کوئی ٍبھی ملک اپنے اثاثے دوسرے ملک کی کمپنی کو نہیں دیتا: چیف جسٹس قیصر رشید

    کوئی ٍبھی ملک اپنے اثاثے دوسرے ملک کی کمپنی کو نہیں دیتا: چیف جسٹس قیصر ...

  

    پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشیدخان نے کہاہے کہ کوئی بھی ملک اپنے اثاثے اس طرح دوسرے ملک کے کمپنی کو نہیں دیتاجس طرح ہمارے ملک میں کیا جارہاہے، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جب تک عدالت مداخلت نہیں کرتی، ہمارے ادارے سوئے ہوتے ہیں، کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ہی آپ کوبتا دیں کہ آپ کے محکموں میں کیا ہورہاہے؟ہزاروں ٹن میٹریل دریاؤں سے روزانہ کی بنیاد پر نکالا جارہا تھا مگر کوئی یہ پوچھنے والا نہیں تھا کہ کس نے اس کی اجازت دی، فا ضل چیف جسٹس نے یہ ریمارکس صوبے کے دریاؤں و جنگلات سے متعلق مختلف رٹ درخواستوں کے سماعت کے دوران دیئے، کیس کی سماعت شروع ہوئی تواس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سید سکندرحیات شاہ، بیرسٹر اسد لملک،کمشنر ملاکنڈ ظہیر الاسلام،کمشنر ہزارہ مطہر زیب، سیکرٹری معدنیات محمد ہمایون، ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان،اے ڈی سی ایبٹ آباد محمد شہاب جبکہ درخواست گزاروں کے وکلاء محمد اصغر کنڈی،ناصر نعیم،بیرسٹر وقار اور دیگربھی پیش ہوئے۔اس موقع پر متعلقہ کمشنرز نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ غیر قانونی لیز کو کینسل کر دیا گیا ہے اور دریاؤں سے غیر قانونی طورپر خام مال نکالنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف ایکشن لیا گیا ہے۔اس موقع پرعدالت نے استفسار کیا کہ معدنیات کا سیکرٹری کو اس کیس میں موجود ہونا چاہیے کیونکہ جو لیز دیئے گئے ہیں وہ معدنیات کے محکمے سے متعلق ہیں، مگر سیکرٹری موجود نہیں اسلئے اس کو طلب کیا جائے، کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سیکرٹری معدنیات عدالت کے رو برو پیش ہوئے جس پر فاضل چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپکے محکمے نے غیرضروری لیزیز دئیے ہیں جس میں زیادہ تر کو عدالت نے سکریپ کیاہے،آپ اپنے محکمے کو ٹھیک کریں،آپ سے پہلے افسران نے جو غلط کا م کئے ہیں ہم چاہتے ہیں اسکو اب نہ دہرایا جائے۔جسٹس شکیل احمد نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرشنگ پلانٹس کی وجہ سے آلودگی کا مسئلہ ہے کیونکہ اس سے گرد وغبار اڑتا ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں،اسلئے اس پر غور کریں کیونکہ اس سے مزید مسائل بڑھ جائینگے جبکہ اس دوران مختلف درخواست گزاروں کے وکلاء نے استدعا کی کہ اس حکم سے انکے منصوبے رک گئے ہیں، اسلئے اس پر نظرثانی کی جائے کیونکہ زیادہ تر لیزیز قانون کے تحت دیئے گئے ہیں۔عدالت نے قرار دیا کہ جو لیز ماحول کو خراب کرے گا ہم اسکی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتے،بعد ازاں عدالت نے متعلقہ کمشنر ز اوسیکرٹری معدنیات کو حکم دیا کہ آپس میں اس حوالے سے بیٹھ کر رپورٹ پیش کریں اور اس کا حل بھی بتا دیں،مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔

مزید :

صفحہ اول -