کیا رنگ و نسل کا امتیاز حقیقت ہے؟

 کیا رنگ و نسل کا امتیاز حقیقت ہے؟
 کیا رنگ و نسل کا امتیاز حقیقت ہے؟

  

اگر رنگ و نسل کی تقسیم کے موضوع پر غور کریں تو ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک روئے زمین پر دو قسم کی نسلیں اور چار قسم کی رنگت والے لوگ پائے جاتے رہے ہیں (اور آج بھی ہیں) نسلوں میں ایک تو آریائی نسل ہے اور دوسری سامی (Semetic) کہلاتی ہے۔ آریا کہاں سے آئے یا کس سرزمین سے پھوٹے تو اس سوال پر تاریخ خاموش ہے۔ بالعموم یہی سمجھا جاتا ہے کہ آریاؤں کا اصلی مسکن ایران تھا۔ وہاں سے یہ نسل مشرق اور شمال کی طرف بڑھی۔ مشرق میں برصغیر (جنوبی ایشیاء) سے ہوتی ہوئی مشرق بعید (یعنی تھائی لینڈ، ویت نام اور ملائیشیا وغیرہ) تک پھیل گئی اور شمال میں یورپ کی طرف نکل گئی……

دوسری نسل سامی (Semetic) تھی جو شام، فلسطین، عراق اور عرب دنیا تک چلی گئی۔ ان کی عادات و اطوار اور روحانی عقائد ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ آریائی اقوام میں ایک سے زیادہ آسمانی خداؤں کا تصور پایا جاتا ہے جبکہ سامی نسل میں صرف ایک خدا کا تصور ملتا ہے۔ آریائی نسل، مذہبی عقائد کے تناظر میں کبھی کسی دائمی نظریئے کی پیروکار نہیں رہی۔ ان کے عقائد و نظریات تبدیل ہوتے رہے…… زرتشت، مانی، مزدک، ایشور، بھگوان اور مہاتما بدھ وغیرہ کے مذہبی تصورات و عقائد ہمیشہ رُوبہ تغیر رہے جبکہ سامی نسل جو عقیدۂ توحید کی پیرو تھی وہ مُرورِ ایام سے آج تک ایک ہی عقیدے پر قائم رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل میں جتنے بھی پیغمبر پیدا ہوئے، ان کے مذہبی عقائد میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حضرتِ موسیٰ، حضرتِ عیسیٰ اور حضرتِ ابراہیم سے لے کر خدا کے آخر پیغمبر حضرتِ محمدﷺ تک جتنے بھی پیغمبر اس سامی نسل سے اٹھے ان کے دینی عقائد واحد اور اٹل رہے۔ اور یہی سبب ہے کہ تورات، زبور، انجیل اور قرآن کی تعلیمات میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ ہاں امتدادِ ایام سے اس نسل کی آبادیوں نے اپنے آسمانی صحیفوں میں معمولی رد و بدل اور تغیر و تبدل کر دیا۔ (ماسوائے قرآن کے)لیکن اس نسل نے خدائے واحد کے عقیدے اور تصور سے پھر بھی روگردانی نہ کی۔

جہاں تک رنگت کا سوال ہے تو دنیا میں سفید فام، سیاہ فام، خاکی فام اور زرد فام چار اقسام کی اقوام پائی جاتی ہیں۔ان اقوام کے خصائص و خصائل مختلف رہے۔ یہ اللہ کریم کی قدرتِ کاملہ ہے کہ وہ ان چاروں رنگوں کی حامل اقوام میں مختلف عادات و اطوار پیدا کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر سفید فام اقوام کی ذہنی اور جسمانی صفات، سیاہ فام اقوام کی ذہنی اور جسمانی صفات سے مختلف ہیں اور اسی طرح خاکی فام اور زرد فام اقوام کے طور طریقے، جسمانی اور ذہنی قوتیں اور احساسات و جذبات دوسری رنگتوں کی حامل (سفید فام اور سیاہ فام) اقوام سے مختلف ہیں۔

انسانی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو خاکی فام اقوام، سیاہ فام اقوام کے مقابلے میں ذہنی اعتبار سے چست و چالاک اور جسمانی اعتبار سے کمزور و نحیف نظر آئیں گی۔ سیاہ فام عوتیں اور سیاہ فام مرد جہاں کہیں بھی ہوں گے، جسمانی لحاظ سے زیادہ جفاکش اور تنومند ہوں گے لیکن دماغی اور ذہنی اعتبار سے خاکی فام اقوام کے مرد و زن کے مقابلے میں بہت پیچھے ہوں گے۔

رومی اور یونانی اقوام کو سفید فام اقوام میں شمار کیا جاتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یونان کے سکندراعظم اور روم کے جولیس سیزر نے جن مخالفین پر فتح پائی وہ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے ان سے کمتر تھے۔ جولیس سیزر نے مصری حکمرانوں پر اور سکندراعظم نے ایران کے دارا اور ہندوستان کے جس پورس پر تفوق حاصل کیا، وہ انسانی ارتقاء کی تاریخ کا ایک چشم کشا باب ہے۔ عرب اقوام خاکی فام بھی تھیں اور سفید فام بھی۔ ان دونوں اقوام کے اختلاط نے عربوں کو کئی صدیوں تک اس دورکی دوسری اقوام پر برتری دلائے رکھی۔

اور جہاں تک زرد فام اقوام کا تعلق ہے تو ان میں زمانہ ء قدیم کے چینی، دورِ متوسط کے منگول اور دورِ حاضر کے جاپانی، دوسری تمام اقوام پر غالب آئے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ ان زرد فام اقوام نے رحم دلی کی بجائے سنگدل، اخوت کی جگہ شقاوتِ قلبی اور وسیع المشربی کی جگہ تنگ نظری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنائے رکھا۔ چین کی تاریخ 2500 ق م سے شروع ہوتی ہے۔ گزشتہ چار، ساڑھے چار ہزار برسوں میں چینی افواج اپنے ہمسائے منگولوں سے برسرپیکار رہیں …… ان منگولوں کو تاتاری بھی کہا جاتا ہے…… انہی منگولوں نے 13ویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب و تمدن کو جس طرح برباد کیا، وہ تاریخِ انسانی کا ایک المناک باب ہے۔ اگر  دورِ حاضر میں زرد فام اقوام کی جفا پروری اور ستم گری کو دیکھنا ہو تو جاپانی قوم کو دیکھ لیں۔ 

دوسری عالمی جنگ میں جاپانیوں نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں ایسے ایسے ظلم ڈھائے کہ ان سے انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ منگولوں نے بھی ایسے مظالم کو اپنی مظلوم و محکوم اقوام پر نہیں آزمایا ہوگا جو جاپانی افواج نے چین سے لے کر انڈونشیا تک کی آبادیوں پر آزمائے۔ وہ تو برصغیر کی قسمت اچھی تھی کہ برطانوی اور امریکی افواج نے ان کو برما (موجودہ میانمر) میں روک لیا وگرنہ برصغیر (آج کے بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ) کے ممالک میں بسنے والی آبادیوں کا وہ حشر ہوتا جو چنگیز و ہلاکو کی ستم رانیوں کے سامنے بھی ماند پڑ جاتا۔ 1942ء سے لے کر 1945ء تک جاپانی افواج نے چین، ویت نام، کمبوڈیا، تھائی لینڈ(سیام) اور نیز بحرالکاہل کے تمام چھوٹے بڑے جزیروں پر آباد اقوام کے ساتھ جن انہونے جرائم کا ارتکاب کیا، وہ لرزہ خیز تھے۔ اگر اگست 1945ء میں امریکہ نے جاپانی شہروں پر ایٹم بم نہ گرائے ہوتے تو اتحادی افواج کو جاپان پر قبضہ کرنے سے پہلے اپنے ہزاروں لاکھوں فوجیوں کی قربانی دینی پڑتی۔ اگر ایک طرف یورپ میں ہٹلر نے یہودیوں پر عرصہ ء حیات تنگ کر رکھا تھا تو دوسری طرف ایشیاء میں جرمنی کے دوسرے حلیف جاپان نے مشرق بعید کے ممالک میں بسنے والے کروڑوں انسانوں پر ناقابل بیان اور غیر انسانی مظالم روا رکھے تھے…… اگر موقع ملے تو قارئین کو زرد فام جاپانی قوم کی یہ تاریخ ضرور پڑھنی چاہیے۔

ہم مسلمان رنگ و نسل کے امتیاز کو حد درجہ معیوب گردانتے ہیں۔ حضرت علامہ فرماتے ہیں:

جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں مٹ جائے گا

تُرکِ خرگاہی ہو یا اعرابیء والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقّدم ہو گئی

اُڑ گیا دنیا سے تو مانندِ خاک رہگذر

لیکن اگر کسی مسلم کا سامنا ایسی زرد فام قوم سے ہوجائے جو انسانی تہذیب کی ساری حدوں کو پار کر جائے تو پھر مسلمان کو اس کا مداوا تو کرنا پڑے گا۔ اور مداوا یہی ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان۔

حالیہ روس۔ یوکرین جنگ نے اگر طول کھینچا اور ناٹو ممالک میں سے کسی نے غلطی سے سرخ لکیر پار کر لی تو روس کے دو ایسے حلیف جو زرد فام ہیں وہ ناٹو کے تمام سفید فاموں کو چھٹی ساتویں کا دودھ یاد دلا سکتے ہیں …… میری مراد چین اور شمالی کوریا سے ہے۔ چین نے تو 24فروری ہی کو اعلان کر دیا تھا کہ امریکہ اور اس کے ناٹو کے حواری سخت غلطی کر رہے ہیں لیکن شمالی کوریا نے ابھی دو روز پہلے (27 فروری) پیانگ یانگ (شمالی کورین دارالحکومت) سے اعلان جاری کیا ہے کہ امریکہ، اپنی عسکری قوت کے بل بوتے پر روس کی سیکیورٹی کے خدشات کو نہیں سمجھ رہا۔ اس نے روس کا دفاع کرتے ہوئے امریکی رویئے کو تکبر آمیز اقدام قرار دیا ہے اور یوکرین کی پشت پر امریکی سپورٹ کی مذمت کی ہے……

یہ کہنا شاید ضروری نہ ہو کہ شمالی کوریا کے جوہری میزائل امریکہ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ماضیء قریب میں امریکہ اور شمالی کوریا کے مابین کشیدگی کی جو فضا پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی، اسے شمالی کوریا کے ان بیانات نے پھر سے تازہ کر دیا ہے…… دوسرے لفظوں میں روس اکیلا نہیں۔ اگر امریکہ کے ساتھ ناٹو ہے تو صدر پوٹن نے اپنے سٹرٹیجک اثاثوں کو جو ”ہائی الرٹ“ پر رکھا ہے تو ان اثاثوں میں صرف رشین اثاثے ہی نہیں، شمالی کورین اور چینی اثاثے بھی شامل ہیں۔ اگر بیلا روس میں ہونے والے روس۔ یوکرین مذاکرات کامیاب بھی ہو گئے تو پھر بھی روس، کیف سے پیچھے نہیں ہٹے گا…… امریکہ نے روس کے سٹرٹیجک اثاثوں والے اس اعلان کو ”گیدڑ بھبھکی“ قرار دے کر اپنے ذہنی افلاس کا ثبوت دیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -