ملکی سیاست اپنی ڈگر پر،ملاقاتیں جاری،امیر جماعت اسلامی کی بھی چودھریوں سے ملاقات،گزشتہ روز کپتان بھی ملے

ملکی سیاست اپنی ڈگر پر،ملاقاتیں جاری،امیر جماعت اسلامی کی بھی چودھریوں سے ...
 ملکی سیاست اپنی ڈگر پر،ملاقاتیں جاری،امیر جماعت اسلامی کی بھی چودھریوں سے ملاقات،گزشتہ روز کپتان بھی ملے

  

روس اور یوکرائین میں ہونے والے جنگ نے پاکستان میں جاری سیاسی محاذ آرائی کو بالکل متاثر نہیں کیا،ماسوا اس امر کے کہ بعض محافل میں اس حوالے سے بات ہو تو وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس کے بارے میں منفی اور مثبت خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے،تاہم ایسے افراد کی بھی کمی نہیں،جو اس جنگ کو کورونا سے متاثر عالمی معیشت کے لئے مزید نقصان دہ سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں اگر روس اور یورپی ممالک کے ساتھ امریکہ کے درمیان حالات کو سنبھالنے کی بہتر کوشش ہوئی تو اس جنگ کا دائرہ پھیل بھی سکتا ہے اور اس صورت میں خطرناک ہتھیاروں کا استعمال بھی خارج ازامکان نہیں،تاحال تو یورپ اور امریکہ کی طرف سے یوکرینی متاثرہ عوام کو قبول کرنے اور یوکرائن کو ہتھیار مہیا کرنے کے سوا کوئی عملی مدد نہیں کی گئی،حالانکہ یوکرائن کے یہودی صدر نے بار بار درخواست کی،اس کے بعد ہی وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یورپ والوں نے یوکرائن کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔

روس اور یوکرائن کی اس لڑائی نے پاکستان کو بھی معاشی طور پر بری طرح متاثر کیا ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور قومی خسارے کے باعث پہلے ہی صارفین کرب میں مبتلا ہیں اور مہنگائی کا جن اپنے پر پھیلائے چلا جا رہا ہے،حقیقتاً اب روٹی کھانا اور پیٹ بھرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،مہنگائی ہر روز بڑھ رہی ہے۔ اب تو عام آدمی دالیں کھانے سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں کہ یوٹیلیٹی سٹوروں پر بھی دالوں کے نرخوں میں 15روپے سے45روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا ہے اور یوں مشکل در مشکل درپیش ہے۔

دوسری طرف ہماری سیاست کی گرما گرمی اور محاذ آرائی کی شدت کم ہونے کو نہیں آئی،پیپلزپارٹی نے عدم اعتماد کے حوالے سے جو سلسلہ شروع کیا وہ مزید پھیل گیا۔آصف علی زرداری، محمد شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن  کی آپس میں ملاقاتوں کے علاوہ مسلم لیگ(ق) اور جماعت اسلامی تک بھی سلسلہ دراز ہوا اور دو روز قبل جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق بھی چودھری کے گھر چلے گئے اور ان کے ساتھ موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے بات کی۔چودھریوں سے آصف علی زرداری کے بعد محمد شہباز شریف اور پھر مولانا فضل الرحمن بھی ملے، جبکہ خود پرویزالٰہی نے بلاول ہاؤس آصف علی زرداری کے عشائیہ میں بھی شرکت کی تھی۔ اب یہ ملاقات بھی اس ملاقات کے بعد ہوئی،جو آصف علی زرداری کی منصورہ میں سراج الحق سے ہوئی۔یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہنے کا امکان ہے،ابھی تک کوئی حتمی صورت نظر نہیں آئی۔تاہم اپوزیشن عدم اعتماد کے معاملہ پر کوشش کرتی ہی نظر آ رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی گزشتہ روز اپنے اتحادی چودھریوں سے ملاقات کر لی، وہ خصوصی طور پر لاہور آئے اور چودھری ہاؤس گئے، تبادلہ خیال ہوا،ملاقات کے بعد اچھا تاثر دیا گیا،چودھری برادران اپنی اہمیت سے آگاہ اور سیاست کے کھیل کے پرانے کھلاڑی ہیں، انہوں نے مہنگائی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا،کپتان نے یہ ملاقات اپنی تقریر کے ایک روز بعد کی،تقریر میں وہ مہنگائی کم کرنے کے لئے عوام کو ریلیف دینے کا اہم اعلان کر چکے تھے،کیا چودھری مطمئن ہوئے،یہ سوال اہم ہے؟

اس اثناء میں بلاول بھٹو اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق کراچی سے جلوس لے کر نکل چکے ہوئے ہیں جبکہ تحریک انصاف بھی سندھ ہی میں سندھ حقوق کے نام سے کراچی کی طرف رواں دواں ہے، بلاول 8مارچ کو اسلام آباد پہنچیں گے،تحریک انصاف کے مارچ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جب عمران خان نے کہا تھا کہ اگر ان کو منصب سے ہٹایا گیا تو وہ زیادہ خطرناک ہوں گے۔اب پیپلزپارٹی کے لانگ مارچ کے دوران تحریک انصاف کے مارچ سے ان کے ارادوں کی غمازی ہوئی ہے،اس کے علاوہ وزراء بھی جوابی بیان بازی میں مصروف ہیں۔

اتوار کی دوپہر کو پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اورنگزیب برکی نے اپنے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا تھا،رائیونڈ روڈ کے ایک فارم میں ہونے والی یہ دعوت پارٹی کا سیاسی اجتماع تھی اور بہت سے دیرینہ کارکن اور رہنما بھی آئے تھے،اس لئے ان حضرات سے  سے ملاقات ہوئی اور ان کی باتیں بھی سنیں،ان کے خیالات کے حوالے سے کالم میں عرض کروں گا، اورنگزیب برکی ایک مہذب اور کاروباری شخصیت ہیں،ان کی اس دعوت میں رونق تھی، لیکن جماعتی کانفرنس کا سماں نہیں تھا،ایک اچھی اور خوشگوار تقریب تھی۔

قذافی سٹیڈیم  میں بھی اتوار کی شب لاہور قلندر کے پی ایس ایل ٹرافی کا پہلی مرتبہ چیمپئن بننے کے ساتھ ہی یہ کرکٹ میلہ ختم ہو گیا،جسے لاہوریوں نے دِل کھول کر پسند کیا،تاہم شہریوں نے سکھ کا سانس بھی لیا کہ لاہور میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے ساتھ پی ایس ایل کے لئے انتظامات نے ان کو قریباً ایک ماہ تک مشکل میں ڈالے رکھا۔لاہور قلندرز ٹیم کو لاہور کی زبردست حمایت حاصل تھی اور ان کو خوشی ہوئی، جب لاہور قلندرز  نے فیورٹ ملتان سلطان کو ہرا کر پہلی بار یہ اعزاز حاصل کیا ورنہ گذشتہ چھ مواقع پر حسرت ہی رہی تھی اس جیت پر سٹیڈیم میں جشن بھی منایا گیا۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف عوام کی پریشانی کم ہونے میں نہیں آ رہی،مہنگائی اور بے روز گاری ایک طرف اب تو ان کے لئے علاج بھی مشکل ہو گیا، حتیٰ کہ وفاقی حکومت کے صحت کارڈ نے مریضوں کو اور بھی مشکل میں ڈال دیا کہ کئی امور کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے مریض رل جاتے ہیں کہ کارڈ میں مختلف مراحل کی جو تفصیل ہے اس سے نجی ہسپتال والے اس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں کہ بڑے بل والے مریض کو داخل کر کے اپنا حساب بنا لیتے ہیں،عام لوگ تو کیا سمجھ دار بھی پریشان ہیں، حکومت کو از خود حالات کا جائزہ لینا چاہئے اور شکایات کا ازالہ کر کے ان کو دور کرنا اور طریق علاج سہل ترین بنانا چاہئے۔ دوسری صورت میں ایک اچھی تدبیر بدنامی کا باعث بنے گی۔

مزید :

رائے -کالم -