں ضبط ہوئیں تو کئی جگہوں پر بندوق کی گولی سے لوگوں کے اندر خوف و حراس پیدا کرنے کی کوشش کی، ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے دوران حکمران جماعت کی طرف سے جو کچھ کیا گیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، اکیلی بہادر باپ کی بہادر بیٹی نوشین افتخار صاحبہ حکمران جماعت کے غنڈوں اور سرکاری افسران کی طرف سے جاری ظلم و ستم کا مقابلہ کرتی رہی، نوشین افتخار باوجود ریاستی مشینری کے بےجا استعمال ہونے کے بھاری مارجن کے ساتھ جیت رہی تھی کہ آدھی رات کو 23 پریزائیڈنگ افسران کو اغواء کرنے کا واقعہ پیش آ گیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ معاملے کی اطلاع ملتے ہی رات گئے مسلسل آئی جی پنجاب ،کمشنر گجرانوالہ اور ڈی سی گجرانوالہ سے رابطے کی کوشش کرتے رہے لیکن رابطہ نہ ہوا۔ چیف سیکریٹری پنجاب سے رات تین بجے رابطہ ہوا اور ان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کی تلاش کی جائے گی لیکن بعد میں ان سے دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا اور کئی گھنٹوں کے بعد 'تقریباً صبح چھ بجے پریزایئڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ حاضر ہوئے۔'

بہت سے راز افشاں ہوئے، الیکشن کمیشن نے ڈسکہ ضمنی انتخاب کا نتیجہ روک دیا، اس کی اسلام آباد میں باقاعدہ سماعت ہوتی رہی اور الیکشن کمیشن نے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر اس حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا، اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے پاکستان میں انتظامی عہدوں پر تقرریوں کے ذمہ دار سرکاری شعبے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ذیشان جاوید لاشاری، ڈسٹرکٹ پولیس افسر سیالکوٹ حسن اسد علوی، اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ آصف حسین، ڈی ایس پی سمبڑیال ذوالفقار ورک اور ڈی ایس پی ڈسکہ محمد رمضان کمبوہ کو معطل کر دیا جائے۔

اس اہم فیصلے پر مسلم لیگ ن نے خوشی کا اظہار کیا اور میاں نواز شریف کے بیانیے کی جیت قرار دے دیا۔

حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابی حلقے میں خوشگوار ماحول پیدا کریں تاکہ کسی کی جان کو نقصان نہ پہنچے اور لوگ اپنی رائے دے سکیں اور پاکستان میں جمہوریت مزید مستحکم ہوسکے اور لوگوں کے مسائل انکی دہلیز پر حل ہو سکیں۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -