شہرام ترکئی کی زیر صدارت پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کااجلاس 

شہرام ترکئی کی زیر صدارت پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کااجلاس 

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم شہرام خان ترکئی کی زیر صدارت پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے جائزہ اجلاس میں نجی اور سرکاری سکولوں میں ہلکا بستہ ایکٹ کے مطابق سکول بیگز کے لئے مقرر وزن پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے اجلاس میں اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ نجی تعلیمی اداروں کو 12 سال سے زائد عمر کے طلباء و طالبات کی ویکسینیشن مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی وہ سکولز جنہوں نے ان احکامات پر عمل نہیں کیا ان کے خلاف اتھارٹی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے۔  وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے اتھارٹی حکام کو ہدایت کی کہ نجی سکولوں کے منتخب تنظیموں اور سکول مالکان کی سیمینارز اور آگاہی مہم میں شرکت کو یقینی بنایا جائے۔  اجلاس میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کبیر خان آفریدی، ایڈیشنل سیکرٹری عبدالاکرام اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے اتھارٹی حکام کو ہدایت کی کہ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، امتحانی ہالوں اور طلبا و طالبات کی مکمل تفصیلات تیار کریں  انہوں نے کہا کہ جن سکولوں کے مسائل ہیں اور اتھارٹی ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے ان کو ہرگز امتحان ہال نہیں دئیے جائیں۔ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کبیر آفریدی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام نجی سکولز کو سنگل نیشنل کریکولم پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔  ہر طالب علم کو الگ آئی ڈی دی گئی ہے جب کہ نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، تجدید، اپ گریڈیشن اور دیگر تمام نظام مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔  جبکہ دفتری امور بھی مکمل طور پر پیپر لیس ہیں۔  انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بروقت کاروائی ہوئی ہے حال ہی میں 170 سکولوں کو بند کیا گیا جبکہ 96 سکولوں کو جرمانہ کیا گیا ہے۔  اسی طرح ویکسینیشن یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی بھی ترتیب دی گئی ہے جبکہ سکولوں کی رجسٹریشن مہم کے تحت  مختلف اضلاع کے ہزاروں نئے سکولوں کی رجسٹریشن بھی کرائی گئی ہے۔ شہرام خان ترکئی نے ایم ڈی کو ہدایت کی کہ اپنے کام میں مزید جدت اور تیزی لائے تاکہ اس کے براہ راست اثرات طلباء اور والدین کو پہنچ سکیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -