راتوں رات انقلاب آیا اور ہم سب سیٹھوں کے بجائے سرکاری ملازمین بن گئے، وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما، ملک میں جمہوریت نے پر پرزے نکالے

راتوں رات انقلاب آیا اور ہم سب سیٹھوں کے بجائے سرکاری ملازمین بن گئے، وقت کا ...
راتوں رات انقلاب آیا اور ہم سب سیٹھوں کے بجائے سرکاری ملازمین بن گئے، وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما، ملک میں جمہوریت نے پر پرزے نکالے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:198
 1973ء کی آخری شب کو بھٹو صاحب نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے چپکے سے تمام بینکوں کو قومی ملکیت میں لینے کا اعلان کر دیا، ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ حکم کے مطابق سارے اکاؤنٹس فوری طور پر منجمد کر دیئے جانے تھے لیکن شدید برفباری کے باوجود، آدھی رات کو ہماری اعلیٰ انتظامیہ نے ہمیں گھروں سے بلوا کر بینک کھلوائے اور اپنے خاص کھاتے داروں کو پچھلی تاریخوں میں کچھ ”ضروری“ ادائیگیاں کروائیں اور بعض صورتوں میں کچھ ادائیگیاں پچھلی تاریخوں میں سمونے کے لیے پورے کے پورے رجسٹر نئے سرے سے ترتیب دیئے گئے۔
راتوں رات انقلاب آیا اور ہم سب سیٹھوں کے ملازم ہونے کے بجائے اب سرکاری ملازمین بن گئے تھے۔ ایک دم آزادی کا خوش کن احساس ذہن میں آیا ساتھ ہی سیٹھوں کا ساتھ چھوٹنے کا افسوس بھی ہوا۔ کیونکہ وہ لوگ جیسے بھی تھے ان کی نظر میں صحیح کام کرنے والوں کی بہت قدر و منزلت تھی۔ وہ اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر سالانہ ترقیاں دیا کرتے اور نقد انعام اور بونس کی شکل میں اپنے ملازمین کو نوازتے رہتے تھے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ وہ اپنے ایک خاص مسلک کے لوگوں کا بہت خیا ل رکھتے تھے لیکن ماحول کچھ ایسا بنا ہوا تھا کہ ہمیں اس بات کا اتنا زیادہ رنج یا احساس بھی نہیں ہوتا تھا اور اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر خاموش ہو جاتے۔ماتحت ملازمین کو اپنی نوکریاں پکی ہونے کا یقین ہوا تو انھوں نے بہت خوشیاں منائیں اور جشن برپا کیے۔ ایک بار پھر نظم و ضبط کا کہیں دور دور تک وجود نہیں رہا تھا۔
وقت کا پہیہ تیزی سے گھوما، ملک میں جمہوریت نے پر پرزے نکالے اور پیپلز پارٹی والے اپنی آئی پر آگئے ان کے سیاسی اور تنظیمی عہدیداروں نے ہر بات میں ٹانگ اڑانا شروع کر دیا، سرکاری آفیسروں کو ڈرا دھمکا کر اور دباؤ میں لا کر اپنے ناجائز کام نکلوانے شروع کر دیئے اور وہ لوگ یہ سب کچھ ایسے گھٹیا اور پھوہڑ پن سے کرتے تھے کہ دیکھ کر گھن آنے لگتی تھی۔یہاں تک کہ گھروں میں بجلی یا پانی کے میٹر کی تنصیب کے لئے بھی ان کی سفارش ضروری تھی۔
مجھے مری میں تیسرا برس شروع ہو گیا تھا اس دوران زندگی میں بہت اونچ نیچ آئی۔ نئی حکومت کے آجانے کے بعد سرکاری ملازمین کی دھاندلی اور بیوروکریسی کی بے بسی اور بے حسی کو بھی بہت قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ہمارے ایک نوجوان دوست وہاں ایک اہم سرکاری عہدے پر فائز تھے، ان کو کچھ طوائفوں کوگرفتارکرنے پر اس حد تک دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کے اعصاب چٹخ جاتے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ ہم ہر وقت اسے کہتے رہتے تھے کہ تمہارے سامنے مال روڈ پر فحاشی اور بے حیائی ہوتی ہے اور طوائفیں دندناتی پھرتی ہیں اور تم کچھ کرتے ہی نہیں ہو۔ وہ سن کر مسکرا دیتا۔ 
ہم سب دوستوں کے بے حد اصرار پر اس نے ایک دن دو طوائفیں گرفتار کروائیں اور کہنے لگا اب دیکھنا کہ انکے ہاتھ کتنے لمبے ہیں، پولیس کے ایک DSPکی پہلی کال تھی جو انھیں یہ کہہ کر بچانا چاہ رہا تھا کہ سر یہ غلط فہمی میں بے گناہ پکڑی گئی ہیں لہٰذا ان کو رہا کر دینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ پھر ذرا اور اوپر سے طاقتور لوگوں کے فون اور سفارشیں آنی شروع ہوئیں اور پھرآتی ہی چلی گئیں۔ یہ بھی آج ”مزاحمت اورحکم عدولی“ پر تلا بیٹھا تھا۔ وہ ہمیں دکھانا چاہ رہا تھا کہ جنہیں ہم معمولی طوائفیں سمجھتے ہیں ان کے قانون سے بھی زیادہ لمبے ہاتھ ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کی لمبائی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ان کی رہائی کے لیے آخری فون کال ایک بہت ہی بڑے گھر سے آئی تھی جس کو ”نا“ کہنے کا انجام سب کو معلوم تھا۔ اس نے بے بسی سے ہماری طرف دیکھ کر سر جھٹکا اور انسپکٹر کو ان کی رہائی کے احکامات دے کر خود اٹھ کر تھکے تھکے قدموں سے اپنے گھر چلا گیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد اس کے ذہنی تناؤ کی کیا کیفیت ہو گی۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -