چودھریوں سے وزیراعظم کی ملاقات، معاشی پیکیج پر مل گئی داد

چودھریوں سے وزیراعظم کی ملاقات، معاشی پیکیج پر مل گئی داد

  

 لاہور(جنرل رپورٹر،آئی این پی)ملک میں موجودہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے اور اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی متحرک ہو گئے، سب سے پہلے چودھری برادران سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے، چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات تقریباً 37منٹ کے دورانئے پر محیط تھی، وزیراعظم نے ملاقات میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر اہم مشاورت کی اور مسلم لیگ (ق) کو حکومت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے اور ان کے دیگر مسائل کے حوالے سے بھی گفتگو کی،۔ وزیراعظم عمران خان جب چودھریوں کی رہائش گاہ پہنچے تو چودھری پرویز الٰہی نے ان کا استقبال کیا، وزیراعظم کے ہمراہ وفد میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر، وفاقی وزیر خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور قومی اسمبلی میں چیف وہیپ عامر ڈوگرو دیگر شامل تھے جبکہ مسلم لیگ (ق) کی جانب سے وفاقی وزیر مونس الٰہی، وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ، شافع حسین، سالک حسین اور دیگر رہنما شامل تھے وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات تقریباً 37منٹ کے دورانئے پر محیط تھی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ملاقات میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد اور موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر اہم مشاورت کی اور مسلم لیگ (ق) کو حکومت کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے اور ان کے دیگر مسائل کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ وزیراعظم نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت بھی دریافت کی جس پر چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعظم عمران خان کا خیریت دریافت کرنے اور رہائش گاہ آمد پر شکریہ ادا کیا۔اس دوران وزیراعظم نے چوہدری شجاعت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو جلد مکمل صحتیابی اور عمر دراز عطافرمائے۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی سے ملاقات کی،۔ذرائع کے مطابق چوہدری برادران نے حکومت کے ساتھ کھڑ ارہنے کا عندیہ دیدیا۔ ملاقات کے اعلامیہ کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے قائد ین چوہدر ی شجاعت حسین اور پرویز الہٰی   نے کہاہے کہ وزیراعظم کا پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان خوش آئند ہے، قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کیلئے وزراء کی ڈیوٹی لگائیں۔منگل کو وزیراعظم عمران خان اور چوہدری برادری کی ملاقات کے حوالے سے مسلم لیگ (ق) کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کا پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان خوش آئند ہے اور قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانے کیلئے وزراء کی ڈیوٹی لگائیں، وزراء بازاروں میں قیمتوں پر نظر رکھیں۔

عمران ملاقات  

لاہور(جنرل رپورٹر،نمائندہ خصوصی)وزیر اعظم عمران خان نے اورسیز پاکستانیوں کو ملکی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی دعوت اور پانچ سال کے لئے ٹیکسز سے استثنیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں جو بھی حکومتیں آئیں انہیں پتہ ہی نہیں تھاکہ ملک کی سمت کس طرف ہونی چاہیے اور ہم مختلف راستوں پر چلتے رہے،امداد او رقرض مانگنے والوں کی دنیا میں کوئی عزت نہیں ہوتی،جب کوئی ملک ہاتھ پھیلا کر پھرتا ہے کوئی ہمیں امداد دیدے تو پھر اسے اپنی فارن پالیسی تبدیل کر نا پڑتی ہے،اپنے مفادات کے خلاف دوسروں کی جنگوں میں شرکت کرنا پڑتی ہے، ہمار ے ملک میں سمال اینڈ میڈیم انڈسٹریز کی ترقی میں بے پناہ رکاوٹیں ڈالی گئیں لیکن اب انہیں ختم کر کے مراعات اور سہولیات دے رہے ہیں،آئی ٹی انڈسٹری کو بھی مراعات دے رہے ہیں اس سے پاکستان تیزی سے اوپر جائے گا،کوئی بھی ملک گندم اور سبزیاں بیچ کر ترقی نہیں کر سکتا، ہم نے اپنی برآمدات بڑھانے کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا، ہمیں ایمنسٹی براہ راست دینی چاہیے تھی،انڈسٹریز کے لئے جن مراعات او رسہولیات کا اعلان آج کر رہے ہیں ہمیں وہ پہلے دن کر دینا چاہیے تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈسٹریل پیکج کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی و صوبائی کابینہ کے اراکین سمیت بز نس کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے میں یہ سوچتا ہوں کہ ہمیں آکر کیا چیزیں کرنی چاہئیں تھی تو سب سے بڑی چیز جو کرنی چاہیے جو پیکج ہم نے آج دیا ہے وہ بزنس کمیونٹی کے لئے پہلے دن ہی دینا چاہیے تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی ملک صرف سبزیاں اور گندم بیچ کر ترقی نہیں کر سکتا آگے نہیں بڑھ سکتا بلکہ ملک انڈسٹریز کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں،جب انڈسٹریز کی پیداوار بڑھتی ہے اس میں انوویشن ہوتی ہے اتنا ہی اس ملک کی دولت بڑھتی ہے، مینو فیکچررز اور انڈسٹریز کے بغیر کبھی کوئی بھی کوئی ملک عظیم ملک نہیں بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمار املک آج سے 50سے55سال پہلے بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا کیونکہ ہماری انڈسٹریز کی پیدا وار بڑھ رہی تھی اور ہماری سمت درست تھی لیکن بد قسمتی سے 70 کی دہائی میں نیشنلائزیشن کے عمل نے ساری گروتھ کو روک دیا اور ملک کی سمت کو تبدیل کر دیا، اس کے بعد سے ہم اسے دوبارہ حاصل نہیں کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے بڑے مسائل ہیں جب ہماری انڈسٹری اورمعیشت بڑھتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہو جاتا ہے اور ڈالر ز کی قلت ہو جاتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں  برآمدات پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2000ء میں چین، روانڈ، بنگلہ دیش، بھارت،ویت نام اور پاکستان کا گراف دیکھا،آج 20سال بعد روانڈا سب سے اوپر جارہا ہے،ویت نام اوپر جارہا ہے اسی طرح چین،بھارت اوربنگلہ دیش بھی اوپر جارہے ہیں لیکن سب سے نیچے پاکستان ہے اور ہماری برآمدات نہیں بڑھیں، مشرف دور میں جو برآمدات بڑھیں وہ بھی نیچے آ گئیں۔جب برآمدات نہیں بڑھیں گی تو ڈالرز کا بحران ہر دو رمیں آئے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں جو انڈسٹری بیمار ہو کر بند پڑی ہے اس سے سار اکیپٹل ائع ہو رہا ہے، ہم انہیں بھی مراعات دے رہے ہیں کہ اس میں سرمایہ ڈالیں اس سے ہماری انڈسٹری کی گروتھ بڑھے گی، ہم ا وورسیز پاکستانیوں کو اس جانب راغب کر رہے ہیں۔کیونکہ میں اوورسیز پاکستانیوں کو سمجھتا ہوں۔وہاں میں نے دیکھا کہ چھوٹا بزنس مین بڑا بزنس مین بن گیا ہے لیکن وہ کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں،اس کی وجوہات یہ ہیں کہ ہم نے ان کے لئے بڑی رکاوٹیں پیدا کی ہوئی ہیں، کنٹریکٹ انفورسمنٹ ہے،وہ سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اتنے مسائل آتے ہیں کہ انہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ عدالتوں میں رل جاتے ہیں، وہ تنگ آ کر پلاٹس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن وہاں بھی قبضے ہو جاتے تھے۔،جب اوورسیز پاکستانیز بیرون ممالک کامیاب کاروبار کر رہے ہیں اور انہوں نے وہاں انڈسٹریز لگائی ہوئی ہے جب وہ اپنے ملک میں پیسہ لے کر آئیں گے تو،ان کے پاس سکلز بھی ہیں کیپٹل بھی انہیں صرف اعتماد اور مراعات دینے کی ضرورت تو پاکستان جلد ترقی کے ٹریک پر ہوگا، ہم اوورسیز کو دعوت دے رہے ہیں وہ یہاں سرمایہ کاری کریں،بھارت میں آئی ٹی کی برآمدات 140ارب ڈالر ہیں، ہمارے دور میں 70فیصد برآمدات بڑھی ہیں لیکن یہ ابھی مشکل سے 4ارب ڈالر بھی نہیں ہیں، ہم نے اپنے فری لانسرنز اور آئی ٹی انڈسٹریزکو مراعات ہی نہیں دی تھیں، ہم نے اسے بھی عام انڈسری کی طرح ٹریٹ کیا حالانکہ اس کی ضروریات اور ہیں اس کے لئے مراعات بھی او ر طرح کی ہیں، اب ہم انہیں پوری طرح مراعات دے رہے ہیں۔دنیا میں پاکستان دوسرا ملک ہے جہاں پر نوجوانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے، ہم نے ابھی آئی ٹی سے متعلق اور بھی بہت کام کرنا ہے۔ہم جب ان کو مراعات دیں گیگئی۔ وزیراعظم عمران خان کو وزیراعلی پنجاب نے ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت پر بریفنگ دی۔ عثمان بزدار نے ارکان پارلیمنٹ سے رابطوں اور ملاقاتوں بارے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو بڑا ریلیف ملا، پنجاب میں عوامی ریلیف کے اقدامات پر کام جاری ہے، ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم نے صوبے میں عام آدمی کو فوری اور موثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپوراقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ عمران خان کے دورہ لاہور کے دوران گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے گور نر ہاؤس لاہور میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ گور نر چوہدری محمدسرورنے پٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں کمی اور انڈسٹریل پیکج پر وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین کیا اور وزیر اعظم کو بر یفنگ کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے انسانی حقوق نے ملاقات کے دوران مجھے جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع کیلئے تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور میں بھی جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع سمیت دیگر ایشوز پر یورپی یونین کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -