وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو ماڈل صوبہ بنانے پر پوری توجہ مبذول کر دی!

 وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو ماڈل صوبہ بنانے پر پوری توجہ مبذول کر دی!

  

پنجاب اور سندھ میں جہاں آج کل حکومت مخالف سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں  وہاں پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کی برق رفتار ترقی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ صوبے میں زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کروانے کے ساتھ ساتھ نئے منصوبوں کے آغاز کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے، وفاقی حکومت نے اپنے تئیں بھی کے پی کو صحیح معنوں میں ماڈل صوبہ بناکر پیش کرنے کی جدوجہد تیز کر دی ہے، ابھی گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ حال ہی میں ضم ہونے والے خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے این ایف سی ایوارڈ میں حصے کے وعدے کا معاملہ تمام صوبوں کے سامنے اٹھائیں گے۔یہ یقین دہانی سابق فاٹا کی ترقی سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں کروائی گئی۔اجلاس کے دوران شوکت ترین نے کمیٹی کو 10ویں این ایف سی ایوارڈ کے قابل تقسیم پول میں فاٹا کا 3 فیصد حصہ مقرر کرنے کے لیے تمام صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کے حوالے سے اپنی قرارداد کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام سابق قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو اپنے محل وقوع اور 30 سال کی مشکلات کے سبب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔جنوبی وزیرستان میں معاوضے کا عمل رک جانے پر نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کے معاوضے کے لیے برق رفتار میکانزم کی قرارداد پیش کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔اس موقع پر کمیٹی کے اراکین نے قبائلی اضلاع کے منصوبوں کے اخراجات کے طریقہ کار پر اعتراض بھی کیا۔خیبر پختونخوا کے وزیر برائے خزانہ و صحت تیمور سلیم خان نے کمیٹی کے اراکین کو قبائلی اضلاع کے منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ترقیاتی پروگرام کے مختص کردہ فنڈز کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اس حوالے سے منگل یکم مارچ کو ہونے والے  صوبائی کابینہ  کے اجلاس میں  ضم اضلاع کے 15 پراجیکٹس کے باقی ماندہ 630 ملازمین کی ریگولرائریشن کی منظوری دی گئی۔ صوبائی کابینہ نے صوبے میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کے لیے ساز گار ماحول یقینی بنانے اور کمرشل اور کاروباری تنازعات کے فوری حل کے لیے کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے مسودہ قانون کی منظوری بھی دی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ   صوبائی حکومت کے اِس اقدام سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملے گی کیونکہ کمرشل تنازعات اور کورٹس پر دیگر کیسز کے دباؤ کے سبب تاخیر سے فیصلے ہونے کی وجہ سے کاروبار اور کمرشل سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے تھے۔

 وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس  میں کئے جانے والے اہم فیصلوں کی   معاون خصوصی اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف  نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج خیبرپختونخوا کابینہ کا 66 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی کابینہ نے عوام کی سہولت کی خاطر ای اسٹامپ پیپر کے اجراء  کی منظوری دی ہے اس سے عوام کو با آسانی اسٹامپ پیپر حاصل ہوں گے اور شفافیت کے ساتھ ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا اس سے قبل اسٹامپ پیپرز کی چھپائی پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے۔ صوبائی کابینہ نے ای اسٹامپ پیپر رولز 2021 کی بھی منظوری دی۔ فاٹا کے حوالے سے کئے جانے والے فیصلوں کا ایک اہم جز یہ تھا کہ  صوبائی کابینہ نے ضم شدہ اضلاع  کے ڈپٹی کمشنرز کو جسٹس آف پیس  کے اختیارات دینے کی منظوری دِی ہے۔  ڈپٹی کمشنرز کو ان اختیارات کی فراہمی سے ضم اضلاع میں امن و امان یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ پشاور یونیورسٹی اور عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے لیے بہترین مالیاتی نظم و ضبط پرفارمینس پر 50, 50 ملین روپے کی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ اسی طرح  صوبے کی باقی یونیورسٹیوں کے لیے اسی طرح کی پرفارمنس گرانٹ اور درپیش مالی بحران کے حل کے لیے اقدامات ہو رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ محمود خان نے بتایا کہ  وزیراعظم عمران خان نے خیبر کے عوام کے لئے تاریخی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے، غربت اور مہنگائی کا خاتمہ وزیراعظم عمران خان، وفاقی و صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔  گریجوایٹس کو 30 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔

ہم بار رہا اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ کے پی کے بعض اضلاع میں بالعموم اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں امن و امان کی صورت حال روز افزوں دگرگوں ہوتی جا رہی ہے،  دشمنی کے نتیجے میں قتل و غارت گری، ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے بعض واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔ ابھی گزشتہ روز پشاور میں چار پانچ افراد کے بہیمانہ قتل نے خون کے آنسو رلا دیئے۔ کئی دیگر شہروں میں بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں امن دشمن کارروائیاں زیادہ ہو رہی ہیں اور ان میں سرحد پار سے آنے والے گروہوں کے ملوث ہونے سے معاملات بگڑ رہے ہیں لیکن کئی مقامی گروپ بھی اپنی وارداتیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔  اگرچہ  قانون نافذ کرنے والے ادارے مصروف عمل ہیں لیکن پھر بھی واقعات تھم نہیں پا رہے۔ دو روز قبل سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشت گردوں کو ہلاک  کر کے  اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرلیا۔یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ  سیکیورٹی فورسز کی ڈیرہ اسمٰعیل خان کی تحصیل کولاچی میں کارروائی کے دوران 2 دہشت گرد مارے گئے۔جن  کا تعلق قریبی گاؤں سے تھا اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے شر پسند عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں اور جن علاقوں میں بار بار امن دشمن کارروائیاں ہو رہی ہیں انہیں منصوبہ بندی کے تحت ٹارگٹ آپریشن کیا جائے۔ جہاں تک سرحد پار سے مداخلت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے سیاسی انتظامی فیصلے فوری کرنے کی ضرورت ہے۔

ضم شدہ اضلاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ، وفاقی وزیر خزانہ کی قرارداد لانے کی یقین دہانی

وزیراعلیٰ محمود خان نے بھی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا!

مزید :

ایڈیشن 1 -