الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا تفصیلی فیصلہ کب جاری کریگا ، سنی اتحاد کونسل کا مطالبہ مسترد ہوا تو ۔۔۔؟صالح ظافر نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا تفصیلی فیصلہ کب جاری کریگا ، سنی اتحاد کونسل ...
الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا تفصیلی فیصلہ کب جاری کریگا ، سنی اتحاد کونسل کا مطالبہ مسترد ہوا تو ۔۔۔؟صالح ظافر نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں کا تفصیلی فیصلہ  کب جاری کریگا ،  سنی اتحاد کونسل کا مطالبہ مسترد ہوا تو ۔۔۔؟ سینئر صحافی صالح ظافر نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آئندہ ہفتے اپنا تفصیلی فیصلہ جاری کردے گا جس میں سنی اتحاد کونسل کی طرف سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا سوال اٹھایا گیا ہے توقع ہے کہ آئندہ منگل 5 مارچ کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں کمیشن کے5 فاضل ارکان کا بنچ یہ فیصلہ صادر کرے گا۔ حد درجہ قابل اعتماد آئینی ماہرین نے بتایا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے پارلیمانی جماعت ہونے یا نہ ہونے اور اس کی طرف سے مخصوص نشستوں کے استحقاق کو تسلیم کرنے کی استدعا کابھی فیصلے سےتعین ہوجائے گا۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر آگاہ کیاتھاکہ اس نے عام انتخابات میں خو اتین کے لئے 5 فیصد امیدواروں کا کوٹہ مخصوص نہیں کیا تھا اسی طرح کونسل نے انتخابات کےنتیجے میں ممکنہ طور پر اپنے جیتے ارکان کی عددی حیثیت کی شرح سے خواتین اور اقلیتی ارکان کی نامزدگی کے لئے فہرست بھی پیش نہیں کی تھی۔ اس کا سبب یہ بتایا گیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے بطور جماعت انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا تھا۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ کے اس بیان کے بعد اس امر کا امکان ختم ہوگیا ہے کہ الیکشن کمیشن سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کا کوٹہ تفویض کرسکے۔ سنی اتحاد کونسل کے ایماءپر تحریک انصاف کے رہنما قومی اسمبلی میں مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں ایوان میں20 خو اتین اور3 اقلیتی ارکان کی نشستیں دی جائیں جو اس کے ارکان کی تعداد کے پیش نظر بطور جماعت اسے ملنا چاہیے۔ 

"جنگ " کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ کمیشن سنی اتحاد کونسل کے اس مطالبے کو مسترد کرے گا تو اس کی بطور پارلیمانی جماعت کی حیثیت بھی ختم ہوجائے گی اس طرح قومی اسمبلی ہی نہیں صوبائی اسمبلیوں میں بھی اسے نہ صرف کوئی مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی بلکہ اس کے ارکان کو بطور پارلیمانی گروپ/جماعت ملنے والی دیگر مراعات بھی ختم ہوجائیں گی ان کی حیثیت آزاد ارکان کی ہوجائے گی جنہیں اب کسی سیاسی یا پارلیمانی جماعت کا قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اختیار بھی ختم ہوجائے گا۔ سنی اتحاد کونسل کے رکن کہلوانے والا یہ گروپ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی قیادت حاصل کرنےکا دعویٰ بھی نہیں کرسکے گا اور اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا با اختیار عہدہ بھی نہیں مل سکے گا۔ ازروئے آئین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کو تفویض ہوتا ہے۔