پیکا آرڈیننس کالا قانون، مزاحمت کرینگے، جمشیدخان دستی

پیکا آرڈیننس کالا قانون، مزاحمت کرینگے، جمشیدخان دستی

  

مظفرگڑھ(بیورو رپورٹ تحصیل رپورٹر) عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی نے پیکا آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے مظفرگڑھ میں پریس کانفرنس کے دوران(بقیہ نمبر2صفحہ10پر)

 آرڈیننس کی کاپیاں پھاڑ دیں اور آرڈیننس کو آگ لگا دی.تفصیلات کیمطابق مظفرگڑھ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی راج پارٹی کے سربراہ اور سابق ممبر قومی اسمبلی جمشید دستی کا کہنا تھا کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے،ساڑھے 3 سال میں انھیں سمجھ ہی نہیں آرہی،انکے آگے کوئی قانون ہے اور نہ ہی اسمبلی کی کوئی حیثیت،رات کی تاریکی میں چوروں،لٹیروں کی طرح صدر پاکستان آرڈیننس نکال دیتے ہیں.،رات کی تاریکی میں عوام سے کھربوں لوٹ لیے جانتے ہیں اور پھر مردہ ساکھ زندہ کرنے کے لیے پٹرول کی قیمت کم کردی جاتی ہے،انکا کہنا تھا کہ الیکشن کے حوالے سے آرڈیننس کے ذریعے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر ڈاکہ ڈالا گیا،،عدلیہ کو ان آرڈیننسز پر سوموٹو نوٹس لینا چاہئے تھا.الیکشن کمیشن نے ان کو ننگا کیا،انھوں نے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن کے التوا کے لیے موسم کا بہانہ بناکر عدالت سے رجوع کیا اور سپریم کورٹ نے انکی کوشش ناکام بنادی،عوامی راج پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر بدمعاشی کی کوشش کی گئی،الیکشن سے قبل کرپٹ آفیسرز کو چن چن کر ضلعوں میں لگایا گیا،کمشنر،آر پی اوز،ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز بھتے لے رہے ہیں اور حکومتی اراکین اسمبلی کو ٹھیکے دلواتے ہیں،یہ لوگ چاہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو اپنا پابند کرکے اسکی اہمیت ہی ختم کردی جائے،انھیں الیکشن کمیشن سے امید ہے کہ وہ 29 مئی کو بلدیاتی الیکشن ضرور کروائیں گے،،جمشید دستی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی نالائقی کی وجہ سے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے بل ابھی تک اسمبلی سے پاس نہیں ہوسکا،حکومت پنجاب نے آرڈیننس کے ذریعے الیکشن کمیشن کو تیاری کا کہا ہے جس پر حلقہ بندیاں بھی شروع کردی گئیں اور امیدواروں کے بھی تیاری پر کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں،مگر پنجاب حکومت نے آرڈیننس اسمبلی میں پیش نہیں کیا جو حکومتی بدنیتی ہے اور 90 دن گزرنے کے بعد ان حلقہ بندیوں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔

جمشید دستی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -