دریائے سندھ!کس نام سے پکاروں۔۔۔؟

دریائے سندھ!کس نام سے پکاروں۔۔۔؟
دریائے سندھ!کس نام سے پکاروں۔۔۔؟

  

(قسط نمبر 6)

دریائے سندھ ایک عجیب و غریب دریا ہے۔ اس کے بہت سے نام ہیں رگ وید میں اس کا نام سندھو ندی ہے۔ قدیم پارسیوں نے سندھو سے ہندو بنا دیا، جس کا مطلب تھا ”کالا“ کیوں کہ بھارت کے باسی پارس کے لو گوں کے مقا بلے میں شیام رنگ یعنی کالے تھے اس لیے ان کا دیس ظہیر الدین بابر کے عہد سے ”کالوں کی جگہ“ یعنی ہندوستان اور سناتن دھرم ’’ہندو مت“ کہلانے لگا اور فا رسی شاعر محبوب کے کالے تِل کے بدلے پرائی سلطنتیں بانٹنے لگے۔

بخال ِ ہندوش بخشم ثمر قند و بخا را را

(میں اس کے کا لے تِل کے بدلے ثمر قند و بخارا بخشتا ہوں)

"ہنزہ کے رات دن"۔۔۔قسط نمبر5 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

یونانیوں نے اسے انڈس اور انڈوسیتھیا کہا(کیوں کہ جنوبی سندھ کے لوگ آرین نہیں بل کہ سیتھین تھے) اور جین مت کے پیرو راجہ بھرت چکر ورتی کے بھارت کو انڈس کی نسبت سے انڈیا بنا دیا۔ ترکی والوں نے اس کا نام نیلاب رکھا اور پشتو والوں نے اسے اباسین کانام دیا یعنی دریائو ں کا باپ۔تبت والوں نے، جہاں دریائے سندھ کا منبع ہے، اسے سنگے زانگ بو (شیر دریا) کہا کیوں کہ وہاں اس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ دریا ایک دیو مالائی شیر کے مونھ سے نکلتا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی میں اپنا محمد بن عبداللہ اللواتی الطنجی بن بطوطہ، وہی مراکو کے بَربَر مسلمانوں کا سپوت جسے ہم آپ ابن ِ بطوطہ کے نام سے جانتے پہچانتے ہیں،ہندوستان میں شِو استھان یعنی آج کے سیہون آیا تھا۔ اس کے بقول تب اس دریا کو دریائے پنجاب کہتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس خطے میں اس دریا کا سب سے طویل سفر اور بھاری خراج پنجاب ہی سے منسلک تھا۔ اس کا ایک نام مہران بھی ہے، جو غالبا ً ایران سے آیا ہے۔ یہ قدیم ایرا نیوں کے دیوتا کا نام تھا۔ ہر موز گان میں اس نام کا ایک دریا بھی ہے۔سوس مار کھانے والوں (گوہ کھانے والے یعنی عربوں) کو ایران پر غلبہ دینے کی پاداش میں آسمان پر نفرین بھیجنے والے فردوسی کے ”شاہ نامہ“ کے ایک کردار کا نام بھی مہران ہے۔ فارسی میں مہران ”مہربانی“ کو بھی کہتے ہیں۔ اور عہد ِ قدیم میں جب تہذیبیں جنم ہی کسی نا کسی دریا کے کنارے لیتی تھیں تو دریا سے بڑا ”مہربان“ کون ہو سکتا تھا۔اس لیے اگر اس عظیم دریا کو مہران کہا گیا تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔ مظہر شاہ جہانی نے اپنی تاریخ میں اس کا نام  ہفت یا ہشت دریا بیان کیا ہے کیوں کہ پنجاب کے پانچ دریاؤں کے علاوہ دریائے کابل اور دریائے گومل وغیرہ بھی اسی کے ساتھ اِک مِک ہو جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ہندو اسے دریا صاحب کے محترم نام سے پکارتے آئے ہیں۔ ان کا اور سندھ کے دوسرے ہندوؤں کا عقیدہ تھا (یا شاید ہے؟) کہ دریائے سندھ کے مغرب میں، جہاں چندرما ڈُوبتاہے، موت نگر ہے جہاں ہر مرنے والے سندھی کی روح کو جانا ہوتا ہے۔ اس سفر میں سواری کے لیے اسے اس گائے کی ضرورت پڑتی تھی جو اس نے اپنی زندگی میں کسی برہمن کو دان کی تھی (غریب سے دان اور نذرانہ لے کر آخرت کی منزل آسان کرنے والاوہ برہمن ہمارے ہاں دوسری صورتوں اور مختلف ناموں سے پایا جاتا ہے)۔ میرا نہیں خیال کہ دنیا میں اتنے نام کسی اور دریا کے رکھے گئے ہو ں گے۔ کتنی تہذیبیں اس دریا کے کنا روں پر پھلی پھولیں اور اس نے تاریخ کے کتنے مو ڑ دیکھے۔ اس کے بہتے پانیوں نے ہندو مت، جین مت، بدھ مت،اسلام، سکھ مت، عیسائیت اور کتنے دیگر مذاہب، نظریے اور فلسفے بنتے مٹتے، پھیلتے اور سمٹتے دیکھے۔نام ور قانون دان اور دانش ور اعتزاز احسن کی تحقیق یہ ہے کہ پاکستان جس زمین کے ٹکڑے پر بنا یہ سارا علاقہ وادی سندھ میں آتا ہے اور ہمیشہ سے ہند سے الگ خِطہ رہا ہے، پاکستان ایک فطری خط ِ تقسیم ہے۔ ایک بہت ہی لمبی داستان۔ یہ دریا نہیں، اس خطے کی رواں دواں مذہبی، سیاسی اور سماجی تاریخ ہے۔ اس کے سا حلوں پر صدیاں اور زمانے فنا ہوکرریت کی صورت پڑے ہیں۔۔۔ اور اس وقت ہم بھی اس کے ساحل پر فناہونے سے ڈر رہے تھے۔(جاری ہے)

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -