باہمی رضامندی سے جسمانی تعلق قائم کرنے اور پھر شادی سے انکار کا معاملہ ، بھارتی سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سنا دیا 

باہمی رضامندی سے جسمانی تعلق قائم کرنے اور پھر شادی سے انکار کا معاملہ ، ...
باہمی رضامندی سے جسمانی تعلق قائم کرنے اور پھر شادی سے انکار کا معاملہ ، بھارتی سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ سنا دیا 

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی سپریم کورٹ نے کہاہے کہ باہمی رضامندی اور طویل عرصہ تک ایک ساتھ رہنے والے جوڑوں کے درمیان جسمانی تعلقات ہوتے ہیں اور لڑکا خاتون کے ساتھ شادی کا وعدہ پورا نہیں خرتاتو ا سے جنسی زیادتی نہیں کہا جا سکتا ۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس دوران بھارتی عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے جھوٹے وعدے کرنا غلط ہے ، یہاں تک کہ عورت کو بھی شادی کا جھوٹا وعدہ نہیں کرنا چاہیے اور پھر تعلق ختم کرکے چلے جانا ۔ طویل عرصہ تک ایک ساتھ رہنے اور جسمانی تعلق قائم کرنے کو ریپ کا درجہ نہیں دیا جا سکا ۔

سپریم کورٹ میں جس کیس کی سماعت جاری تھی وہ کال سینٹرز کے دو ملازمین کے متعلق تھا جو کہ گزشتہ پانچ سالوں سے ’ لِیو اِن ریلیشن شپ ‘ میں رہ ہے تھے ، جس میں لڑکے نے بعدازاں دوسری لڑکی سے شادی کر لی تھی جس پر سابقہ محبوبہ نے لڑکے پر ریپ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا ، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ اس شخص نے شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے جنسی تعلق قائم کیا ۔ 

مزید :

بین الاقوامی -