وزیراعظم کا خطاب

وزیراعظم کا خطاب

  

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اپنی حکومت کی کامیابیوں، درپیش مشکلات اور ترجیحات کا ذکر کیا وہاں ایک بڑے معاشی ریلیف پیکیج کے ذریعے عوام کے مسائل کم کرنے کی کوشش بھی کی۔روس اور یوکرائن تنازعے کی وجہ سے خبریں زیر گردش تھیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے،پٹرول180روپے فی لٹر تک جانے کی پیش گوئی بھی کی جا رہی تھی، تاہم وزیراعظم نے اپنی تقریر میں 10روپے فی لٹر کمی کا اعلان کر کے عوام کے چہروں پر خوشی بکھیر دی،اس کے ساتھ بجلی کے فی یونٹ میں 5روپے کمی کا اعلان بھی کیا اور یہ اطمینان بھی دِلا دیا کہ بجٹ تک بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔عوام ایک عرصہ سے حکومت کی طرف ایسے کسی ریلیف کے لیے دیکھ رہے تھے۔ہر بار مشکل اقتصادی حالات اور عالمی مہنگائی کا حوالہ دے کر اُن پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا جاتا تھا۔اگرچہ یہ کوئی بہت بڑا ریلیف نہیں ہے،کیونکہ ابھی پندرہ دن پہلے ہی پٹرول کی قیمتوں میں 12روپے فی لیٹر سے زائد کا اضافہ کیا گیا تھا، پانچ روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی سے صرف چند گھنٹے پہلے نیپرا نے جنوری کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 5روپے94 پیسے فی یونٹ اضافہ کر کے بجلی کے صارفین پر 58 ارب روپے کا بوجھ ڈالا،تاہم اس کے باوجود اس حکومت کے دور میں قیمتوں میں کمی اور انہیں منجمد کرنے کا اعلان کچھ کم اہمیت کا حامل نہیں،وزیراعظم نے اقتصادی حوالے سے چند دیگر خوشگوار اعلانات بھی کئے،احساس پروگرام کے تحت فی خاندان12ہزار روپے کی بجائے اب14 ہزار روپے ملیں گے،بے روز گارگریجویٹس نوجوانوں کو30ہزار ماہانہ انٹرن شپ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جو ایک اچھا فیصلہ ہے،کیونکہ ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روز گار ہے اور کام نہ ملنے کی وجہ سے اُن کے پاس تجربے کی بھی کمی ہے۔آئی ٹی سیکٹر، فری لانسرز اور اوورسیز سرمایہ کاری پر سو فیصد ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ خطاب ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب ملک میں سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ایک طرف تحریک عدم اعتماد کی باتیں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف پیپلزپارٹی سندھ سے اسلام آباد کی طرف اپنا عوامی مارچ جاری  رکھے ہوئے ہے۔اپوزیشن یہ دعویٰ کر رہی ہے وزیراعظم عوام کو ریلیف دینے پر اُس کے دباؤ کی وجہ سے مجبور ہوئے ہیں وگرنہ ایسی اچانک کیا اقتصادی صورتِ حال بہتر ہو گئی کہ انہوں نے پٹرول اور بجلی کی مد میں قیمتیں کم کر کے ریلیف دیا۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے اپوزیشن کا حق ہے کہ  وہ یہ دعویٰ کرے،تاہم حکومت کے پاس دباؤ سے نکلنے کے لیے مختلف راستے اور حربے ہوتے ہیں، جنہیں استعمال کرنا اُس کا بھی حق ہے۔حکومت کے اتحادی مسلسل یہ دباؤ ڈال رہے تھے کہ حکومت عوام کو مہنگائی کے  عذاب سے بچانے کے اقدامات کرے،گویا حکومت پر ایک بڑا ریلیف پیکیج دینے کے لیے ہر طرف سے ایک دباؤ موجود تھا لیکن آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور معاشی حالات اُسے ایسا کرنے کی مہلت نہیں دے رہے تھے اب اچانک یہ ریلیف دینے کی صلاحیت حکومت میں کیسے پیدا ہو گئی،اقتصادی ماہرین اس پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں، کیا یہ ریلیف سیاسی ضرورت کے تحت دیا گیا ہے؟اس کے لیے وسائل کہاں سے فراہم ہوں گے؟ آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے کئے گئے معاہدے کا کیا بنے گا؟ کیا قومی خزانے میں اتنی سکت ہے کہ آئندہ بجٹ تک قیمتوں میں ٹھہراؤ کا یہ بوجھ برداشت کر سکے؟ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ یہ ریلیف پیکیج سوچ سمجھ کے دیا گیا ہے،اس کے لیے  وسائل کا بندوبست کیا جا چکا ہے اور آئی ایم ایف کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وزیراعظم کی طرف سے دیئے گئے اس پیکیج کے قومی اقتصادیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ البتہ اس پیکیج کی وجہ سے حکومت پر دباؤ کم ہوا ہے۔ اسی ریلیف پیکیج کے حوالے سے حکومتی ذرائع نے اپوزیشن کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ اُس کے دباؤ کی وجہ سے دیا گیا ہے،اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی ایڈوائزری کونسل اس پر پچھلے کئی ہفتوں سے کام کر رہی تھی،تاکہ وسائل کے اندررہتے ہوئے عوام کو ریلیف دیا جا سکے،جبکہ اپوزیشن بضد ہے کہ حکومت اب اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اور عوام کو دیا جانے والا یہ ریلیف بھی اُسی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں پیکا قانون پر بھی اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے کہا یہ قانون2016ء میں بنا تھا، ہم صرف اس میں ترمیم لائے ہیں۔ انہوں نے اپنے تئیں یہ اجاگر کیا کہ یہ قانون فی زمانہ کیوں ضروری ہے۔ انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر بہت زیادہ گند ہے،کسی کی عزت محفوظ نہیں،حتیٰ کہ ملک کے وزیراعظم کو بھی نہیں بخشا جاتا،یہ میڈیا کو دبانے کی کوشش نہیں، جس نے کرپشن نہیں کی اُس سربراہِ حکومت کو آزادیئ صحافت سے کوئی خطرہ نہیں، صحافت پر پابندی لگانے کی گمراہ کن باتیں ہو رہی ہیں،پیکا میں ہم نے وہ ترامیم کی ہیں جو اس قانون کو موثر بنا سکیں۔ایف آئی اے نے ہزاروں مقدمات درج کر رکھے ہیں،مگر اُن کا فیصلہ نہیں ہوتا،تین سال سے میرا مقدمہ بھی زیر التوا ہے۔پیکا قانون کو درست ثابت کرنے کے لیے وزیراعظم کے دلائل جو بھی ہوں،یہ حقیقت ہے کہ اسے ڈریکونین لاء کہا جا رہا ہے۔اس کے خلاف وکلاء، میڈیا،انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔تمام سیاسی جماعتوں نے بھی اسے مسترد کر دیا ہے اور اسے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا ہے۔حکومت نے چونکہ پیکا قانون میں ترامیم آرڈیننس کے ذریعے کی ہیں، اس لیے اسے یکطرفہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں یہ بھی اعلان کر دیتے کہ حکومت اس پر مشاورت کے لیے تیار ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی اسے منظوری کے لیے پارلیمینٹ میں پیش کیا جائے گا۔اس سے کم از کم اس پیکا آرڈیننس کے بارے میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی میں کمی آتی،لیکن وزیراعظم نے اس کے حق میں دلائل دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں،جسے خوش آئند قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -