چائے کا رومانس

چائے کا رومانس
چائے کا رومانس

  

تحریر ۔۔وقاراحمد ملک

پہلی قسط

دسمبر شروع ہو چکا ہے۔ گلابی جاڑوں نے میرے شہر میں طنابیں کسنا شروع کر دی ہیں۔ اس سردی کا موسم آن پہنچا ہے جس میں دن مختصر ، شامیں لمبی اور راتیں طویل ہو جاتی ہیں۔ لیکن ابھی اس سردی کا انتظار ہے جس سے ناک سرخ، آنکھیں نم اور ہاتھ سفید ہو جاتے ہیں۔ وہ سردی جو میرے گرمیوں کے ستائے ہوئے سرد خون کو اتنی حرارت دیتی ہے کہ خون کھولنے لگ جاتا ہے اور میں اپنے اس مادیت پرستی کے ناپاک وجود کا بوجھ اٹھا کر انجانی راہوں پر چل نکلتا ہوں۔ سردیوں کی یہ مقدس دھوپ چند دنوں کے لیے میرے من کا چولا دھو کر میری روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ اور میں ایک عجیب و غریب اور پر سکون دنیا کا باسی بن جاتا ہوں۔ جاڑا میرے لڑکپن کے سوئے ہوئے لوفر کو جگا دیتا ہے۔ اور میرے اس دنیا دار قسم کے وجود کو شہر کی خاموش گلیوں، خزاں رسیدہ درختوں کے بیچوں بیچ بنی راہداریوں اور شہر کے انجان کونوں کھدروں کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ اپنے ہی شہر کی گلیاں انجان محسوس ہو رہی ہیں۔ اپنے جنم بھومی کے بیسیوں کچے پکے مکان میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں۔ کیا یہ پیارے پیارے پھول سے نازک چہرے میرے شہر کے باسی ہیں؟ ارے یہ کچی سڑک کب پکی بنی؟ اے میرے ہم نشیں ذرا بتانا وہ جو اس نکڑ پر برگد کا پرانا درخت ہو ا کرتا تھا وہ کیا ہوا؟ گلابی جاڑا مسکراتا ہے اور میرے بے مہر اور بے روح جسم کو تھپتھپاتے ہوئے کہتا ہے کہ پیارے دنیا کے پیچھے بھاگو گے تو اپنا شہر تو درکنا ر اپنے خاندان اور اپنے آپ کو بھی بھول جاﺅ گے۔ جب تک جان میں جان ہے اپنوں کو مت بھول ۔ ےہ شہر تمہارا اپنا ہے اس شہر کی گلیوں اور بازاروں کو بھول گیا تو اپنا آپ بھی فراموش کر بیٹھے گا۔ 

میں اس وقت کالج لائبریری کے سامنے لان میں بیٹھا ابتدائی موسم سرما کی دھوپ کے مزے لے رہا ہوں۔ شیشم اور سفیدے کے درختوں کے خشک پتے میرے چاروں طرف بکھرے پڑے ہیں۔ اس بے برگ و بار ماحول میں اچانک بڑے سے پھول دا ر مگ میں چائے آ جاتی ہے۔ چائے کی بہار دسمبر کی خزاں سے گلے ملنے لگی ہے۔ اے میری زندگی کی ساتھی چائے! تو نہ ہوتی تو میں کیسے زندگی گزار سکتا تھا۔ ہلکی ہلکی سرد ہوا میں مَیں بڑا سا مگ ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ آہستہ چسکیاں لے رہا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ چائے کی اور میری یہ تھوڑی دیر کی رفاقت طویل سے طویل تر ہو جائے۔ نیلگوں آسمان کی اتھاہ گہرایﺅں میں ایک چیل بیہودہ قسم کی اڑانیں بھر رہی ہے۔ موسم خزاں اور سرما کے مخصوص پرندے ہزاروں میل دور سائبیریا سے ہجرت کر کے میرے وطن آچکے ہیں۔ان میں سے کئی ایک ہمارے کالج کے بوڑھے درختوں پر ڈیرا جمائے انجانی بولیوں میں جانے کن بچھڑے اور بکھرے ہوئے ساتھیوں کو ےاد کر رہے ہیں۔ میرے اوپر رومانوی اور افسانوی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ شاید ایسی ہی کسی کیفیت میں s john keatنے اپنی شہرہ آفاق نظم ode to autumn لکھی ہو گی۔ جس میں اس جواں مرگ شاعر نے خزاں کے قدرِ ناشناس حسن کو ہمیشہ کے لیئے اَمر کر دیا۔ 

