عطاء الرحمن ایک تابندہ شخصیت 

عطاء الرحمن ایک تابندہ شخصیت 
عطاء الرحمن ایک تابندہ شخصیت 

  

نظریات کسی بھی شخص کا اثاثہ بلکہ اس کی متاع حیات ہوتے ہیں نظریات انسان کو تابندہ بلکہ زندہ رکھتے ہیں نظریات کی موت ہی در اصل انسانی موت ہوتی ہے اس لئے حیاتیاتی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے نظریات کی آبیاری لازم ہے محبتوں کے امین جناب مجید نظامی ایک نظریاتی شخصیت تھے اور زندگی بھر اپنے نظریات کی پاسداری کرتے رہے وہ نظریہ پاکستان کے بڑے علمبردار تھے نظامی صاحب سے میری عقیدتوں کا سلسلہ بہت دراز ہے جناب مجید نظامی نے میری ’جنت مکیں والدہ‘ کی رحلت پر اپنے ایک خط میں دلاسہ دیا نظامی صاحب قدر آور شخصیت تھے اور انسان دوست بھی۔جناب ڈاکٹر اجمل نیازی سے میرے تقریباً پچیس سال، رفاقت کے پختہ رشتوں کے گواہ ہیں اجمل نیازی صاحب بھی اپنی نظریاتی حیات میں ثابت قدم رہے حالات کی آندھیوں میں بھی انکے نظریاتی چراغ روشن رہے۔ یہ بات کسے بھولی ہوگی کہ پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ایسا کالم لکھا جس کی پاداش میں اس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے کالج کی ملازمت سے برخواست کرنے کا نوٹس بھیج دیا۔ اگلے ہی روز ڈاکٹر اجمل نیازی نے ”نوائے وقت“ میں اور بھی زیادہ سخت کالم لکھا اور کہا پاکستان میں اگر جرنیل وردی سمیت سیاست کرسکتے ہوں تو میں ایک پروفیسر اپنی سیاسی رائے کیوں نہیں دے سکتا نہ صرف یہ بلکہ ڈاکٹر اجمل نیازی نے لکھا میں گورنر کے نوٹس کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہوں۔ پھر کیا ہوا خالد مقبول صاحب ا جمل نیازی صاحب کے گھر گئے ان سے معذرت کی اور ان کی بات تسلیم کی اجمل نیازی کی اہلیہ باجی رفعت اور انکے بچے بھی نیازی صاحب والا ظرف رکھتے ہیں اور انہی نظریات کے مالک ہیں جو نیازی صاحب کا خاصہ تھا موقر روزنامہ ’پاکستان‘کے گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر جناب قدرت اللہ چوہدری کو ان کے نظریات نے باوقار رکھا یہ سب بڑے لوگ تھے اور بڑے لوگ ہر حوالے سے بڑے ہوتے ہیں جیسے روز نامہ ”نئی بات“ کے گروپ ایڈیٹرجناب عطاء الرحمن تھے عطاء الرحمن صاحب نوائے وقت اور مجیب الرحمن شامی صاحب کے اخبار ”پاکستان“ سے وابستہ رہے وہ بڑے جمہوریت پسند تھے میں نے روز نامہ ”نئی بات“ کو کچھ سال کالم لکھے ہیں ایک بار روزنامہ ”نئی بات“ میں مجھے کوئی کام ہوا تو میں نے روزنامہ نئی بات کے چئیر مین جناب چودھری عبد الرحمن سے گذارش کی بات وہی کہ بڑے لوگ بڑے ہوتے ہیں چودھری صاحب بھی بڑا ظرف رکھتے ہیں اور ایک نظریاتی شخصیت بھی ہیں انہوں نے  میری بات سنی مجھے پذیرائی بخشی ’جس پر میں انکا شکرگذار ہوں، اور مجھے عطاء الرحمن صاحب کانمبر سینڈ کر دیا اور فرمایا کہ عطاء الرحمن صاحب آپ کا مسئلہ حل کر دیں گے یوں عطاء الرحمن صاحب سے میرا رابطہ ہوا عطاء الرحمن صاحب کو کال تو میں نے کام کے سلسلہ میں کی، لیکن وہ کام تو رہا ایک طرف میں ان کے اخلاق کا گرویدہ ہو گیا وہ مجھ ایسے چھوٹے کالم نگار کو بھی بڑی عزتوں سے نوازتے بس پھر میں نے کبھی اپنے کام کے بارے انہیں فون نہ کیا بلکہ ان سے محبتوں اور عقیدتوں کا ایک نیا سلسلہ چل نکلا میں عید پر انہیں عید مبارک کے لئے فون کر لیتا کبھی انکے احوال دریافت کرنے کی غرض سے بات ہوتی تو وہ بڑی محبتوں کا اظہار کرتے اور میں عقیدتوں کے پھول نچھاور کرتا چلا جاتا ایک بار انہوں نے مجید نظامی صاحب اور جناب مجیب الرحمن شامی کی محبتوں کا اعتراف اپنے ایک کالم میں کیا عطاء الرحمن صاحب، جناب مجیب الرحمن شامی سے بڑا احترام اور محبت رکھتے انہوں نے مجیب الرحمن شامی صاحب کے گھر اپنے ایک کالم میں زیتون کے پراٹھوں کا ذکر بھی کیا تھا،جس سے وہ لطف اندوز ہوئے عطاء الرحمن صاحب ایک خلاق ذہن رسا طبیعت اور دھیمے لہجے کے مالک تھے، مگر مزاج میں شگفتگی بھی تھی انکے برجستہ جملے کسی تخلیق سے کم نہ ہوتے ایسے ہی لوگ معاشرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں،جو اپنے ملکوں کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں جن سے ملک کا وقار بڑھتا ہے عطاء الرحمن صاحب اس دور کے صحافی تھے جب صحافت کا دامن ابھی اتنا میلا نہیں ہوا تھا اور صحافی کا معیار بھی سلامت تھا نظریات اور نظریاتی لوگ تھے صحافی ایسی بے ڈھنگی چال نہیں چلے تھے لکھنے والوں کی قدر اور قدر دان تھے کالم ہاتھ سے لکھے جاتے اور بائی ہینڈ ہی اداروں تک پہنچائے جاتے مجھے بات یاد آگئی شائد کوئی بیس سال پہلے کا ذکر ہوگا روزنامہ ”دن“ ابھی لاہور سے شروع نہیں ہوا تھا اسلام آباد ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے ہاں کھانا تھا جب ہم ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے گھر سے نکلے تو انہوں نے اپنا کالم تھما دیا کہ جاتے ہوئے راستے میں دن آفس دیتے جائیے گا تب دن آفس ادھر سے ہی نکلتا تھا اس دور میں اخبارات میں شائع ہونے والے کالم جو تہلکہ مچاتے آج ٹی وی چینلز پر چلنے والے ٹاک شوز وہ اثر نہیں رکھتے، لیکن آج بھی صحافت کا بھرم ایسے ہی صحافیوں سے باقی ہے جو نظریاتی ہیں او ر جنہوں نے صحافت کو مشن سمجھ رکھا ہے پیشہ نہیں، عطاء الرحمن صاحب بھی ایسے ہی تھے وہ ایک تعمیری سوچ رکھتے انہوں نے صحافت میں پیسہ نہیں، بلکہ عزت کمائی وہ شہرت کے پیچھے نہیں بھاگے مولانا مودودیؒ کے عقیدت مند تھے، جس پر وہ فخر کا اظہار کرتے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں راستے دکھائے انہوں نے نہ صرف اپنے معاصرین، بلکہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا اور سچ لکھنے سچ کہنے سچ بولنے کا درس دیتے رہے عطاء الرحمن ملک عدم رخصت ہوئے ہیں۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

مزید :

رائے -کالم -