کراچی لٹریچر فیسٹول کا کورونا وبا میں کمی کے بعد لائیوانعقاد 

کراچی لٹریچر فیسٹول کا کورونا وبا میں کمی کے بعد لائیوانعقاد 

  

کراچی (پ ر)ادب، ثقافت اور فنون  سے محبت کرنے والے  افراد کو کراچی لیٹریچر فیسٹول (کے ایل ایف) میں اپنے پسند کی ادبی شخصیات، فنکاروں، ماہر تعلیم اور دانشوروں سے بالآخر ملنے کا موقع ملے گا کیونکہ کراچی لیٹریچر فیسٹول کے لائیو ایونٹ کا انعقاد 4 سے 6 مارچ تک بیچ لگژری ہوٹل میں ہوگا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس (او یی پی) کی طرف سے منعقدہ کردہ فیسٹول کا اس سال کا موضوع ” تقسیم، وابستگی اور اس سے آگے: پاکستان کے 75 سال“ہے۔ تین روزہ ایونٹ میں مختلف قسم کے فکر انگیز پینل مباحثوں اور کتابوں کی رونمائی کے ذریعے ڈائمنڈ سالگرہ   میں ملک کی کامیابیوں  کو اجاگر کیا جائے  جو اویو پی  کے سوشل میڈیا چینلز پر دنیا بھر میں براہ راست نشر کیے جائیں گے  اور 200 سے زیادہ قومی اور بین الاقوامی مقررین ایک جگہ اکھٹا ہوں گے۔افتتاحی تقریب سے وکٹوریا شوفیلڈ اور ضیاء محی الدین جبکہ سردار مسعود خان اور حنیف قریشی اختتامی تقریب سے کلیدی خطاب کریں گے۔  فیسٹول میں 60 سے زائد سیشنز ہوں گے  جن میں 20 کتابوں کی رونمائی (10 اردو میں اور 10 انگریزی میں) شامل ہیں۔ پانچ ممالک (پاکستان، برطانیہ، امریکہ، نیوزی لینڈ اور فرانس) کے مقررین بھی شریک ہوں گے۔  شرکاء  اور آن لائن سامعین کو اردو اور انگریزی شاعری،  قوالی، فیچر فلم کی نمائش اور مختصر فلموں کی سیریز ’ہیل دی ورلڈ“ سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا جو پہلی بار نشر  ہوگی۔  افتتاحی تقریب میں پاکستان کے مصنفوں کیلئے 7 ادبی ایوارڈز کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ انعامات اردو نثر اور شاعری، انگریزی فکشن میں سرکردہ کام کے اعتراف میں دیے جائیں گے جن کو Getz فارما نے سپانسر کیا ہے۔ رواں سال کے ایل ایف میں سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتوں زبانوں میں بہترین کتابوں کے انتخاب کے ذریعے ملک بھرمیں متنوع زبانوں اور ثقافتوں کا جشن بھی منا رہا ہے۔ یہ ایوارڈز لٹل بک کمپنی کی طرف سے دئے ائیں گے۔  کراچی پریس کلب میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے او یو پی کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید حسین نے بتایا کہ کیسے  یہ فیسٹول کھلے پن، تکثیریت اور فکری گفتگو کے ماحول کو فروغ دے گا جو وبائی امراض کی پابندیوں سے ایک تازگی بخش تبدیلی ثابت ہوگا۔ 

مزید :

صفحہ آخر -