میں اپنی آنے والی چھٹیوں کو گننے لگ گیا ہوں۔ سیل فون کے کیلینڈر میں اتوار سے ملحق چھٹیاں دیکھ رہا ہوں۔ اس مرتبہ میں نے لاہور جانا ہے۔ لیکن کسی کو بتا کے نہیں جاﺅں گا۔ کسی کے ساتھ میں بور ہو جاتا ہوں ۔ میرے ساتھی انار کلی اور ماڈرن مارکیٹوں کے رسیا ہیں۔ مجھے ان کاروباری مراکز سے خوف آتا ہے۔میں نے تو اپنے محبوب لاہور کی گلیوں کو دیکھنا ہے۔ اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیاں میرا ا نتظار کر رہی ہیں۔اے حمید بھی شاید میرا انتظار کرتا رہا ہو گا۔وہ مجھے اور میں اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ میں اسے اپنے جنم بھومی کی کہانیاں سنانا چاہتا تھا اور وہ مجھے امرتسر کے اجڑے دیار کے نوحے ۔ سنا ہے کہ بیچارہ مر گیا میرا انتظار کرتے کرتے۔ لے گیا اپنے ساتھ ہی وہ کمپنی باغ کی یادوں کو۔سیلون کی چائے بھی اپنی قبر میں لے گیا۔

 اب کے جب میں لاہور جاﺅں گا تو دیکھوں گا کہ اے حمید کے بغیر لاہور کیسا لگتا ہے۔ کیا اب بھی موچی دروازے کی تنگ و تاریک گلیوں میں تھڑے پر چائے پکتی ہے ۔ کیا اب بھی کشمیری لوگ سبز چائے کو دم دے کر باقر خانیوں کے ساتھ نوش کرتے ہیں؟ میرے دل ، میری جاں لاہور میں آ رہا ہوں تیری گلیوں کو دیکھنے کے لیئے۔ بس ذرا اتوار کے ساتھ کوئی چھٹی گانٹھ لوں۔ لاہور مجھے تیری مارکیٹوں کے زرق برق کپڑوں کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی چمکدار لیدر کے جوتوں اور جیکٹوں کی۔ میرے گھر میں اتنی فالتو جگہ نہیں ہے کہ جوتوں اور کپڑوں کے انبار لگا دوں۔ مجھے تو چپل پہن کے آناہے تاکہ تیر ی گلیوں کی زیارت کرنے میں آسانی رہے۔ اس مرتبہ میں نے میانی صاحب بھی جانا ہے۔ وہاں درویش لاہور کی آخری آرام گاہ کو دیکھنا ہے بلکہ ایک قرض چکانا ہے۔ سناہے کو اس درویش ساغر صدیقی کے مرقد پر یہ شعر لکھا ہو ا ہے

جو بھی دیکھے میری مرقد کو

قرض ہے اس پہ چار پھولوں کا

اب کے سردیاں کافی لیٹ ہو گئی ہیں۔ مجھے شاید وہ سردیاں مل ہی نہ سکیں جن کی تلاش میں کب سے بیٹھا ہو ا ہوں۔ مجھے دادی اماں کے زمانے والی سردیاں ڈھونڈنی ہیں۔ جب جاڑے کی طویل شامیں ہم باورچی خانے کے اپلوں کے دھنویں میں گزارا کرتے تھے۔ یہ تب کی بات کر رہا ہوں جب کچن ایجاد نہیں ہوا تھا۔ وہ کچن جس میںاپلوں اور لکڑی کے دھنویں کا گزر نہیں ہو تا۔ وہ کچن جس میں سنگ مر مر کے پتھر جڑے ہوتے ہیں اور اس پتھریلے کچن کے اندر پتھر دل والی حسینائیں بد ذائقہ کھانے بنانے میں اپنی نظیر نہیں رکھتیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ چائے بنانے کا مقدس عمل بھی کھڑے ہو کر کیا جاتا ہے۔چائے وقت مانگتی ہے ، پینے کے لیئے بھی اور بنانے کے لیئے بھی۔ جو اسے وقت نہیں دیتا چائے اسے بد دعائیں دیتی ہے۔اس فقیرنی کی بد دعاﺅںسے بچو۔ چائے بیٹھ کر پیو اور بیٹھ کر بناﺅ۔ 

سردیوں کی مخصوص خوشبو پورے کالج میں پھیلی ہوئی ہے۔ عجیب ماحول ہے۔ نہ رونق نہ سکوت۔ نہ شور نہ خاموشی۔ بڈھے طوطوں کا ایک جوڑاکب سے سامنے شہتوت کے درخت پر بیٹھا ہے۔ ان کی بزرگی کا اندازہ میں نے ان کی خاموشی سے لگاےا ہے۔ شاید اب ان کے پاس بولنے کو کچھ نہیں بچا۔ جب بولنے کو کچھ نہ بچے تو مر جانا چاہیئے۔ میری چائے ختم ہو چکی ہے۔ بڑا سا مگ بھی جلد ختم ہو گیا۔ آخر ختم ہونا تھا۔ میرا کوئی قلبی دوست آئے تو میں اس کو صرف چائے پلاتا ہوں۔ اس کے ساتھ لوازمات شامل نہیں کرتا۔ اگر اس کے ساتھ بسکٹ، پکوڑے منگوا لوں تو چائے ناراض ہو جاتی ہے۔ چائے شراکت پسند نہیں کرتی۔ میں مہمان کو اکیلے چائے پیش نہیں کرتا بلکہ خود بھی پیتا ہوں۔ چاہے مجھے روزانہ 20 مگ ہی کیوں نہ پینے پڑیں۔ لیکن چھوڑو ۔۔۔محبت میں گنتی نہیں کی جاتی۔ اور مجھے تو چائے سے محبت ہی نہیں عشق ہے۔ (جاری ہے )

مزید :

کتابیں -