گمشدہ ریلوے ٹریک کی تلاش

گمشدہ ریلوے ٹریک کی تلاش
گمشدہ ریلوے ٹریک کی تلاش
سورس:   Facebook

  

ڈیڑھ دہائی بیت گئی....سمجھ نہیں آتی کہ ہر آنے والی حکومت  مشرقی سرحد پر واقع آخری شہر کے صدی پرانے تاریخی ریلوے ٹریک کو اہمیت کیوں نہیں دیتی؟؟؟پندرہ سولہ برس ہونے کو ہیں ،تحصیل شکرگڑھ کے 10 لاکھ باسی ٹرین کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس گئے ہیں مگر ابھی تک کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی.....ماضی قریب میں جنرل پرویز مشرف بزور طاقت ملک کے سیاہ سفید کے مالک ٹھہرے ،بی بی کی شہادت کے بعد زرداری کی سیادت میں پی پی کا راج آیا،نواز شریف دس سالہ جلاوطنی بھگت کر تیسری مرتبہ وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھے اور اب کپتان کا عہد چل رہا ہے.....مذکورہ ادوار میں شیخ رشید،غلام احمد بلور،سعد رفیق اور اعظم سواتی ریلوے کے "پردھان" بنے ہیں مگر کسی" صاحب مسند"کو نا جانے اس"زمین بوس ٹریک" کی حالت پر رحم کیوں نہیں آیا...؟؟؟

حکمران تو حکمران ہوتے ہیں جو مزاج میں آئے کرتے ہیں...اپنے گریبان میں جھانکیں تو بھی شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملتا..... شکرگڑھ کے بزرگ سیاستدان جناب انور عزیز اور جناب اشفاق تاج تو چلے گئے...دونوں بھلے آدمی تھے...کسی کا فائدہ نہیں کیا تو کسی کو نقصان بھی نہیں پہنچایا......انور عزیز صاحب کے فرزند ارجمند جناب دانیال عزیز دو مرتبہ وفاقی وزیر بنے....دانیال کی اہلیہ محترمہ مہناز عزیز 2018کے الیکشن میں شکرگڑھ کی تاریخ کی سب سے بڑی لیڈ لیکر ن لیگ کے پلیٹ فارم سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں.....محترمہ وجیہہ قمر مخصوص سیٹ پر پی ٹی آئی کی ایم این اے اور وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ہیں...جناب طارق انیس وفاقی وزیر اوران کے بھائی جناب کرنل عباس بھی صوبائی پارلیمانی سیکرٹری رہے.....جناب ڈاکٹر طاہر جاوید دو مرتبہ صوبائی وزیر جبکہ ان کے والد گرامی ڈاکٹر نعمت علی جاوید تحصیل اور ضلع ناظم بنے....میاں رشید رکن قومی اسمبلی جبکہ ان کی اہلیہ اور بیٹے نے ایم ایل اے شپ انجوائے کی....پیر سید سعید الحسن شاہ دوسری مرتبہ صوبائی وزیر ہیں....مولانا غیاث الدین اور رانا منان خان بھی گذشتہ 8سال سے رکن پنجاب اسمبلی چلے آرہے ہیں مگر نا جانے یہ سب قد آور سیاسی لوگ نارووال شکرگڑھ ٹرین سروس کی بحالی کا کیس کیوں نہیں لڑسکے....؟؟؟

شکرگڑھ سے ہمارے صحافی دوست ملک محمد یونس کی 14 جون 2000 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق 1927میں قائم ہونے والی نارووال چک امرو ریلوے لائن پر نوے کی دہائی میں ٹرینوں کی لائن لگی ہوتی تھی....پھر نا جانے کیا ہوا کہ ٹرین سروس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی....2000کے بعد صرف پانچ سال میں سارے سسٹم کا" ستیا ناس "ہو گیا.....2003تک اس ٹریک پر روزانہ" اکلوتی گاڑی" "ہچکیاں "لیتی تھی جبکہ 2005میں ہفتے میں ایک یعنی" سنڈے ٹرین"رہ گئی...217اپ ،218ڈائون، یہاں چلنے والی آخری ریل گاڑی تھی.....پھر اس کا "بوڑھا انجن" بھی "جواب دے گیا اور یہ ٹریک اجڑ گیا.....رپورٹ کے مطابق 1971کے بعد یہ ٹریک باقاعدہ مرمت نہیں ہوا.....2003کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے اس ریلوے لائن کو زمین کھا گئی... نارووال سے شکرگڑھ جاتے ہوئے بائیں ہاتھ درختوں کے "جھرمٹ "میں ایک سرسبز" پگڈنڈی" ساتھ ساتھ دوڑتی ہے.....یہ کوئی" سیاحتی زون" نہیں بلکہ وہی تاریخی ریلوے ٹریک ہے جو خود رو جھاڑیوں میں کھو کر رہ گیا ہے.....

2003سے یاد آیا کہ اس زمانے میں یہاں ٹرین" گدھا گاڑی "کی طرح چلتی تھی....گوجرہ کے شہر خموشاں میں آسودہ خاک بہت ہی پیارے صحافی نوید بخاری مرحوم کاشف لطیف شیخ کے ساتھ  اسی سال خاکسار کے ولیمے پر ٹرین کے ذریعے شکرگڑھ پہنچے ....وہ اکثر اس یاد گار سفر کو یاد کرکے لطف اندوز ہوتے...وہ  کہتے یار عجیب ریل سروس دیکھی کہ جس کا جہاں دل چاہتا چلتی ٹرین سے اپنے گائوں،ڈیرے اور حویلی اتر جاتا.......

