قدرتی موسم کی طرح، اسلام آباد کا سیاسی موسم بھی تبدیلی کی جانب، سیاسی میدان بہرحال کنفیوژن کا شکار ہے!

قدرتی موسم کی طرح، اسلام آباد کا سیاسی موسم بھی تبدیلی کی جانب، سیاسی میدان ...

  

اسلام آباد سیاسی ڈائری

وفاقی دارالحکومت کا موسم بدل رہا ہے بہار کا موسم شروع ہو رہا ہے پھول اور کونپلیں کھلنے لگی ہیں لیکن اسلام آباد میں جب بھی موسم تبدیل ہوتا ہے تو دن اور رات بلکہ دن اور شام کے مابین بھی درجہ حرارت کا تفاوت  ملک کے دیگر میدانی علاقوں سے قدرے مختلف ہوتا ہے کیونکہ شام کو خنکی ہو جاتی ہے لیکن دن میں قدرے گرمی ہوتی ہے۔ یہاں کے بسنے والوں کو  بھی دن رات میں درجہ حرارت کا یہ فرق کنفیوژ کئے رکھتا ہے کہ وہ کس قسم کے کپڑے پہنیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت کا سیاسی موسم بھی تبدیل ہو رہا ہے لیکن بدلتے ہوئے موسم کا کنفیوژن سیاست کے میدان میں بھی نظر آ رہا ہے۔ سندھ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو نے لانگ مارچ کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو الٹی میٹم دے دیا ہے کہ وہ مستعفی ہوں اور اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف بڑھنے لگا ہے جبکہ اپوزیشن رہنما میاں شہباز شریف صوبائی دارالحکومت میں نمبر گیم کے لئے متحرک ہیں ان کی سابق صدر زرداری اور چودھری برادران سے ملاقاتوں نے حکمران جماعت کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے اور وفاقی دارالحکومت میں اس حوالے سے بہت سی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ جمع تفریق کی جا رہی ہے سب کی نظریں نمبر گیم پر لگی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل چودھری برادران کے نوجوان سیاسی جانشین مونس الٰہی نے وزیر اعظم عمران خان کو تسلی دی تھی کہ گھبرانا نہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن حکومتی حلقوں میں گھبراہٹ کے اثرات موجود ہیں۔ 

وفاقی دارالحکومت میں یہ تاثر عام ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ لاہور در حقیقت گھبراہٹ ہی کی عکاسی کر رہا ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ناراض لیکن جوڑ توڑ کے ماہر رہنما جہانگیر ترین علیل ضرور ہیں لیکن ان کے سیاسی جہاز کی لینڈنگ آئندہ کے سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اب چونکہ اپوزیشن کی بڑی جماعتیں حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے میدان عمل میں اتر آئی ہیں اور اپنے سیاسی داؤ پیچ دکھا رہی ہیں تو وزیر اعظم عمران خان بھی جوابی حکمت عملی کے طور پر اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنے کے لئے سرگرم ہو گئے ہیں۔ جہانگیر ترین سے روابط سے لے کر اپنے ناراض ارکان کی دلجوئی کی کوششیں ہو رہی ہیں جبکہ وزیر اعظم عمران خان اپنے حلیفوں کو اپنے ساتھ متحد رکھنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اپوزیشن رہنما میاں محمد شہباز شریف نے نمبر گیم کے حوالے سے اپنے کارڈ تا حال سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی خفیہ رکھی ہوئی ہے ان کی جانب سے کوئی ایسا تاثر سامنے نہیں آیا کہ وہ حکومتی حلیفوں کو توڑنے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کر سکے ہیں کہ نہیں ابھی تک حکومتی حلیف اپنی جگہ پر قائم و دائم نظر آتے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے نمبر گیم میں کامیابی کے لئے جہانگیر ترین گروپ، پی ٹی آئی کے انفرادی طور پر ناراض اراکین اور حکومتی حلیفوں کو توڑنے کے لئے کوشش ہو رہی ہے لیکن تا حال کوئی خاطر خواہ کامیابی نظر نہیں آ رہی یا پھر ایسی کسی ممکنہ کامیابی کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے لندن میں زیر علاج اپنے پرانے دوست جہانگیر ترین سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے ان کی ”سیاسی خیریت“ بھی دریافت کی یہ ایک اہم پیش رفت ہے دورہ لاہور سے قبل ان کا یہ سیاسی رابطہ موجودہ سیاسی حالات میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے دورہ لاہور سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی اہم ملاقات کی اور انہیں اپنے دورہ روس کے حوالے سے اعتماد میں لیا ملک کی داخلی اور خارجی سلامتی کے حوالے سے بھی جائزہ لیا گیا در حقیقت وزیر اعظم عمران خان کے دورہ روس کی ٹائمنگ کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھ رہے تھے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کی دورہ روس کے دوران امریکہ اور مغرب کے طرفدار ملک یوکرین کے خلاف جنگ کا آغاز بعض مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے۔ لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ روس کے بعد اپنی ایک بھرپور پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ دورہ روس سے قبل امریکہ سے ایک ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا خطے اور دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں دونوں جانب پاکستان اور روس میں اعلیٰ سطحی روابط بڑھانے کی عرصہ سے خواہش موجود تھی اس لئے وزیر اعظم عمران خان کا دورہ فوری اور طویل المدتی مضمرات کے حوالے سے نہایت غیر معمولی تھا پاکستان کا سر آئی ایم ایف میں اور گردن فنٹیف میں پھنسی ہوئی ہے۔

