پٹرول،ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی،مہنگائی کم ہوپائے گی؟

پٹرول،ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی،مہنگائی کم ہوپائے گی؟

  

اپوزیشن رہنماؤں کی حکومت کے اتحادیوں سے ملاقات کا اثر یا بلاول بھٹو زرداری کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ وجہ قرار دی جائے وزیر اعظم عمران خان نے 15دن قبل پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے میں سے ڈیزل و پٹرول 10 اوربجلی کی قیمت میں 5 روپے منگل کی شام ہونے والے قوم کے نام خطاب میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ پٹرول،ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں اگلے بجٹ سے قبل نہیں بڑھائی جائیں گی اس کے ساتھ وزیراعظم نے بی اے پاس بے روزگار نوجوانوں کے لئے ماہانہ 30 ہزار روپے کی انٹرن شپ دلوانے کا بھی وعدہ کیا اور 80 لاکھ خاندانوں کو احساس کیش پروگرام کے12 ہزار کے بجائے 14 ہزار روپے دینے کی بھی نوید دی،اس کے ساتھ اسٹارٹ اَپس کو 100 فیصد کیپٹل گین ٹیکس سے چھوٹ دے کرجو انڈسٹری لگائے گا اس سے ذرائع آمدن سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا،کا بھی اعلان کیا۔گزشتہ پونے چار سالوں میں عمران خان نے پہلی بار عوامی وزیر اعظم ہونے کا ثبوت دیا ہے وگرنہ ان کا جب بھی خطاب ہوتا تھا اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ قوم کو”گھبرانا نہیں“کے مشورے دے کر ختم کردیا جاتا تھا۔ موجودہ عوامی خطاب کی اصل وجوہات جو بھی ہوں، مگر پیپلز پارٹی و متحدہ اپوزیشن کی حکومت مخالف مہم بھی کسی حد تک اثر انداز ہونے لگی ہے، جس کے باعث اب حکومتی رویے میں بھی سختی کی بجائے نرمی دیکھنے میں آرہی ہے۔اگر وزیراعظم عمران خان عوام میں کھویا ہوا اعتماد مکمل بحال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ ملک سے غربت،بے روزگاری اور مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح میں کمی لاتے ہوئے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کریں، کیونکہ پاکستان میں یہ روایت قائم ہوتی جارہی ہے کہ جب اشیاء کی قیمتوں بڑھ جاتی ہیں تو پھر نیچے نہیں آتیں حکومت کو اس تاثر کو بھی زائل کرنا ہو گا،کیونکہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں گاہے بگاہے ہونے والے اضافے کی وجہ سے اشیا ء خوردنوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے اب جبکہ پٹرول،ڈیزل اور بجلی کی قیمت کم ہوئی ہے توپھر اُسی تناسب سے کھانے پینے سمیت دیگر اشیا ء ضروریہ کی قیمتیں بھی کم ہونا چاہئیں اگر ایسا نہ ہوا تو پھر عام آدمی کے بڑھتے ہوئے مسائل بھی کم نہیں ہو پائیں گے اور حکومتی اقدامات بھی اسی طرح بے اثر رہیں گے اور عوام کا حکومت کے خلاف غم و غصہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائے گا۔ اس لئے وزیراعظم کو اس بارے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا، کیونکہ اب نہ صرف ڈنگ ٹپاو پالیسیوں کا وقت گزر چکا ہے، بلکہ عوام کا صبر بھی جواب دینے لگا ہے اس سے پہلے اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

