حکومت آنیوالے دنوں میں عوام کیلئے مزید اقدامات اٹھائے گی: محمود خان 

      حکومت آنیوالے دنوں میں عوام کیلئے مزید اقدامات اٹھائے گی: محمود خان 

  

      پشاور(سٹی رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے موجودہ مہنگائی میں عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے وزیر اعظم عمرا ن خان کے اعلان کردہ پیکج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہائی مشکل صورت حال کے باوجود وزیراعظم نے عام آدمی کیلئے تاریخی ریلیف کا اعلان کرکے سب کے دل جیت لئے ہیں جس کیلئے وزیراعظم مبارکباد کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی ریلیف پیکج ہے جس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے گا۔اس طرح کے ریلیف پیکج کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسی ریلیف وہی لیڈر دے سکتا ہے جس کے دل میں عوام کا درد ہو اور وزیراعظم عمران خان وہ واحد لیڈر ہیں جو صحیح معنوں میں عوام کا سوچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت عوام کیلئے اس طرح کے مزید بھی ریلیف اقدمات اٹھائے گی جس سے مہنگائی کا واویلا کرنے والوں کے پراپیگنڈے ضائع ہو جائیں گے۔یہ بات بیرسٹر محمد علی سیف معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا نے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔صوبائی کابینہ کا66واں اجلاس منگل کے روزوزیراعلیٰ خیبر پختوا کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیواور انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔بیرسٹر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا بینہ نے ضم شدہ اضلاع میں جاری انقلابی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے سابقہ فاٹا کے باقی ماندہ پندرہ پراجیکٹس کے 630ملازمین کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی جبکہ اس سے پہلے سابقہ فاٹا کے ہزاروں ملازمین کو حکومت نے مستقل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے صوبے میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کے لیے ساز گار ماحول یقینی بنانے اور کمرشل اور کاروباری تنازعات کے فوری حل کے لیے کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے مسودہ قانون  "پختونخوا ریزالوشن آف کمرشل ڈسپیوٹس بل 2021 "  (Khyber Pakhtunkhwa Resolution of Commercial Disputes Bill 2021)کی منظوری دے دی ہے۔ واضح رہے کہ کمرشل تنازعات اور کورٹس پر دیگر کیسز کے دباؤ کے سبب تاخیر سے فیصلے ہونے کی وجہ سے کاروبار اور کمرشل سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے تھے جس کے لیے علیحدہ کورٹس اورساتھ ساتھ عدالتوں سے باہر باہمی افہام و تفہیم سے تنازعات کے حل کے لیے قانون سازی بہت ضروری تھی جس کی آج منظوری دی گئی۔ اِس اقدام سے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بڑی مدد ملے گی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے عوام کی سہولت کی خاطر ای اسٹامپ پیپر کے اجراء کی منظوری دے دی۔ اس اقدام سے نہ صرف عوام با آسانی اسٹامپ پیپر حاصل کرسکیں گے بلکہ اس میں شفافیت کے ساتھ ساتھ ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔ صوبائی اسمبلی سے مزکورہ ایکٹ پاس کرایا گیا تھا۔صوبائی کابینہ نے آج ایکٹ کے تحت خیبر پختونخوا ای اسٹامپ پیپر رولز 2021ء کی بھی منظوری دی۔ رولز کے تحت ای اسٹامپ پیپر کے اجراء فیس جمع کرنے کا طریقہ کا ر، ای اسٹامپ پیپر کی تصدیق، منسوخی، ای چالان کے لیے طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے لاء آفیسرز جس میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ شامل ہیں کیلئے مختلف الاوئنسز جس میں ہاؤس رینٹ، سپریم کورٹ کی فیس، ٹی ائے ڈی اے میڈیکل الاوئنسز، ٹیلیفون کی سہولت وغیرہ شامل ہیں، کی مراعات کو دیگر صوبوں کے برابر لانے کے لیے ان الاوئنسز میں اضافے کی منظوری دے دی۔بیرسٹر نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے خواتین کی جائز حقوق کے لیے خاتون محتسب کا تقررعمل میں لایا تھا۔ تاہم کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں الاونس نہیں ملے۔ جس کا کیس محکمہ قانون نے آج منظوری کے لیے پیش کیا۔ صوبائی کا بینہ نے خاتون محتسب کے لیےMP-IIسکیل کے برابر الاونسز کی فراہمی کی منظوری بھی دی۔ صوبائی کا بینہ نے ضم شدہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دینے کی منظوری دِی۔ ان اختیارات کی فراہمی سے ضم اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز پولیس کے بعض اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے تاکہ ضم اضلاع میں امن وامان یقینی بنایا جاسکے۔ صوبائی کابینہ نے سکھی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹس بجلی کی ترسیل کیلئے پولز اور ٹرانسمیشن لائنز جنگلاتی رقبہ سے گزارنے کے سلسلے میں این او سی جاری کرنے کی منظوری دیدی۔این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کی نتیجے میں جنگلات کو پہنچنے والی نقصانات کے ازالے کیلئے ہر قسم کے اخراجات برداشت کرے گی،مزید درخت لگائے گی اور درخت لگانے کیلئے متبادل زمین فراہم کرے گی۔صوبائی کابینہ نے پشاور یونیورسٹی اور عبدلولی خان یونیورسٹی مردان کیلئے بہترین مالیاتی نظم و ضبط اور اچھی کارکردگی پر پچاس پچاس ملین روپے گرانٹ کی بھی منظوری دیدی جبکہ صوبے کے دیگر یورسٹیوں کیلئے اسی طرح پرفارمنس گرانٹ اور درپیش مالی بحران کے حل کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔صوبائی کا بینہ نے محال تیرائی میں 10کینال اراضی محکمہ فشریز کو منتقل کرنے کی منظوری دِی۔ صوبائی کا بینہ نے پولیس پوسٹ مصری بانڈہ نوشہرہ کو باقاعدہ پولیس اسٹیشن کا درجہ دینے اور پولیس اسٹیشن کے لیے 12کینال اراضی کی فراہمی کی منظوری دِی۔ صوبائی کا بینہ نے خیبر پختونخوا اوورسیز پاکستانیز کمیشن بل 2022ء سے اتفاق کرتے ہوئے اسے مزیدبہتر بنانے کیلئے کابینہ کمیٹی کے حوالہ کرنے کی منظوری دیدی۔کمیٹی میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیر خوراک و آئی ٹی عاطف خان اور وزیر محنت شوکت علی یوسفزئی شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے وفاقی معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکستانیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات میں صوبائی سطح پر اوورسیز پاکستانیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کیلئے صوبائی سطح پر اقدامات اٹھانے کا کہا تھا۔صوبائی کا بینہ نے صوبائی ہائی ویز اتھارٹی کو صوبے بشمول ضم اضلاع میں ہائی ویز سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے لیے بجٹ 2021-22کی منظوری اور مختلف مدت میں 25921.052ملین روپے کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی۔ 