یہ ایک اہم پیش رفت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملوں کو پسپا کرنے کی غرض سے اپنی دفاعی حکمت عملی کے طور پر قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنے دورہ روس کا بھرپور کریڈٹ لیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے حکمران مغرب میں اپنے مفادات کے پیش نظر آزادانہ خارجہ پالیسی تشکیل نہیں دے سکے۔ شاید دورہ روس سے ہی مغلوب ہو کر انہوں نے اپنی تقریر میں آئی ایم ایف کی معاشی شرائط کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پٹرول و ڈیزل اور بجلی سستی کرنے کے علاوہ بعض شعبوں کو ٹیکسوں کی چھوٹ دینے کا اعلان کر دیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کے خوفناک ٹائم بم کو ڈیفیوز کرنے کی غرض سے عوام کو ریلیف دینے کا اعلان کیا۔ در حقیقت اس کا کریڈٹ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے لانگ مارچ اور تحریک عدم اعتماد کی مجوزہ تحریک کو بھی جاتا ہے حکومت پر اپوزیشن کا دباؤ بڑھا تو حکومت کو ریلیف دینے کا اعلان کرنا پڑا۔ اب کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ اس وقت جب مہنگائی کا سونامی عوام کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے تو اب ریلیف دینے کے اعلانات کس حد تک حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دے پائیں گے اور عوام کو اپوزیشن کا ساتھ دینے سے  روک سکیں گے! وزیر اعظم عمران خان کی تقریر ایک الیکشن تقریر تھی جو عام طور پر الیکشن سے قبل بجٹ کی تقریر ہوتی ہے۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے اپنی اس تقریر میں جارحانہ انداز نہیں اپنایا بلکہ ان کا لب و لہجہ دفاعی تھا اور لگتا تھا کہ وہ عوام کی عدالت میں گورنس اور مہنگائی کے حوالے سے اپنا کیس بیان کر رہے ہیں۔ اب آخری فیصلہ تو عوام نے ہی کرنا ہے۔

وزیراعظم کا حالیہ دورۂ لاہور، گھبراہٹ کی چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئیں!

عمران خان نے قوم سے خطاب تبدیل شدہ لہجے میں کیا، دباؤ کم کرنے کے لئے ریلیف کا اعلان بھی اہم ہے 

مزید :

ایڈیشن 1 -