مسلح افواج میں خواتین!

مسلح افواج میں خواتین!
مسلح افواج میں خواتین!

  

مذہب اور معاشرہ کوئی بھی ہو مرد اور خاتون انسانی گاڑی کے دو پہیے رہے ہیں۔ باایں ہمہ، مذاہب کے کئی ٹھیکے داروں نے خاتون کی حیثیت اور اس کا مرتبہ کم کرنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے۔ کئی حضرات نے دلیل دی کہ خالقِ کائنات نے تو صرف حضرت آدم کو اکیلے بہشت سے نکال کر زمین پر پھینکا (یا بھیجا) تھا۔ پھر آدم نے جب خدا سے اپنی تنہائی کا شکوہ کیا تو اماں حوّا کو باوا آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ گویا عورت، مرد کی اداسی دور کرنے اور اس کا دل بہلانے کے لئے تخلیق کی گئی تھی۔ (حالانکہ قرآن حکیم میں صاف لکھا ہے کہ شیطان نے جنت میں دونوں کو گمراہ کیا تو انہیں زمین پر اتارا گیا)دوسرے لفظوں میں عورت، مرد کے لئے ایک کھلونا تھا۔ یہ ”کھلونا فلسفہ“ بڑی دیر تک دنیا کے کئی معاشروں میں رائج رہا اور شاید آج بھی اس کو حقیقت سمجھنے والے کئی گروہ کہیں نہ کہیں موجود ہوں گے۔ اسی ”شاید“ کو دوبارہ ان معنوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کہ جو معاشرے، عورت کو ایک کھلونا تصور کرتے تھے، ان میں مردوں کی اکثریت خود عورت کے ہاتھوں میں ایک کھلونا بنی رہی اور ان کو تگنی کا ناچ نچاتی رہی۔ مردانہ شاونزم کی اصطلاح بے شک جدید لغت کا حصہ ہو، لیکن اس شاونزم میں بھی عورت برابر کی شریک رہی۔

اگر شاونزم کے ڈانڈے جنگ و جدال سے ملتے ہوں تو بھی ہر دور اور ہر معاشرے میں عورت جنگوں میں اپنے ساتھی کی شریکِ سفر رہی ہے۔ یونان، مصر، چین اور ہندوستان کی تہذیبیں، معلومہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہیں۔ یونانی دیومالائی داستانوں میں عورت کا حصہ، مرد سے کم نہیں۔ جس داستان  کو بھی دیکھیں اور مطالعہ کریں اس میں کوئی نہ کوئی عورت برابر کی شریک ہوگی۔ اس کا رول مثبت یا منفی ہو سکتا ہے لیکن اس کی شرکت سے کوئی بھی دیومالائی داستان خالی نہیں۔نام لینے لگوں تو پورا کالم ختم ہو جائے گا۔…… اسی طرح مصر کی زلیخا اور قلوپطرہ کو کون نہیں جانتا؟…… چین کی تہذیب پر چین سے باہر کی دنیا میں اگرچہ کچھ زیادہ تاریخی مواد موجود نہیں لیکن جو بھی ہے اس میں عورت کی سماجی حیثیت کی ناقدری کا کوئی شائبہ آپ کو پڑھنے میں نہیں ملے گا۔ دنیا کی وحشی اقوام کی تاریخ میں چنگیز کا نام سب سے اوپر آتا ہے۔لیکن جس صنف نے چنگیز کو ہلاکت و خونریزی کا استعارہ بنایا، وہ بھی ایک عورت تھی۔ اس خاتون کا انتقام لینے کے لئے چنگیز نے پہلے اپنے آس پاس کے قبیلوں کو زیرِ نگیں کیا اور بعد میں جہاں بھی گیا، اس کی نصف بہتر کی یاد اس کے ہمراہ تھی……

اور جہاں تک ہندوستان کی قدیم تہذیب کا تعلق ہے تو رامائن اور مہا بھارت کے قصے دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔ رام چندر جی کی ماں کا نام کوشلیا تھا جو راجہ دسرتھ کی بیوی تھی اور ہر بڑی جنگ میں ان کے ساتھ شریک تھی۔ ایک اور جنگ میں دسرتھ کی دوسری بیوی کیکئی بھی میدانِ کارزار میں ان کے ساتھ تھی اور جب دسرتھ کی رتھ کے ایک پہیے کو دشمن کے تیر نے توڑ دیا تو رانی کیکئی نے اپنا کاندھا، اُس پہیے کے نیچے دے کر رتھ کو راجہ کی اونچی کمانڈ پوسٹ سے پھسل کر نیچے لڑھکنے سے بچایا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دسرتھ کی شکست یقینی تھی۔ اسی واقعہ سے متاثر ہو کر راجہ نے کیکئی کو دو قول ہار دیئے تھے اور جب دسرتھ نے رام چندر جی کی (اپنے بڑھاپے کے مدنظر) تاجپوشی کا اعلان کیا تھا تو کیکئی نے سوتیلی ماں ہونے کی وجہ سے اپنے شوہر کو وہ دو قول یاد کروائے تھے جو جنگ میں دسرتھ نے ہار دیئے تھے۔ اور وہ دو قول یہ تھے کہ رام کی جگہ اس کے سوتیلے بھائی بھرت کو ”تخت پر بٹھایا جائے اور دوسرے رام کو 14سال کا بن باس دے دیا جائے…… رام چندر جی کا اپنے بھائی لچھمن (یا لکشمن) اور اپنی نوبیاہتا اہلیہ سیتا جی کے ہمراہ چودہ برس تک جنگلوں میں پھرنا، سری لنکا کے راجہ کا ستیا جی کو اغوا کرنا، راجہ کے وزیرِ جنگ ہنومان کا رام کا ساتھ دینا، رام چندر کا لنکا کے راجہ کو شکست دینا، 14سال کا بن باس ختم کرکے واپس دہلی کی راجدھانی میں قدم رکھنا اور اس جشن کو دیوالی اور لنکا کے راجہ کے پتلے کو نذرِ آتش کرنے کے واقعے کو دسہرہ کا نام دینا، آج بھی ہندو دھرم کی رسومات کے واقعاتِ خاص ہیں۔ اور یہ تمام داستان رامائن میں درج ہے اور مہا بھارت میں کورووں اور پانڈووں کی لڑائیاں بھی ہندوستان کی قدیم ہندو تہذیب کے اجزائے ترکیبی ہیں۔

پھر ہندوستان ہی کی تاریخ میں مسلم دور کا آغاز اور خاندانِ غلاماں کی سلطانہ رضیہ کا گھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی فوج سے مقابلہ کرنا اور رانی جھانسی کے جنگی معرکوں کی تفصیل تو آج کی تاریخِ ہند کے درخشاں ابواب ہیں۔ مسلمانوں کی 800سالہ سنہری تاریخ میں درجنوں خواتین کے نام ایسے ہیں جو جگمگا رہے ہیں اور جن کو ضبطِ تحریر میں لا کر قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ عورت، مرد کے جس شاونزم کا شکار بتائی جاتی ہے، وہ میدانِ جنگ کا شاونزم نہیں بلکہ سماجی جنگ و جدال کے میدانوں کا شاونزم ہے۔

مذہب اور سماج کوئی بھی ہو اس میں فوج کا وجود ناگزیر ہے۔ کسی بھی ملک کی تشکیل کے لئے چار عناصر ضروری ہوتے ہیں …… ایک قطعہء زمین…… دوسرا گروہِ آبادی …… تیسرا حکومت اور…… چوتھا فوج۔ ہر فوج میں خواتین کی براہِ راست یا بالواسطہ کنٹری بیوشن بھی ایک پیشگی تقاضا ہے۔ جوں جوں وقت آگے نکلتا جا رہا ہے، جدید معاشروں کی عسکری تنظیموں میں عورت کا حصہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عورت کو جنگ میں زخمی ہو جانے والوں کی مرہم پٹی کا فریضہ سونپا جاتا تھا۔ ایک طویل عرصے تک خواتین کے لئے اسی میڈیکل سپورٹ والے فریضے کو ہی کافی سمجھ لیا گیا۔ لیکن جیسے جیسے میدانِ جنگ میں شمشیروسناں کی جگہ بارودی اسلحہ جات لینے لگے اور جنگی سائنس دان اور جنگی انجینئر سامنے آنے لگے، خواتین نے کاروبارِ جنگ میں زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا۔ آج تولیدِ اسلحہ (ویپن پروڈکشن) کے جتنے بھی کارخانے اور فیکٹریاں ہیں ان میں خواتین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ صدی کی دو عظیم جنگوں میں اسلحہ سازی کا 80فیصد کام خواتین نے سنبھال رکھا تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں آرڈننس فیکٹریوں میں تو 95%تک خواتین کام کرتی تھیں اور مرد، محاذِ جنگ پر لڑنے کے لئے فارغ کئے جاتے تھے۔ پاکستان اور انڈیا کو چونکہ 20ویں صدی کی عالمی جنگوں کا کوئی براہِ راست تجربہ حاصل نہیں اس لئے دونوں ممالک کے اسلحہ بنانے والے کارخانوں میں خواتین کی تعداد بہت محدود ہے۔ 

جدید اسلحہ جات میں میزائل اور ڈرون کا حصہ روز بروز زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور ان دونوں جدید ہتھیاروں کی پروڈکشن میں مرد ہنر مند، کاریگر،انجینئر اور سائنس دان تعداد میں بتدریج گھٹتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ خواتین لے رہی ہیں۔

اب تو جدید ممالک میں خواتین لڑاکا شعبوں میں بھی مردوں کی برابری کا تقاضا کرتی نظر آتی ہیں۔ امریکہ ان ممالک میں سب سے آگے ہے۔ یورپ، رشیا اور چائنا میں بھی اگرچہ لڑاکا صیغوں (Fighting Arms) میں عورتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے لیکن امریکہ میں تو انفنٹری یونٹوں اور فارمیشنوں کی کمانڈ بھی خواتین کو دی جا رہی ہے۔ ماضی میں کسی انفنٹری ڈویژن کی کمانڈ کسی عورت کو دینا اگرچہ ماورائے تصور خیال کیا جاتا رہا لیکن خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ان مناصب کی ہر طرح سے اہل ہیں۔امریکی ائر فورسز اور نیوی میں بھی اب خواتین کمانڈروں کا ”دور دورہ“ ہونے لگا ہے۔ کسی چار ستاروں والی خاتون جنرل کا تصور قبل ازیں صرف میڈیکل کور میں تھا۔ (پاکستان کی میڈیکل کور میں خاتون جرنیلوں کی پروموشن اور تقرری کی خبریں تو قارئین کی نظروں سے گزرتی رہی ہوں گی لیکن پاکستان ملٹری میں ”خواتین کا حصہ“ ایک الگ مضمون / کالم کا متقاضی ہے)

امریکی افواج میں فورسٹار جرنیلوں کی تقرری اور کارکردگی اب کوئی نئی یا حیرت انگیز خبر نہیں رہی۔ حال ہی میں پینٹاگون نے لڑاکا شعبوں میں خواتین پر عائد بعض ایسی روائتی قدغنوں اور پابندیوں کو ختم کر دیا ہے جو عرصہ دراز سے چلی آ رہی تھیں …… اور ان پر ایک الگ کالم لکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -