قیمتوں میں کمی اور عمرا ن خان 

قیمتوں میں کمی اور عمرا ن خان 
قیمتوں میں کمی اور عمرا ن خان 

  

وزیراعظم عمران خان نے دورہ روس کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول،ڈیزل 10،بجلی 5 روپے سستی کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو نہایت خوش آئند بات ہے۔ کیوں کہ روز روز کی بڑھتی قیمتوں کے عوام کے کس بل نکال دیئے ہیں اب لوگ تبدیلی سے بھی اکتانا شروع ہو گئے ہیں ایسے میں حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی ایک اچھا اقدام ہے جسے سراہا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اور بھی بہت سے اعلانات کئے ہیں اور کاروباری حضرات کوچھوٹ دی ہے جیسے کہ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فارن ایکس چینج پر 100 فیصد چھوٹ دے رہے ہیں۔ جو بھی انڈسٹری لگائے گا اس سے آمدنی کا ذریعہ نہیں پوچھا جائے گا۔ نوجوانوں اور کسانوں کو بلاسود قرضے دیں گے۔ گھر بنانے کیلئے سستے قرضے دیئے جائیں گے۔ 407 ارب روپے کے قرضے دو سال میں دیں گے۔ قرض لینے کیلئے بنکوں میں آسانی پیدا کر دی ہے۔وزیراعظم کی تقریر کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگلے بجٹ تک بجلی،ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر ہر ماہ 70 ارب روپے سبسڈی دے گی اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے بھی لوگوں کو بچائیں گے۔ بی اے پاس نوجوانوں کو ماہانہ 30 ہزار روپے انٹرن شپ دلوائیں گے۔ یہ اقدامات اگر وزیراعظم پہلے کرتے تو آج عمران خان کی حکومت کو اتنی تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن دیر آید درست آید کے مصداق یہ بھی اچھا ہے کہ وزیراعظم نے عوام کو ریلیف پہنچانے کا اعلان کر کے ان کے چہروں پر خوشیاں بکھیر دیں وگرنہ اس سے قبل جب بھی عمران خان قوم سے خطاب کرتے تھے تو سب سے پہلے یہی کہتے تھے کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے جس پر ان کا مذاق بھی بنایا گیا۔ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں جو کمی کی گئی ہے یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے اس کو مزید کم کرنے کے اقدامات بھی کرنا چاہئیں کیونکہ غریب آدمی کے لئے جس کی تنخواہ چار سال سے نہیں بڑھی یا جس کا کاروبار نہیں ہے جو مزدوری کرتا ہے جس کے پاس ذاتی موٹر سائیکل ہے اس کیلئے ابھی بھی 150 کا پیٹرول خریدنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کچھ لوگ اس کمی کو اپوزیشن کی حالیہ سرگرمیوں سے جوڑ رہے ہیں جس میں انہوں نے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کر رکھا ہے اور بلاول بھٹو زرداری نے تو اسلام آباد کی جانب مارچ شروع بھی کر دیا ہے اور پیپلز پارٹی والے کہہ رہے ہیں ابھی تو مارچ اسلام آباد پہنچا ہی نہیں ہے کہ عمران خان نے گھبرا کر قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔ قارئین کو یاد ہو گا جب عمران خان اپوزیشن میں تھے اور اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھے تھے تو اس وقت کی نوازشریف حکومت نے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی اور انہیں بڑھنے نہ دیا تو اس میں بنیادی کردار عمران خان کی سخت اپوزیشن کا ہی تھا۔ اب عمران خان وزیراعظم بنے ہیں اپوزیشن کی حالیہ سرگرمیوں کے علاوہ جب بھی حکومت نے نئے ٹیکس لگائے یا تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو اپوزیشن کی جانب سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں اپنایا گیا صرف اخباری بیانات کی حد تک مذمت کر کے اپنے تئیں انہوں نے اپوزیشن کا کردار نبھانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے حکومت کو بھی روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اب جب اپوزیشن حکومت کو گرانے کیلئے حقیقی معنوں میں سرگرم ہوئی ہے تو حکومت کو بھی عوام کی یاد ستائی اور حکومت نے قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وزیراعظم عمران خان ہوں یا شہباز شریف وزیراعظم بنیں۔حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئے یا اپوزیشن اسمبلی میں ناکام ہو عوام کو غرض ہے اشیائے ضروریہ کی ارزاں نرخوں پر فراہمی سے کہ یہ چیزیں عوام کی دسترس میں رہیں تو وہ بھی حکومت سے خوش رہیں گے اور پھر اپوزیشن کی تحریک میں بھی اخلاقی جان نہیں رہے گی۔ اب اپوزیشن نے بھی حکومت کیخلاف معاشی ناکامی کی وجہ سے ہی تحریک لانے کا اعلان کیا ہے تو حکومت کو سوچنا چاہئے کہ عوام کو کن شعبوں میں مزید ریلیف دیا جا سکتا ہے تا کہ اپوزیشن کو اخلاقی طور پر ناکام بنایا جا سکے۔میرے خیال میں تیل اور بجلی کے ساتھ ساتھ حکومت کو اب چینی، آٹے اور خوردنی آئل کی جانب بھی توجہ مبذول کرنی چاہئے کہ ان چیزوں کی قیمتوں میں بھی سو فیصد نہیں عمران خان کی حکومت آنے کے بعد چار سو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ان چیزوں کی قیمتوں پر بھی حکومت کنٹرول کرے اور ان میں نمایاں کمی کرے تو یقینا اپوزیشن کی تحریک کے غبارے سے خود بخود ہوا نکل جائے گی۔ اب دیکھنا ہو گا کہ عمران خان اپنے وعدے کا کتنا پاس کرتے ہیں اور اگلے بجٹ تک قیمتوں میں مسلسل کمی کرتے ہیں یا کچھ دنوں بعد عالمی منڈی کی قیمتیں دکھا کر ہمیں پھر مہنگائی کی دلدل میں دھکیلتے  ہیں اب گیند عمران خان کی کورٹ میں ہے کہ اپوزیشن کو ناکام بنانا ہے یا کامیاب کرنا ہے تو وہ عوام کو مزید ریلیف دے کر اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -