پاکستان کے پنجاب میں بھی کسان سینکڑوں ٹریکٹر لے کر سڑکوں پر نکل آئے

پاکستان کے پنجاب میں بھی کسان سینکڑوں ٹریکٹر لے کر سڑکوں پر نکل آئے
پاکستان کے پنجاب میں بھی کسان سینکڑوں ٹریکٹر لے کر سڑکوں پر نکل آئے

  

پاکپتن(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی کسانوں کی طرح پاکستان کے پنجاب میں بھی کسان سینکڑوں ٹریکٹر لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور ناقص بیج ملنے ، بجلی کے بھاری بلوں اور میٹراتارے جانے کیخلاف مختلف علاقوں سے تحصیل آفس عارفوالا پہنچ گئے اور واپڈا کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، اس دوران سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی واپسی کیلئے بھی ٹریکٹرو ں پر بینر لگے دکھائی دیئے اور مستقبل قریب میں صوبائی دارلحکومت لاہور کی طرف مارچ کی بھی تیاری شروع کردی ہے۔ 

کسان رہنماﺅں نے بتایا کہ بنیادی طورپر احتجاج واپڈ اکے خلاف ہے ، ناجائز ٹیکس لگا لگا کر بہت زیادہ بل بھیجے جارہے ہیں، اس کے علاوہ حکومت نے پرانی رکی ہوئی وصولیاں کرنے کا اچانک فیصلہ کرلیا جن کی فوری ادائیگی ممکن نہیں، عدم ادائیگی پر بجلی کے میٹر اور ٹرانسفارمر اتارے جارہے ہیں اور اس وقت گندم کی بیجائی کیلئے پانی کی ضرورت ہے لیکن کنکشن منقطع کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں گندم کی قلت کا بھی سامنا ہوسکتاہے ۔ رہنماﺅں کاکہناتھاکہ بل قسطوں کی صورت میں کردیں تو بھی ادائیگیاں ہوسکتی ہیں یا موجودہ بل ہی وصول کریں، پانچ ہزار روپے کی بجلی استعمال کرتے ہیں اور 35000روپے کا بل آتا ہے ، بچوں کی روٹی بھی پوری نہیں ہوپارہی۔ 

ان کامزیدکہناتھاکہ گندم کے نرخ سندھ میں بڑھ گئے ہیں لیکن پنجاب میں نہیں بڑھائے گئے ، بیج بھی دو نمبر فراہم کیے جارہے ہیں، کھاد کی بات کریں تو نائٹروفاس کی بوری 3600روپے ، یوریا 2000اور ڈی اے پی 5500روپے میں مل رہی ہے ، مکئی کا بیج بھی دونمبر ہے جو دونمبری کے علاوہ بلیک میں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ 

اس دوران کئی ٹریکٹروں پر ایسے بینرز بھی لگے دکھائی دیئے جن پر پاکستان کسان اتحاد کی طرف سے لاہور مارچ کا عندیہ دیاگیا۔

اس دوران ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ کسانوں کو بھی سابق حکمرانوں کی یاد ستانے لگی اور بینرز پر لکھوا رہا تھاکہ ’شہبازشریف آپ کی پنجاب کو ضرورت‘۔

مزید :

کسان پاکستان -