قومی اسمبلی، 20فیصد ممبران عدم اعتماد پیش کرسکتے ہیں،رفیق رجوانہ

   قومی اسمبلی، 20فیصد ممبران عدم اعتماد پیش کرسکتے ہیں،رفیق رجوانہ

  

 ملتان(نیوز رپورٹر)سابق گورنر پنجاب ومعروف قانون دان ملک رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل95کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے اور اسی پر ووٹنگ وغیرہ کرانے کا طریقہ کار درج ہے۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل95کی ذیلی شق(I)کے مطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد قومی اسمبلی کے ممبران کی کل تعداد کا کم ازکم20فیصد ممبران پیش کرسکتے ہیں ایسی قرارداد پیش ہونے کے کم ازکم کم تین دن کے بعد اور سات دن کے اندر ممبران قومی اسمبلی کا اسی پر رائے شماری کرانا ضروری ہے جبکہ سب آرٹیکل3کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اسی وقت پیش نہیں ہوسکتی جب قومی اسمبلی میں سالانہ بجٹ کے مطالبات زیر غور ہورہے ہوں، سب آرٹیکل(4)کے تحت قومی اسمبلی کے کل ممبران کی اکثریت اگر اس عدم اعتماد کی قرارداد کو منظور کرلے تو وزیراعظم اپنے عہدے سے فارغ ہوجائیں گے انھوں نے کہا کہ اگر حکومتی پارلیمانی پارٹی(تحریک انصاف)کے جو ممبران تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے تو وہ آئین کے  آرٹیکل63-Aمیں دئیے گئے وجوہات  کی بنا پر درج ذیل طریقہ سے نااہل ہوجائیں گے آرٹیکل63.Aاگر ممبر اپنی پارٹی سے استعفی دے دے یا کسی دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرے  اگر ممبر اپنی پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ دے تو ووٹ سے اجتناب کرے، جب وزیراعظم یا وزیراعلی کا انتخاب ہو  یا اعتماد کا یا عدم اعتماد کا ووٹ دینا ہو یا مالیاتی مل یا آئینی ترمیم کا بل ہو تو ایسی صورت میں پارٹی کا سربراہ اسے نااہل قرار دے کر اپنا فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی/پریذیڈنگ آفیسر اور چیف الیکشن کمشنر اور متعلقہ ممبر کو بھجوادے گا ایسے فیصلہ سے پہلے پارٹی سربراہ متعلقہ ممبر کو اظہار وجوہ کا نوٹس دے گا آئین کے آرٹیکل63-Aکی ذیلی شق(3)کے تحت سپیکر قومی اسمبلی 21یوم کے اندر یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر کو ارسال کرے گا اگر سپیکر ایسا نہ کرے تو تصور ہوگا کہ ریفرنس الیکشن کمیشن کے پاس بھجوادیا گیا ہے جس کے چیف الیکشن کمشنر یہ ریفرنس الیکشن کمیشن(جملہ ممبران)کے سامنے رکھیں گے اور اس ڈیکلریشن کی توثیق کریں گے تو دو ممبران نااہل تصور ہونگے اور وہ نشست خالی ہوجائیگی متاثرہ فریق سب آرٹیکل(5)کے تحت اپنی نااہلی کے خلاف30دن کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتا ہے جو90دن میں فیصلہ کرے گی۔

رفیق رجوانہ

مزید :

صفحہ آخر -