پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد کی طرف اور تحریک انصاف کا گھوٹکی سے کراچی کی طرف رواں دواں!

پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد کی طرف اور تحریک انصاف کا گھوٹکی ...

  

کراچی۔ڈائری۔ مبشر میر 

وفاقی وزراء سیدعلی زیدی اور اسد عمر، صوبائی ٹیم تحریک انصاف کے ہمراہ گھوٹکی سے کراچی کی جانب اس لیے مارچ کررہے ہیں کہ سندھ کے عوام کو اس کے حقوق دلائیں۔ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی جلسہ سے خطاب کیا، لیکن عوام کا جم غفیر لانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ حیرت کی بات ہے کہ تحریک انصاف کے راہنما ریلی کے شرکاء کو چھوڑ کر رات کو آرام کی غرض سے وفاقی وزیر محمد میاں سومرو کی رہائش گاہ پر چلے گئے۔باخبر ذرائع کے مطابق کارکنوں کیلئے تو کوئی خاص انتظامات نہیں تھے لیکن وزراء کے لیے نرم بستروں کا انتظام وفاقی وزیر کی رہائشگاہ پر کیا گیا تھا، اس سے ظاہر ہوا کہ پاکستان کے عوام کو سیاسی پارٹیاں کس طرح استعمال کرتی ہیں۔ 

پیپلز پارٹی کی قیادت صوبائی حکومت سندھ کے ہمراہ اسلام آباد میں حکومت کو تبدیل کرنے کے ارادے سے کراچی سے روانہ ہوئی تھی۔ یہاں بھی صورتحال عجیب دکھائی دی، اعلیٰ قیادت ماتلی میں علی اصغر ہالیپوٹہ راہنما پیپلز پارٹی کے گھر پہنچ گئی کیونکہ پنڈال یا کھلے آسمان تلے کارکنوں کے ہمراہ وہ رات بسر نہیں کرسکتے تھے۔ اگر چہ انہوں نے 8 مارچ کو اسلام آباد پہنچنا ہے لیکن کارکن سردی میں ٹھٹھرنے کیلئے پناہ گاہیں تلاش کرتے رہے اور راہنما نرم بستروں میں نیند کے مزے لیتے رہے۔ گویا دونوں اطراف کے راہنماؤں کا اپنے کارکنوں کے ساتھ رویہ یکساں دیکھنے میں آیا۔ 

پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کو بھی سیکھنا ہوگا کہ وہ سیاسی جدوجہد میں قائدین کو وی آئی پی کا درجہ دے کر خودسر بنادیتے ہیں اور بعد میں ان سے گلے شکوے کرتے رہتے ہیں۔ ابھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ ایسے لانگ مارچ سے اور فوائد حاصل نہیں ہونگے لیکن پیپلز پارٹی کو اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا موقع ملے گا۔ سیاسی منظر نامے میں اپنی پوزیشن کو جانچنے کا یہ نادر موقع ہوگا۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں نئے جیالے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، اسے مولانا فضل الرحمن پر انحصار کرنا پڑے گا۔ 

دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب اور اسلام آباد میں اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں سے کتنا تعاون میسر آتا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کو کراچی کے جلسے کے لیے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے سے کس قدر تعاون حاصل ہوتا ہے۔ دونوں کے لیے پاور شو کرنا آسان نہیں۔ پیپلز پارٹی کیلئے اسلام آباد میں پاور شو کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا، تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت سے قافلے پہنچ کر ہی جلسہ گاہ کو بھر سکتے ہیں۔ 

سندھ اسمبلی میں وزیربلدیات ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں ترمیمی بل بلدیات پر حتمی مسودہ کی منظوری کیلئے سلیکٹ کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں اپوزیشن کی بھی نمائندگی ہے۔ حتی کہ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک کے ممبران اسمبلی بھی شامل کیے گئے ہیں۔سپریم کورٹ نے بلدیاتی  بل کے حوالے سے فیصلہ دیا تھا کہ آئین کی شق 140-A کی روشنی میں بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے۔ جس میں اختیارات کی تقسیم کا فارمولا ہونا ہے۔کراچی کے عوامی اور سماجی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ اب سندھ اسمبلی کے اراکین کراچی کے لیے وہی نظام لانے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں جس کا یہ شہر متقاضی ہے اور عوامی مطالبہ بھی ہے کہ کراچی میں لارڈ میئر کا نظام اپنایا جائے اور شہری حکومت کو زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ اب بال سندھ اسمبلی کے اراکین کے کورٹ میں ہے۔ 

صوبائی حکومت سندھ کراچی کے نئے ماسٹر پلان پر کام شروع کرنے جارہی ہے جبکہ عوام  اور خاص طور پر میڈیا کو بھی یہ علم نہیں ہے کہ پہلا ماسٹر پلان کیا تھا۔ کے ایم سی میں ماسٹر پلان کا ڈپارٹمنٹ موجود ہے۔ لیکن آج تک سندھ اسمبلی میں بھی کراچی کا ماسٹر پلان پیش نہیں ہوا۔ توقع کی جانی چاہیے کہ سندھ حکومت، سندھ اسمبلی میں پہلا ماسٹر پلان پیش کرنے کے بعد، نئے ماسٹر پلان کے خدوخال اور ترامیم پیش کرے گی، آخر عوام کو علم نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت اس شہر کے مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے کیا کچھ طے کرچکی ہے۔

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے مارچ جاری رکھے ہوئے ہیں اور کراچی اسٹریٹ کریمنل کے حوالے ہے۔  کراچی میں اسٹریٹ کریمنلز شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اور مار دھاڑ بھی ہورہی ہے۔ گویا حکومتی سطح پر عوام کی حفاظت کا انتظام ناکامی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت ابھی تک سیف سٹی منصوبہ شروع نہیں کرپائی۔ لاہور کے سیف سٹی منصوبہ کی روشنی میں کراچی میں مدد دینے کی بھی بات کی گئی تھی لیکن سندھ حکومت نے ایسی مدد لینے سے انکار کردیا تھا۔ لیکن خود سندھ حکومت اس منصوبے کو تاخیر کا شکار کیے ہوئے ہے۔ 

روس اور یوکرائن کے درمیان شروع ہونے والی جنگ پاکستان میں بھی مزید مہنگائی کا طوفان لے کر آسکتی ہے کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔

بجلی کی قیمتوں اور ڈالر کا ریٹ پاکستان کی اقتصادیات پر براہ راست اثر انداز ہورہا ہے۔ اگر چہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ بھی ہورہا ہے لیکن اسٹیٹ بینک آف پاکستان یہ بتانے سے قاصر ہے کہ روزانہ پاکستان سے غیرملکی کرنسی کتنی مقدار میں ملک سے باہر جاتی ہے۔ بااثر شخصیات کے خاندان بیرون ملک رہائش پذیر ہیں جن کے اخراجات کے لیے کئی ذرائع سے اب بھی فارن کرنسی باہر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی طلب میں اضافہ بھی جاری ہے اور مشکلات بھی کم نہیں ہو رہیں۔ 

دونوں مظاہروں میں قدر مشترک، پڑاؤ پر کارکن کھلے آسمان تلے اور رہنمایاں کرام گرم بستروں میں 

کراچی میں لاہور کی طرح سیف سٹی پروگرام کا منصوبہ تاحال شروع نہ ہوا، شہر جرائم پیشہ حضرات کے رحم و کرم پر! 

مزید :

ایڈیشن 1 -