27فروری مزار قائد سے بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو کی قیادت میں شروع ہونے والا پاکستان پیپلز پارٹی کا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کل 3 مارچ کو ملتان پہنچے گا۔ملتان میں مارچ شرکا ء کا استقبال بہاولپور بائی پاس پر سابق وزیراعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کریں گے۔مارچ کی کامیابی اور جیالوں کی بھرپور شرکت کیلئے سید یوسف رضا گیلانی کی تادم تحریر تگ و دو تاحال جاری ہے اور اس حوالے سے مختلف تقریبات کا بھی انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ کارکنوں میں جوش و ولولہ پیدا کیا جاسکے۔ گزشتہ روز گیلانی ہاوس میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا،جس سے خطاب میں سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ جیالوں کی آمد کا سن کر حکومت پر لرزا طاری ہے،ملتان پی پی کا گڑھ اور دوسرا لاڑکانہ ہے،ملتان سے جیالوں کا سیلاب اسلام آباد کی طرف نکلے گا،پیپلز پارٹی جب بھی آتی ہے توخوشحالی،روزگاراور ترقی بھی آتی ہے،آج قوم کی نگاہیں بھٹو کے نواسے پرلگی ہیں۔سابق وزیراعظم کے لانگ مارچ کی کامیابی کے لئے دھواں دار خطاب کس حد تک اپنے پارٹی چیئر مین کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس بارے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا جبکہ دوسری جانب ملتانی مخدوم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے جواب میں سندھ حقوق مارچ پر نکلے ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی پر خوب گولہ باری کررہے ہیں ادھر یوکرائن میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی کوششوں کی بجائے شاہ محمود قریشی کے سندھ حقوق مارچ میں شرکت کو مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے اُن کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیر خارجہ کی پہلی ترجیح بیرونی ممالک کے ساتھ خارجی تعلقات کی مضبوطی کے ساتھ اوور سیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اقدامات کرنا ہوتی ہے نہ  کہ مشکل وقت میں انہیں تنہا و بے یار و مددگار چھوڑ کر سیاس سرگرمیوں کو فروغ دینا۔اب اس حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا نقطہ نظر جو بھی ہو، مگر انہیں اس وقت لانگ مارچ کے جواب میں سندھ حقوق مارچ کی بجا ئے یوکرائن میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا کیلئے تگ و دو کرنی چاہئے تھی۔

خاتون اول مسز ثمینہ عارف علوی گزشتہ دنوں خصوصی دورے پر ملتان آئیں جہاں  انہوں نے خصوصی افراد کے لئے ”اپنا روز گار“کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہنر مند خصوصی افراد قومی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،خصوصی افراد کو رقم دینے کی بجائے روزگار کمانے کے قابل بنایا جائے۔تقریب میں خاتون اول نے معذور افراد میں رکشے اور وہیل چیئرزبھی تقسیم کیں اور چیف وہپ و رکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر سے والدہ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے کے ساتھ وومن چیمبر آف کامرس کی سالانہ تقریب میں بھی شریک ہوئیں۔

سینئر سیاستدان و مسلم لیگ (ن)کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کررکھے ہیں،تاریخی مہنگائی نے لوگوں کی زندگیاں مشکلات سے دو چار کردی ہیں اور عوام حکومت سے جان چھڑانے کی دعائیں مانگ رہے ہیں،طلباء،مزدور،محنت کش اور کسان متحد ہوکر حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کریں۔مخدوم جاوید ہاشمی کا مسائل کے حل کے لئے تمام طبقات کو ملک کر احتجاج کرنے کا مشور ہ کسی حد تک درست ہے، کیونکہ جب تک عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے باہر نہیں نکلیں گے تب تک نہ تو انہیں درپیش پریشانیاں حل ہوں گے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہوپائے گا۔ 

لانگ مارچ کے جواب میں حکومت کے سندھ حقوق مارچ کو تنقید کا سامنا!پیپلز پارٹی کا مارچ کل ملتان پہنچے گا،بہاولپور بائی پاس پر استقبال کی تیاریاں 

خاتون اول ثمینہ عارف علوی کی ملتان آمد،تقریبات میں شرکت، عامر ڈوگر سے تعزیت کی 

سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کا مسائل کے حل کیلئے تمام طبقات کو مل کر احتجاج کرنے کا مشورہ 

مزید :

ایڈیشن 1 -