ہند کی حالت اور ابتدائی قومیں

ہند کی حالت اور ابتدائی قومیں
ہند کی حالت اور ابتدائی قومیں

  

 زمانہ ہائے دراز گزر چکے ہیں جب ہند ایک جنگلی ملک تھا اور بڑے بڑے بنوں سے پٹا پڑا تھا۔ جنگلی جانور اور درندے بنوں میں پھرا کرتے تھے۔ اژدھے درختوں کے سائے میں رینگتے رہتے تھے۔ نہ کہیں شہر تھے نہ دیہات و قصبات، نہ گھر تھے نہ سڑکیں۔

 ہاں کہیں کہیں تھوڑے سے جنگلی آدمی بھی بسے تھے۔ وہ ریچھوں کی طرح غاروں میں رہتے تھے، یا بندروں کی طرح درختوں میں بسیرا کرتے تھے۔ یہ لوگ قد کے چھوٹے، رنگ کے سیاہ، خدو خال کے بھونڈے بدن سے ننگے اور غلیظ تھے۔ جنگل کے میوے بیر اور ساگ پات کھاتے تھے یا ان جنگلی جانوروں اور ہرنوں کا گوشت جن کو وہ مارتے تھے۔ ان کے پاس چاقو یا چھرے نہ تھے۔ ان کے بجائے چقماق پتھر کے تیز ٹکڑوں سے کاٹنے کا کام لیتے تھے۔ ہم ان کو پتھر کے زمانے کے لوگ کہہ سکتے ہیں۔ یہ پتھر کے ٹکڑوں کو رگڑ کر آگ بنانا جانتے تھے۔

 مدتوں تک ان لوگوں کی یہی حالت رہی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ کچھ ترقی کرنے لگے۔ یعنی رہنے کے لیے جنگلوں ہی میں چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنانے لگے۔ پتوں سے یا ان جانوروں کی کھال سے جن کا وہ شکار کرتے تھے، تن بھی ڈھانکنے لگے۔ اب انہوں نے تیر کمان اور نوکدار بھالے بھی بنا لیے تھے، جن سے ہرن کا شکار کرتے تھے۔ ان کی خوراک بھی بہتر تھی، جس کے سبب سے اگلے جنگلی آدمیوں کی نسبت یہ لوگ زور آور اور تناور تھے۔ یہ مٹی کی ہنڈیاں بناتے تھے اور ان میں ساگ پات وغیرہ کھانے کی چیزیں پکاتے تھے۔ یہ لوگ دھاتوں سے کام لینا بھی جان گئے تھے، اور ان کی کلہاڑیاں اور نیزوں کی بھالیں بناتے تھے۔ ہم ان کو دھات کے زمانے کے لوگ کہہ سکتے ہیں۔

کول

 نہایت ہی قدیم زمانے میں جو بہت سی قومیں ہند میں آباد تھیں۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہوا ہے وہ دو بڑی نسلوں سے تھیں۔ ایک کول، دوسری دراوڑ۔ اس وقت کول نسل کے لوگ تو شمالی اور وسطی ہند میں آباد تھے اور دراوڑ نسل والے جن کی نسبت معلوم ہوتا ہے کہ تعداد میں ان سے بہت زیادہ تھے۔ ملک کے ہر حصے میں رہتے سہتے تھے۔

 بعضوں کا خیال ہے کہ کول دھات کے زمانے کے جنگلی آدمیوں کی اولاد سے تھے جس طرح دھات کے زمانے کے لوگ پتھر کے زمانے والوں سے بڑھ نکلے تھے اسی طرح دھات کے زمانے والوں میں جو لوگ زور آور، دانا اور بہتر تھے، وہ کول کہلائے۔ بعض مورخ اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ کول نسل کے لوگوں کا اصلی وطن اور تھا۔ جہاں سے اٹھ کر شمال مشرق کی راہ ہند میں وارد ہوئے۔ ہمیں تحقیق معلوم نہیں کہ ان دونوںآراءمیں سے کونسی درست ہے۔ پختہ طور پر تو ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ سب سے قدیم زمانے میں یہ لوگ شمالی اور وسطی ہند میں آباد تھے۔

 کول مویشی نہ رکھتے تھے۔ زیادہ تر شکار پر بسر اوقات کرتے تھے۔ زمین کھود کر اناج بھی بوتے تھے۔ اول اول کھیتی کیاری کے لیے لکڑی کے اوزاروں سے کام لیتے تھے، پھر لوہے کے اوزار بھی بنانے لگے تھے۔ یہ لوگ قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ہر ایک قبیلہ ایک چھوٹے سے گاﺅں میں آباد تھا۔ یہ پتھروں یعنی اپنے بزرگوں کی روحوں کو پوجتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ جنگلوں اور بنوں میں رہتے ہیں جو قومیں وقتاً فوقتاً ہند میں آئیں۔ کول کے اکثر فرقے ان کے ساتھ ایسے مل جل گئے کہ اب ان کو جدا کر کے بتانا ممکن نہیں ہے مگر ان کے بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو ہندوﺅں کو پسند نہیں کرتے اور ہزاروں برس سے ان سے الگ تھلگ چلے آئے ہیں۔ ان فرقوں کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے اور ان لوگوں کا شمار جو ان فرقوں میں شامل ہیں۔ تقریباً 30 لاکھ ہے۔ یہ مغربی بنگال، چھوٹا ناگپور اور اڑیسہ اور ممالک متوسط کے پہاڑی علاقوں میں آباد ہیں۔ بھیل اور سنتال ان کے سب سے بڑے فرقے ہیں۔

کتاب: ای مارسڈن کی کتاب ”تاریخِ ہند “ سے اقتباس

مزید :

کتابیں -