سپیشل پراسیکیوٹر نیب فیصل رضا بخاری 3 مارچ کو معاونت کیلئے طلب

سپیشل پراسیکیوٹر نیب فیصل رضا بخاری 3 مارچ کو معاونت کیلئے طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے میاں شہباز شریف کے داماد کی کمپنی کی جائیدادیں منجمد کرکے نیب کی طرف سے ان کے کرایوں کی  وصولی کے خلاف دائردرخواست پرسپیشل پراسکیوٹر نیب فیصل رضا بخاری کو 3 مارچ کو معاونت کے لئے طلب کر لیا عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کیا کسی اشتہاری ملزم کی کمپنی کے اثاثے منجمد کئے جا سکتے ہیں؟ اگر اشتہاری ملزم کی کمپنی اشتہاری نہ ہو تو کیا پھر بھی اس کے اثاثہ منجمد کئے جا سکتے ہیں؟ عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے علی اینڈ فاطمہ ڈویلپرز اور علی اینڈ کمپنی کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست میں موقف اختیارکیا گیاہے کہ احتساب عدالت نے عمران علی اور رابعہ کے اشتہاری ہونے پر علی ٹریڈ سینٹر کی دکانوں کو منجمد کرنے کا حکم دیااحتساب عدالت نے اکتوبر 2018ء چیئرمین نیب کو عمران علی کے اثاثوں کا وصول کنندہ مقرر کر دیا وصول کنندہ نے کمپنی کے اثاثوں پر لوگوں سے بھی کرایہ وصول کرنا شروع کر دیا عمران علی درخواستگزار کمپنی کے کچھ یونٹس کا مالک ہے درخواستگزار کمپنی فاطمہ اینڈ علی کو اسکے ڈائریکٹر اور شئیر ہولڈر کے اقدامات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا،میاں شہباز شریف پر دباؤ بڑھانے کیلئے صاف پانی کمپنی میں کرپشن کا کیس بنایا گیا،علی ٹریڈ سینٹر میں صاف پانی کمپنی کا دفتر کرائے پر لینے کا معاہدہ تھا لیکن ریفرنس میں تمام ملزم بری ہو چکے ہیں،مرکزی ملزم اکرام نوید 499 ملین روپے کے عوض اس کیس میں پلی بارگین کر چکا ہے  پلی بارگین کے مرحلے پر فاطمہ ڈیویلپر اور علی اینڈ کمپنی کے ڈائریکٹر عمران علی کا نام انکوائری میں شامل کیا گیا شیئر ہولڈر اور ڈائریکٹر کے اقدام کی وجہ سے کمپنی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست گزار کمپنی کے اثاثوں کو علی عمران سے منسلک نہ کرنے کا حکم دیا جائے  درخواست میں فاطمہ ڈویلپرز اور علی اینڈ کمپنی کا نام احتساب عدالت کے اکتوبر 2018ء کے فیصلے سے ختم کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

معاونت طلب

مزید :

صفحہ آخر -