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے گیس کی کمی کے باعث سی این جی اسٹیشنز کی جزوی بندش کی وجہ سے سی این جی صارفین اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر صوبے میں سی این جی اسٹیشنز کو ہفتے میں مزید دو دن کھلے رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ اب صوبے میں سی این جی اسٹیشنز ہفتے میں تین کی بجائے پانچ دن کھلے رہیں گے۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اگلے 15 دنوں کے بعد سی این جی اسٹیشنزکوہفتہ بھر24 گھنٹے کھلا رکھنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔ یہ احکامات انہوں نے منگل کے روز سی این جی ایسو سی ایشن خیبرپختونخوا کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران جاری کئے جس نے ایسوسی ایشن کے صدر فضل مقیم خان کی سربراہی میں ان سے ملاقات کی اور سی این جی اسٹیشنز کی جزوی بندش کی وجہ سے صارفین اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے انہیں آگاہ کیا اور سی این جی اسٹیشنز کو ہفتے میں تین کی بجائے پانچ دن کھلا رکھنے کی استدعا کی۔ جسے منظور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی بیرسٹر محمد علی سیف، ممبران صوبائی اسمبلی ارباب جہانداد خان اور آصف خان کے علاوہ کمشنر پشاور ریاض محسود اور ایس این جی پی ایل کے متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی این جی اسٹیشنز کی بندش کی وجہ سے صارفین اور اس صنعت سے وابستہ لوگوں کو درپیش مشکلات کا بھر پور احساس ہے، سی این جی اسٹیشنز پر رش کی وجہ سے ٹریفک جام روزانہ کا معمول بن گیا ہے جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شعبے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھار ہی ہے، سی این جی اسٹیشنز کو کھولنے سے اس کاروبار سے بالواسطہ اور بلا واسطہ منسلک لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں کمی آئے گی اور وہ بغیر کسی تکلیف کے اپنی روزی روٹی کما سکیں گے۔ وفد نے ان کے مسائل سننے کے لئے وقت دینے اور مسائل کے حل کے لئے موقع پر ہی احکامات جاری کرنے پر وزیراعلیٰ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ 

مزید :

صفحہ اول -