بات کہاں سے کہاں نکل گئی.....ریلوے وزیروں کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیں تو سعد رفیق سب سے آگے نظر آتے ہیں.....سنا ہے ان کے دور میں نارووال میں بھی سٹیٹ آف دی آرٹ ریلوے سٹیشن بنا مگر افسوس ترقی کا یہ سفر بھی ضلعی ہیڈ کوارٹرز تک ہی محدود ہو کر رہ گیا.......

ابھی پچھلے ہفتے نارووال میں سڑک کنارے چائے پیتے ہم ضلع کے معتبر اخبار نویس بزرگوارم  ملک سعید الحق سے یہی شکوہ کر رہے تھے کہ" ترقی صاحبہ" شکرگڑھ جانے سے کیوں گھبراگئیں..... لاہور کے صحافی دوست عارف چودھری کی والدہ کے جنازے پر ان کے آبائی گائوں چک صفدر جانا ہوا تو واپسی پر ملک صاحب نے فیض احمد فیض پارک کے قریب ہی ایک" دیسی ٹی سٹال "پر محفل جمالی.....شکرگڑھ پریس کلب کے مدارالمہام برادرم اظہر عنایت ،عمران نومی،مجیب اللہ اور شاہد صاحب بھی تشریف فرما تھے......ملک صاحب کا شمار جناب احسن اقبال کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے....ہمارے سیاستدانوں کو "خوشامدی حواریوں" کے بجائے ملک صاحب ایسے عقل مند مشیر مل جائیں تو سارے شہر نارووال کی طرح چمک اٹھیں....لیکن لیڈر بے چارے بھی کیا کریں" خالی پیٹ "دماغ کی بتی کب جلتی ہے،یہی وجہ ہے کہ وہ کسی عالی دماغ کے بجائے کرنسی کو پسند کرتے ہیں....خیر ہم نے ملک صاحب  سے استفسار کیا کہ نارووال یونیورسٹی،یو ای ٹی کیمپس،سپورٹس سٹی اور میڈیکل کالج سمیت ہر منصوبہ نارووال شہر کی حدود میں ہی کیوں؟احسن اقبال سے کہیے گا کہ آپ صرف نارووال شہر نہیں پورے ضلع بلکہ سارے ملک کے لیڈر ہیں....اگر ایک آدھ پراجیکٹ  کا رخ شکرگڑھ کی طرف بھی کردیا جاتا تو کتنا اچھا ہوجاتا.......کچھ نہیں تو ادھر نارووال یونیورسٹی کا کیمپس اور پاسپورٹ کا سب آفس ہی بنا دیتے تو  پسماندہ تحصیل کے لوگوں کی  "اشک شوئی" ہو جاتی....ملک صاحب بڑے دل کے بڑے آدمی ہیں...مٹھاس بھری چائے پلا کر کڑوی باتیں سنتے اور مسکراتے رہے....میزبان تھے ،مہمانداری کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے آخر میں سنجیدگی سے بولے کہ احسن اقبال پر تنقید آپ کا حق ہے لیکن کبھی شکرگڑھ کے سیاستدانوں سے بھی پوچھیےگا کہ وہ سالہا سال سے کیا کر رہے ہیں....؟؟؟؟

دھند چھٹ چکی ،موسم نے بھی انگڑائی لے لی...شکرگڑھ کے صحافی دوست موسم کی خبروں سے آگے نکلیں....قطب شاہ مزار کے احاطے میں ایک گول میز کانفرنس کا اہتمام کریں جس میں تمام حکومتی اور اپوزیشن سیاستدانوں کو بلاکر عوامی مفاد کا یہ بڑا مسئلہ ان کے سامنے رکھیں .....ہو سکتا ہے کسی صاحب دل رہنما کے دل میں عوام کے دلوں کی یہ بات اتر جائے اور "گم شدہ" تاریخی ریلوے ٹریک کا کوئی "سراغ" مل جائے........"ٹرین کانفرنس" اپنی جگہ مقدم ،ویسے یہ محترمہ وجیہہ قمر کی قابلیت کا بھی امتحان ہے..... ویسے ہمارے " مولوی صاحب "بھی جس طرح وکٹ سے باہر نکل کر کھیل رہے ہیں، ایک چھکا یہ بھی لگا دیں تو ہمیشہ کے لیے فتح یاب ہو جائیں گے.....چلتے چلتے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس قاسم خان سے بھی استدعا ہے کہ وہ لاہور نارووال روڈ کے ساتھ ساتھ شکرگڑھ ٹرین سروس کی بندش کا حال بھی معلوم کر لیں کہ رکاوٹ کیا اور کہاں ہے......؟؟؟ہم نے تو" قصہ دل" چھیڑ دیا ....دیکھتے ہیں کب " محبت بھرا سندیسہ" آتا ہے .....

نارووال سے چک امرو 52کلو میٹر پر محیط  تاریخی ریلوے ٹریک کو کب گرین سگنل ملتا ہے.....کب سیٹی بجتی اور کب شکرگڑھ کے لیے "گڈی" چلتی ہے....؟؟؟؟؟

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -