روس، یوکرین مذاکرات ختم، ماسکو کی 36یورپی ممالک پر پابندیاں 

روس، یوکرین مذاکرات ختم، ماسکو کی 36یورپی ممالک پر پابندیاں 

  

         کیف،ماسکو،نیویارک (نیوزایجنسیاں)روس اور یوکرین کے درمیان بیلاروس کی سرحد پر ہونیوالے مذاکرات کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوگیاجس کے بعد یوکرین کے صدر کا کہناہے کہ مذاکرات میں مطلوبہ نتائج نہیں ملے‘روس پراپنا موقف واضح کردیا ہے ہم جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں‘روس ہم پردباؤ بڑھانے کی کوشش میں وقت ضائع نہ کرے۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق روس اور یوکرین کے اعلیٰ سطح کے وفد کے مذاکرات کئی گھنٹے تک جاری رہے۔ان مذاکرات میں کیا طے پایا ہے اس حوالے سے فریقین نے عوام کو آگاہ نہیں کیا،کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات دو بار تعطل کا شکار بھی ہوئے، مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آئندہ چند روز میں ہونے کی توقع ہے۔ یوکرین کے شہر اوختیرکا کا کے فوجی اڈے پرحملے میں 70 سے زائد فوجی ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق روس کے  اوختیرکا  میں فوجی اڈے پرحملے میں 70 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے جبکہ خارکیف میں روسی بمباری نے11 شہریوں کی جان لے لی اورمتعدد زخمی ہوگئے۔دوسری جانب غیرملکی میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی سیٹیلائٹ سے لی گئی تصویرمیں دیکھا جاسکتا ہے کہ  روس کا 40 میل لمبا فوجی قافلہ کیف کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یوکرین پرروسی حملوں میں اب تک 14 بچوں سمیت 102 شہری ہلاک ہوچکے ہیں تاہم شہری ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔دارالحکومت کیف سمیت یوکرین کے مختلف علاقوں میں دھماکے سنائی دے رہے ہیں۔ادھریوکرین روس تنازع، اقوام متحدہ میں روسی مشن کے 12 ارکان کو امریکہ چھوڑنے کا حکم دے دیا، روسی مندوب نے بتایا کہ روسی مشن کے ارکان کو7 مارچ تک امریکہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں روسی مشن ارکان کی تعداد 100 کے قریب ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نے بیان دیا ہے کہ روسی مشن ارکان جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، روسی مشن ارکان نے امریکہ میں رہائش کے استحقاق کا غلط استعمال کیا، روسی مشن ارکان کی سرگرمیا ں امریکی نیشنل سیکیورٹی کے خلاف ہیں۔مزید برآں روس نے برطانیہ اور جرمنی سمیت 36 ممالک کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔روس یوکرین جنگ کے پانچویں روز یوکرین اور بیلا روس کے درمیان سرحد پر روسی اور یوکرینی وفد کے مابین امن مذاکرات جاری ہیں تاہم یوکرین نے روس سے فوری طور پر جنگ بند کرنے اور روسی فوجیوں کے یوکرین سے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آج یورپی کمیشن کی سربراہ نے روس پر یورپ کی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا۔روس نے بھی یورپی یونین پر جوابی وار کرتے ہوئے برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین، کینیڈا سمیت 36 ممالک کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کردی۔روس کی جانب سے یورپی ممالک پر فضائی پابندی عائد کرنے کے بعد جاپان ایئرلائن نے آج ماسکو جانے والی اپنی فلائٹس منسوخ کردی۔ دوسری جانب یورپ کی جانب سے روس پر فضائی حدود استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کا پروگرام منسوخ کردیا۔ادھر چین نے روس پر کسی قسم کی پابندی لگانے کی مخالفت کردی۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین غیر قانونی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے، پابندیاں مسائل حل نہیں کرتیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا یوکرین میں جنگ بند کی جائے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 40 سال بعد ہنگامی اجلاس ہوا، سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی سوچ ناقابل فہم ہے۔روسی سفیر نے کہا جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، دشمنی ان کے ملک نے شروع نہیں کی، یوکرین کے مندوب بولے اس معاملے میں جرم کا مرتکب ہونے والا فریق صرف روس ہے۔

روس یوکرین 

مزید :

صفحہ اول -