بدتہذیبی، بد زبانی، اختیارات کا جارحانہ استعمال 

بدتہذیبی، بد زبانی، اختیارات کا جارحانہ استعمال 

  

کسی کام یا منصوبے کی کارکردگی، اگر خلوص نیت، محنت، دیانتداری اور بلالالچ و طمع سر انجام دی جائے تو اس کے نتائج عموماً مثبت اور سود مند حاصل ہوتے ہیں، اگرچہ وہ کسی حد تک بلند پایہ توقعات کے مطابق نہ بھی ہوں۔ پاکستان کی سیاست میں اگر غیر جمہوری نظام حکومت کے ادوار کو رائج یا مسلط کرنے کی کارروائیاں نہ کی جاتیں تو یہاں کے بیشتر غیر جانبدار ناقدین اور تجزیہ کاروں کی آراء میں ملک کی معاشی حالت اور سیاسی استحکام موجودہ سطح کے مقام و معیار کی نسبت اب تک کافی بہتر ہوتے۔ اور عوام کے مسائل اور مشکلات کی کیفیت بہت خراب، اذیت ناک اور پریشان کن نہ ہوتی، کیونکہ جمہوری نظام حکومت کے تحت اقتدار میں آنے والے حکمران، وزراء اور عوام کے نمائندے، آزادانہ اور منصفانہ طور پر کرائے گئے انتخابات کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی  عوام کی خواہشات، ضروریات اور ترجیحات پر توجہ دے کر مطلوبہ توانائیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ممکنہ حد تک تگ و دو کرنے میں با اختیار ہوتے ہیں۔

لیکن جب حکمران، وزراء اور نمائندے بغیر کسی منصفانہ انتخابی معرکہ آرائی کے مذکورہ بالا عہدوں پر فائز یا مسلط کر دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ ان کو اکثریتی  لوگوں کی مطلوبہ تائید و حمایت حاصل نہ ہونے سے ان کی اہلیت قابلیت اور مقبولیت پر مختلف تحفظات کا اظہار ضرور کیا جائے گا، جو  فطری جائز اور برحق رویہ لگتا ہے۔ ان نمائندوں کی کارکردگی اگر عوام کے مسائل اور مشکلات کو حل یا کم کرنے میں ضروری حد تک معاون اور مدد گار ہو تو پھر ان کی غیر جمہوری تقرری کو وقتی طور پرنظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی عوامی مفاد پر مبنی کارکردگی کے قابل ذکر نتائج کے حصول سے لوگوں کی تکالیف اور پریشانیوں کا ملکی وسائل کی دستیابی کے مطابق حتیٰ المقدور مداوا کر سکیں جبکہ حریف رہنماؤں کی کرداری کشی اختیارات کا جارحانہ استعمال ہے۔ وطنِ عزیز کے مختلف شعبوں کی کارکردگی میں مجوزہ ملکی اور بیرونی  قرضوں، عطیات اور امداد کے مادی وسائل کے استعمال سے اکثر لوگوں کو خاطر خواہ حد تک ریلیف اور سہولتیں فراہم  کرنے کے حالات میں متعلقہ وزراء اور نمائندوں کو نا اہل، نالائق اور غلط کار افراد کہنے اور قرار دینے میں بھلا کون سی معقول دلیل اور منطق آڑے آ سکتی ہے؟

موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر قیادت، حکومت کی لاپرواہی سے عوام کو بیشتر ضروریاتِ زندگی  روز بروز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، پٹرول، ادویات  کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور لوگوں کی اوسط آمدنی سے ان کی دستیابی اب تو بہت مشکل حد تک چلی گئی ہے۔ نیز مختلف سرکاری محکموں میں ماہانہ اربوں روپے کی کرپشن کے ارتکاب پر موثر انداز سے روک تھام میں ناکامی کی بنا پر حکومت کو اپنی کارکردگی کا فوری طور پر از سر نو جائزہ لینا ہوگا، تاکہ گندم، آٹا، چینی اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی بے تحاشا مہنگائی اور کم یابی کے ذمہ دار عناصر کی نشان دہی کرنے میں کوتاہی اور بد دیانتی میں ملوث با اختیار سرکاری وزراء، افسران اور نمائندوں کی اربوں روپے کی سمگلنگ اور بلیک مارکیٹنگ کی مجرمانہ کارکردگی کو بے نقاب کر کے متعلقہ قوانین کے تحت مجاز عدالتوں سے سزائیں دلائی جاسکیں یاد رہے ان سنگین جرائم کو رونما ہوئے ڈھائی یا تین سال کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی سے تا حال ان کی قانونی گرفت نہ ہونے سے عوام کی زندگی  شدید اذیت عذاب اور تکلیف دہ حالات سے دو چار ہو گئی ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -