لندن کی جائیدادیں کب خریدیں ؟ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتا دیا

لندن کی جائیدادیں کب خریدیں ؟ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز ...
لندن کی جائیدادیں کب خریدیں ؟ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بتا دیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت جاری ہے جس دوران جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ لندن کی جائیداد میرے جج بننے سے پہلے کی ہے ،جائیدادیں خریدتے وقت میرے بچے بالغ تھے ، سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد کوئی جائیداد نہیں خریدی۔میری کزنز نے کہا ریفرنس آپ کے دوستوں نے خارج کیا ہے، کزنز نے کہا آپکے ساتھی آپکے خلاف کیوں فیصلہ کریں گے، اپنے کزنز کی بات سننے کے بعد میں نے ان سے ترک تعلق کر دیا ،میر کیریئر تو 65 سال کی عمر میں ختم ہو جائے گا لیکن شہرت قبر تک ساتھ چلے گی اس لیے میں نہیں چاہتا اچھی شہرت پر حرف آئے۔

سپریم کورٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت جاری ہے جس دوران جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ کسی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں چاہ رہا ، جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا اور میرا تعلق ایک آئینی ادارے سے ہے اس لیے ہمیں بہت سی چیزوں پررائے دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ججزکی ایک ڈیوٹی صبروتحمل کرنابھی ہے،لوگ آپ کیخلاف ہیں توآپ کے حامی بھی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت سے درخواست کیا کہ بہتر ہو گا تمام سوالات آخر میں پوچھے جائیں ، 23 مئی 2019 کومیرے خلاف ریفرنس چیف جسٹس کوبھجوایاگیا،29 مئی کوریفرنس کی خبرمیڈیاپرآئی،مجھے اورمیرے اہلخانہ کوبدنام کیاگیا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی درخواست میں فل کورٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت میں کہا کہ پوری دنیامیں میرے خلاف پروپیگنڈاکیاگیا، میری کزنز نے کہا ریفرنس آپ کے دوستوں نے خارج کیا ہے، کزنز نے کہا آپکے ساتھی آپکے خلاف کیوں فیصلہ کریں گے، اپنے کزنز کی بات سننے کے بعد میں نے ان سے ترک تعلق کر دیا ،میر کیریئر تو 65 سال کی عمر میں ختم ہو جائے گا لیکن شہرت قبر تک ساتھ چلے گی اس لیے میں نہیں چاہتا اچھی شہرت پر حرف آئے۔ ان کا کہناتھا کہ لندن کی جائیداد میرے جج بننے سے پہلے کی ہے ،جائیدادیں خریدتے وقت میرے بچے بالغ تھے ، سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد کوئی جائیداد نہیں خریدی، شادی سے پہلے میری اہلیہ ٹیچرتھیں،بہترین تنخواہ لیتی تھیں، ریٹرنزمیں کبھی بھی اہلیہ کی جائیدادیں ظاہرنہیں کیں،قانون کی خلاف ورزی ہورہی تھی توایف بی آرنے نوٹس کیوں نہیں لیا؟۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہناتھا کہ موجودہ کیس اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے، آزادی اظہار رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اپنی درخواستوں میں اٹھائے گئے نکات پر دلائل دیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی فالتو بات کروں تو میری سرزنش کی جائے،سپریم کورٹ کے جج اوراہلخانہ کے خلاف سرکاری چینل سے پروپیگنڈا کیا گیا۔جسٹس فائز عیسیٰ دوران سماعت جذباتی ہو گئے اور کہا کہ مسئلہ 10 لاکھ تنخواہ کا نہیں، ملک کے مستقبل کا ہے،میں یہ جنگ اپنے ادارے کے لیے لڑ رہا ہوں، اگر میری جگہ آپ کی اہلیہ اور بچے ہوتے تو آپ لوگ کیا کرتے؟ کل کو کسی بھی جج کو پروپیگنڈے میں گھسیٹا جاسکتا ہے، اگر فاضل ججز کو کوئی بات گراں گزری ہوتو معذرت چاہتا ہوں۔ جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں، آپ دلائل جاری رکھیں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -